افسر شاہی عوام کو جوابدہ

گزشتہ روز رمضان بازار کے انتظامی معاملات اور کارکردگی کی جانچ پڑتال کے حوالے سے سپیشل اسسٹنٹ وزیر اعلیٰ پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے سیالکوٹ رمضان بازار کا دورہ کیا۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بازار کی انتظامی حالت زار اور دستیاب سہولیات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ سونیا صدف کو تضحیک آمیز رویے کا نشانہ بناتے ہوئے اپنی ”حرکتوں“ پر غور کرنے کا مشورہ دیا۔

اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر سیالکوٹ سونیا صدف نے موقف اپنایا کہ وہ اپنے تئیں جس حد تک ممکن ہے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہیں اور سٹالز پر موجود سبزیوں اور پھلوں کے خراب ہونے کو شدید گرمی کا باعث قرار دیا۔ جبکہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے انتظامی حوالے سے سیالکوٹ کے رمضان بازار کو سب سے مفلوک الحال قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب کو رپورٹ جمع کروانے کا عندیہ دیا۔ اسی ضمن میں چیف سیکرٹری پنجاب جواد رفیق ملک نے انتظامی افسر کے ساتھ غیر مہذب سلوک اپنائے جانے پر مذمت کا اظہار کیا اور واقعے کے حوالے سے تمام حقائق سے وزیر اعلیٰ پنجاب تک پہنچا دیے۔

سوشل میڈیا یوزرز کے مطابق یہ بات روٹین کی کارروائی سے واقعے کی شکل تب اختیار کر گئی جب اسسٹنٹ کمشنر، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سے بحث پر اتر آئیں۔

یہ بات یہاں نہیں تھمی اور واقعہ تاحال ٹویٹر پر تاحال ٹاپ ٹرینڈنگ میں جا رہا ہے جس میں افسر شاہی عوام کو جوابدہ کا ہیش ٹیگ 40 ہزار سے زائد مرتبہ ٹویٹ ہوا جبکہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا ہیش ٹیگ 10 ہزار سے زائد مرتبہ ٹویٹ کیا گیا۔ ان ٹویٹس میں جہاں کچھ لوگوں نے اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف کو ایماندار، فرض شناس اور محنتی افسر قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ اپنائے جانے والے رویے پر مذمت کی وہیں پر سوشل میڈیا استعمال کرنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے سرکاری افسران کو عوام کا جوابدہ قرار دیا۔ اور اس واقعے کو بہترین موقعہ قرار دیا کہ افسر شاہی کو اس بات کا سنجیدگی سے احساس دلوایا جائے کہ وہ عوام کے ملازم ہیں اور سب سے پہلے انہیں اپنے رویے اور کارکردگی میں بہتری لانا ہوگی۔

معروف سرجن پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ ”محترمہ منسٹر صاحبہ اس سے بھی سخت بات، مناسب الفاظ اور لہجے میں زیادہ موثر طریقے سے کر سکتی تھیں۔ وہ خاتون ایک سرکاری ملازم تھیں اور یہ ملازمین کو فیڈ بیک دینے کا ایک نہایت غیر موثر اور جاہلانہ طریقہ تھا۔ اور اس سے ہمارے بچوں اور نوجوانوں کی غلط تربیت ہوگی۔“

افسر شاہی کو عوام کا جوابدہ قرار دینے کے پیچھے وجہ بہت عام اور واضح ہے کہ سرکاری افسران عوام کی خدمت کے لئے مامور ہیں۔ لیکن انہی ٹویٹس میں سوشل میڈیا یوزر نے کھل کر گلے شکوے کیے کہ پڑھے لکھے لوگوں کو ان سرکاری افسران تک رسائی مشکل نہیں بلکہ ممکن ہی نہیں ہوتی ہے۔ خاصی دشواری اور طویل انتظار کے بعد اگر ان سے ملنا ممکن ہو ہی جائے تو ان کے رویے اور کام کے طریقہ کار سے لوگ نا تو مطمئن ہیں اور نا ہی انہیں باآسانی کوئی ریلیف ملتا ہے ایسی صورتحال میں لاعلم لوگوں کا کیا پرسان حال ہوگا اس مسئلے کا حقیقی اندازہ انہی افسران کے دفاتر کا چکر لگا کر بخوبی کیا جاسکتا ہے۔

یہاں پر قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف کے حق میں چیف سیکرٹری پنجاب کا بیان اور سیالکوٹ کے نامور سیاستدان عثمان ڈار کا ٹویٹ سامنے آئے تو سوشل میڈیا یوزرز نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور لودھراں میں بیوروکریسی کی جانب سے سینئر ڈاکٹر کو سزا کے طور پر پورے شہر کا چکر لگوانے، بوریوالا کے اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے نجی سکول کے گارڈ کو تشدد کا نشانہ بنانے، کبیروالا ٹال پلازہ پر اسسٹنٹ کمشنر کبیروالا کے ہنگامے کی مثالیں دی اور متعدد ایسی تصاویر شیئر کی گئی جس میں بیوروکریسی کی خدمت پر معمور سٹاف چھتری کی مدد سے ان کو سایہ فراہم کر رہا ہے اور اس کے تقابل میں اروند کیجریوال (سی ایم دہلی) کی ویڈیو شیئر کی جس میں وہ بیوروکریسی سے سوالات کر رہے ہیں اور عالمی سیاسی رہنماؤں کو اپنی چھتری یا سامان ازخود سنبھالتے ہوئے ہماری بیوروکریسی کو احساس دلوانے کی کوشش کی گئی۔ اور ساتھ ہی یہ سوال اٹھایا کہ کیا ہمارے ملک کے عام شہری کو افسر شاہی کے دفاتر تک رسائی باآسانی ممکن ہے اور کیا ہمارے ملک کے سبھی باسیوں سے ایسا ہی رویہ اپنایا جاتا ہے جس کا مطالبہ آج بیوروکریسی اپنے سیاسی نمائندگان سے کر رہی ہے۔

تحریر کا اختتام اس بات پر کرنا چاہوں گا تضحیک آمیز رویہ اپنانے کی اجازت کسی کو بھی نہیں ہونی چاہیے ہے کسی بھی شخص کا احتساب کرنے یا تربیت کرنے کے مہذب طریقوں کو اپنانا ہی واحد حل ہے۔ جبکہ سوشل میڈیا کے ٹرینڈ سے زیادہ خطرناک ٹرینڈ یہ ہے کہ ہماری عوام ایسے واقعات کو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کا مداوا گردانتے ہوئے ایسے رویے کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس حوالے سے ہماری بیوروکریسی، سیاستدان اور عوامی خدمت کرنے والے سبھی نمائندگان اور ملازمین کو اپنے رویے میں بہتری لانے کی اشد ضرورت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words