آو اپنے گناہ دھولیں

ابھی دنیا کرونا کے ہلاکت آفریں نام سے کچھ ’کچھ آشنا ہوئی تھی کوئی کہ رہا تھا کہ وبائیں آسمان سے اتر کر آسمان دنیا پر آتی ہیں اور پھر زمین پر اتر کر بڑے پیمانے پر ہلاکت پھیلاتی ہیں کوئی کہہ رہا تھا کرونا کا وائرس ہمارے ایک پڑوسی ملک میں بنایا گیا ہے غرض یہ کسی کی سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا کہ دنیا میں ایسی بیماری بھی وارد ہو سکتی ہے جو لا دوا ہو ایسے میں مسی ساگا کی ایک نجی محفل میں علم جوتش پر کچھ عبور رکھنے والے ایک نوجوان سے اس کے گروپ کے کسی شخص نے سوال کیا تھا کہ یہ ظالم وبا دنیا سے کب تک چلی جائے گی اور پھر اس جوتش نے اپنے علم سے جواب دیا تھا کہ میرے حساب میں دو کا ہندسہ آ رہا ہے اور یہ دو کا ہندسہ دلیل کرتا ہے دو دن‘ دو ہفتہ ’دو مہینہ یا دو سال جوتشی نے کہا میرا علم اس سے آگے نہیں بتا سکتا ہے آس سے آ گے تم اپنے وجدان سے کام لو
محفل برخاست ہو نے کے ساتھ ہی اگلے چند دن میں لاک ڈاؤن شروع ہو گیا اور اب لاک ڈاؤن کو ڈیڑھ سال ہو چکا ہے اس عرصہ میں حکومتیں کہیں کی ہوں عجیب عجیب حالات دیکھنے میں آ رہے ہیں ہندوستان میں کرونا کے پھیلاو کا سبب بے چارے تبلیغی لوگ بنے تو پاکستان میں زیارتوں پر جانے والے شیعہ بنے ’لیکن بات اگر الیکشن کی ہو تو نا کراچی کے الیکشن پر کسی کو لاک ڈاؤن کی سختی یاد رہی نا ہی کسی اور سیاسی پارٹی کو
اور پھر الیکشن ریلیوں میں دنیا نے دیکھا ہزاروں لوگ پٹے پڑے تھے الیکشن کی ریلیوں کو ابھی اپنا کرونا رنگ دکھانا تھا کہ ایسے میں کنبھ کا مذہبی میلہ آ گیا اور میلہ کے انعقاد کا اعزاز جوتشیوں کے حصہ میں آ یا اس میلہ کا کچھ انفرادی خصوصیات کچھ اس طرح سے ہیں۔
اس میلے میں ہر سال لوگ اپنے گناہ دھونے کے لیے شریک ہوتے ہیں انڈیا میں ہندوؤں کے سالانہ کمبھ میلے میں شریک نو سرکردہ سادھوؤں سمیت ہزاروں کی تعداد میں ہندو عقیدت مند کورونا وائرس کی لپیٹ میں آ گئے ہیں اور 24 گھنٹوں میں اس وبا کے نئے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ اسی ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
دو ماہ تک جاری رہنے والے اس مذہبی اہمیت کے حامل کمبھ میلے میں منگل کے روز ملک بھر سے آئے 30 لاکھ کے قریب افراد نے شرکت کی۔ منگل اور بدھ کے دو دن اس میلے کے مقدس ترین دن تصور کیے جاتے ہیں۔ گنگا میں اشنان کرنا اس میلے کی مذہبی رسومات میں شامل ہے اور توقع ہے کہ بدھ کے روز بھی لاکھوں کی تعداد میں لوگ اس رسم میں حصہ لیں گے۔ انڈیا میں منگل کو 184372 افراد اس مرض میں مبتلا ہوئے جو ایک دن میں اس مرض کا شکار ہونے والوں کا ایک ریکارڈ ہے۔
انڈیا میں بہت سے لوگ کمبھ میلے کی اجازت دینے پر حکومت پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز سہ پہر تک نو لاکھ لوگوں نے گنگا میں اشنان کیا جو اس میلے کا متبرک ترین دن سمجھا جاتا ہے۔ انڈیا کی ریاست اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ترتھ سنگھ روت نے کہا کہ ’وہ وزیر صحت کی طرف سے دی گئی تمام ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کروا رہے ہیں۔‘ انھوں نے اے این آئی نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گنگا کے پانیوں میں رحمت ہے لہٰذا کورونا وائرس نہیں ہو گا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کروانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کے اس میلے میں شرکت کرنے کی وجہ سے انھیں شدید دشواریوں کا سامنا ہے۔ اس میلے کے شرکاء جب اپنا پاک پوتر اشنان کر کے باہر آئی تو چلتا پھرتا کرونا بم بن چکے تھے اور پھر تمام ہندوستان سے آئے ہوئے یاتری مجسم کرونا بم بن کر اپنے علاقوں کو لوٹ گئے
پھر بستیوں کی بستیاں ہلاکت خیزی کے دردناک مناظر پیش کرنے لگیں شمشان گھاٹوں میں مردے رکھنے کی جگہ نہیں رہی چتائیں جلانے کے لئے جگہ کم پڑ گئی آگ کے لئے لکڑیوں کا بحران آ گیا اور پوری دنیا نے اس کرونا بھونچال کے سبب انڈیا کے ساتھ بری اور فضائی راستے بند کر دیے
کمبھ میلے کی نگرانی کرنے والے ہیلتھ افسر ڈاکٹر ارجن سنگر کا کہنا ہے کہ نو سرکردہ سادھوؤں کو بھی کورونا وائرس لگ گیا ہے۔ حکومت پر اس میلے کی اجازت دینے کے فیصلے پر تنقید میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے نریندر گری جو 14 ہندو گروپوں کی ایک تنظیم کے صدر ہیں وہ بھی کورونا وائرس سے متاثر ہو گئے ہیں۔ انھیں ہردوار میں آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں داخل کر دیا گیا ہے۔
اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکلیش یادیو کو بھی کورونا وائرس کا مرض ہو گیا ہے۔ انھوں نے بھی اتوار کو ہردوار کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے کئی ہندو سادھوؤں سے ملاقات کی تھی۔ اتر پردیش کے موجودہ وزیر اعلیٰ یوگی ادتیا ناتھ بھی کورونا وائرس کے مریضوں میں شامل ہیں حالانکہ وہ ابھی تک اس میلے سے دور رہے ہیں۔ حکومت پر اس میلے کی اجازت دینے کے فیصلے پر تنقید میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ صحت کے حکام نے اس میلے کو منسوخ کرنے کا مشورہ دیا تھا لیکن نریندر مودی کی انتہا پسند حکومت نے یہ مشورہ یہ کہتے ہوئے ماننے سے انکار کر دیا کہ حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔
حکومت نے میلے سے قبل اعلان کیا تھا کہ صرف ان لوگوں کو میلے میں شریک ہونے کی اجازت دی جائے جن کے کورونا ٹیسٹ منفی ہوں گے اور سماجی فاصلوں پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔ لیکن میلے سے اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ حکومت ان ضابطوں کی پابندی کروانے میں ناکام رہی ہے اور بہت سے لوگ ماسک پہنے بغیر اس میلے میں شرکت کر رہے ہیں۔
انڈیا میں اس وبا کی نے قیامت برپا کر رکھی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک بھر میں کورونا وائرس کا شکار ہونے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے ہسپتالوں میں نئے مریضوں کو داخل کرنے کی گنجائش نہیں رہی ہے، جان بچانے والی ادویات اور آکسیجن کی بھی کمی ہو رہی ہے۔
انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹرا جو اس وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے وہاں منگل کی شام سے سخت پابندیاں لگا دی گئی ہیں۔ مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے کہا ہے کہ ہنگامی سہولیات صرف اگلے 15 دن تک چل سکتی ہیں۔ انھوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ’جنگ دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔‘ ریاست میں منگل کو 60 ہزار لوگ اس وبا کا شکار ہوئے
یاد رہے کہ انڈیا کی حکومت نے سکھ یاتریوں کے کرتار پور جانے پر پابندی لگا رکھی ہے اور مسلمانوں کی تبلیغی جماعت کو بھی کورونا وائرس پھیلانے کے الزامات پر مقدمات کا سامنا کرنا پڑا ہے انڈیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کو زندہ رکھنے کی جدوجہد جاری تو ہے لیکن میلہ اپنا کاری وار کر کے گزر گیا ہے۔ کورونا وائرس انڈیا میں متاثرین کی تعداد 20 لاکھ سے زیادہ، ہو چکی ہے
کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا اتنا بھیانک منظر ہوگا ’، انڈیا میں وبا سے اموات کے باعث دن رات جلتی چتاؤں کے مناظر کتنے ہولناک ہو سکتے ہیں۔ مرنے والوں کے اقربا سکتے میں ہیں مرنے والے ایک شخص کے ساتھ صرف اس کی بیوہ اپنا دو برس کا بچہ سنبھالے ہوئے تھی کرونا کے سبب تمام اقربا چتاء کی رسم پر بھی نہیں آئے تھے اللہ دنیا پر رحم کر دے

