سب اپنی زلف کے اسیرہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ہم سب اپنے آپ کو مخفی خزانہ سمجھتے ہیں جو عالم غیب سے عالم شہود کی جانب بھیجا گیا ہے۔ انسان کے خمیر میں اپنی زلف کی اسیری لکھ دی گئی ہے۔ کسی کو میرے دعوے کی سچائی پر کوئی شک ہے تو پھر اسے کچھ دیر دیوانہ وار مختلف لوگوں کی فیس بک فیڈ کا مشاہدہ کرنا چاہیے۔ یہ حقیقت سورج کی طرح عیاں ہو جائے گی کہ ہم سب بالعموم اپنے ہی عشق میں گرفتار ہیں۔ ہمیں آئینہ دیکھنا کھڑکی سے باہر دیکھنے سے زیادہ اچھا لگتا ہے۔

نرگسیت کا گھناؤنا مرض اس وقت شدت اختیار کر جاتا ہے جب ہمارے اختیارات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی لیے تو کہا جاتا ہے کہ طاقت کرپشن کا پیش خیمہ بنتی ہے اور طاقت میں جب اضافہ ہوتا ہے تو پھر شتر بے مہار بننا یقینی ہے۔ جب احتساب کرنے والے قدموں میں بیٹھے ہوں تو پھر احتساب کا خوف آبی بخارات کی مانند ہوا میں تحلیل ہو جایا کرتا ہے۔ پاکستان میں مقتدر حلقوں کا ایک صفحے پر آنا مقتدر حلقوں کے لیے باعث رحمت ہے۔ البتہ عوام کے لئے خیر کی خبر نہیں ہے کیونکہ مقتدر حلقے جب ایک صفحے پر آتے ہیں تو عوام کے ووٹ کی چوری کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔

نرگسیت کے مریض اپنے ہر تعلق کو اپنے مفادات و مقاصد کے حصول کا آلہ کار تصور کرتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے تمام انسانی رشتے ان کی خواہشات کی تسکین کے لیے رات دن ایک کردیں۔ جو بھی ان کی حکم عدولی کا مرتکب ہوتا ہے اسے وہ عبرت کا نشان بنا دیتے ہیں۔ نرگسیت کے مریض اپنی قدرو قیمت کا اندازہ دوسروں کی ان کے بارے میں رائے کی بنیاد پر لگاتے ہیں۔ جب لوگ ان کی تحسین کرتے ہیں تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتے ہیں اور جب لوگ ان پر تنقید کرتے ہیں تو وہ ٹوٹ جاتے ہیں اور ناقدین کی زبان بندی کے لیے ہر حد پار کر جاتے ہیں۔

نرگسیت لیڈر بننے کے لیے بہت زیادہ مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اسی لیے خود اعتمادی لیڈر بننے کی بنیادی شرط ہے۔ اپنی زلف کے اسیر خود اعتمادی کی معراج پر فائز ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے عقل کل ہونے کا یقین ہوتا ہے۔ وہ خود کو نجات یافتہ سمجھتے ہیں اور اپنے آپ کو قوم کے نجات دہندہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انہیں مکمل یقین ہوتا ہے کہ ان کی ڈاکٹر ین سے ملک و ملت کے تمام مسائل پلک جھپکتے ہی حل ہو جائیں گے۔ یقیناً یہ ان کی دانش کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ بوتل کے جن بوتل سے باہر آتے ہیں اور پھر آقا کا حکم ماننے کی بجائے اپنی من مانی کرنا شروع کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں پھر بوتل کے اندر بند کرنا پڑتا ہے۔

نرگسیت کے مریض تکبر، دوسروں کا احساس نہ کرنا، دوسروں کے نقطہ نظر کو سننے سے پہلے ہی مسترد کر دینا، دوسروں کی پگڑیاں اچھال اچھال کر اپنے لیے مسرت حاصل کرنے میں ماہر ہوتے ہیں۔ چونکہ وہ اپنے آپ کو منتخب اور برگزیدہ جانتے ہیں اسی لیے وہ کسی بندہ بشر کی انسانی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے ہیں اور سب کو پنے عاجلانہ اور متعصبانہ فیصلوں سے مٹی میں روند دیتے ہیں۔ عوام الناس کے لیے زندگی کو اک سزا بنا دیتے ہیں۔

اپنی ذات کا طواف کرنا انسان کی نفسیاتی ساخت ترکیب میں موجود ہے لیکن طواف کرتے ہوئے چلتے ہوئے اپنے بھائی بندوں کو گرا دینا اور زمین پر گرے ہوئے اپنے جیسے انسانوں کو کچل دینا قانونی و شرعی جرم ہے۔ کسی ایک انسان کی آزادی کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے غیر محسوس طریقے پر سلب کرلینا اس کے جسمانی قتل سے زیادہ سنگین ہے۔ نرگسیت کے مریض برین واشنگ کے تمام حربے استعمال میں لاکر لوگوں کو اپنا مطیع بناتے ہیں اور ان کے اندر سوال کرنے کی صلاحیت کو مفلوج کر دیتے ہیں۔

ان کے گردونواح میں صرف ان کے مرید اور پر ستار ہوتے ہیں۔ نرگسیت کے مریض لوگوں کے مذہبی جذبات کو بخوبی برانگیختہ کرتے ہیں تاکہ اپنی لیڈری کا لوہا منوا سکیں۔ انہیں جیتے جاگتے ٹھنڈے دماغ سے سوچنے والوں سے نفرت ہوتی ہے۔ سرجھکا کر سر دھننے والے انہیں پسند ہوتے ہیں۔ یاسمین حمید جب یہ شعر کہتی ہیں کہ

میں جب چاہوں زمین دل پہ فصل گل اتر آئے
مرے ماتھے پہ سورج ہے مرے ہاتھوں میں بادل ہیں

تو یہ شعر نرگسیت کا صحت مند تصور دیتا ہے اور خود اعتمادی کی غمازی کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاعر خود انحصاری پر ایمان رکھتا ہے اور اپنے باطنی موسم خود سے تخلیق کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ یاسمین حمید کا درج ذیل شعر بیمار قسم کی نرگسیت کی ترجمانی کر رہا ہے۔

بے طلب رہی ہوں میں مانگتی بھی کیا اس سے
میں تو خود اجالا تھی آفتاب کیا دیتا
”خود کو اجالا“ سمجھنا شاعرانہ تعلی بھی ہو سکتی ہے لیکن اس پر حدود فراموش نرگسیت کا گمان ہوتا ہے۔

نرگسیت کے مریض شفایاب نہیں ہوتے ہیں لیکن ان کے مرض کے سبب ان کے حلقہ احباب، ان کے ساتھ کام کرنے والے اور ان کے خاندان کے افراد جیتے جی قسطوں میں مرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ نرگس کے پھولوں کی خوشبو سونگھنے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ یہ کاغذی پھول ہوتے ہیں اور ان کی مصنوعی خوشبو سے دم گھٹ جاتا ہے۔

نرگس کے پھولوں کے ساتھ سے بہتر ہے کہ انسان تنہا رہنا سیکھ لے اور ان سے رشتہ قائم کرے جو آپ کی قدر افزائی کرتے ہیں اور آپ کا حوصلہ بڑھاتے ہیں۔ شاید اسی لیے کسی سیانے نے کہا تھا کہ جو تمھیں محبوب ہیں انہیں بے شک چھوڑ دو لیکن جنھوں نے تمھیں اپنا محبوب بنایا ہوا ہے، ان کی قدر کرو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *