آمریت دانشور سے خوفزدہ کیوں ہوتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند روز قبل احمد فراز صاحب کا ایک انٹرویو سنا۔ اس دور کے ہر آزاد خیال اور ترقی پسند ادیب اور شاعر کی طرح انہیں بھی اپنے دور کی ناہمواریوں اور حکمرانوں کی ”غلط بخشیوں“ پر نوحہ کناں پایا۔ کہنے لگے کہ آمریت کے ظہور سے چند روز قبل انہیں ”چیف صاحب“ سے ملاقات کے لیے لے جایا گیا۔ ملاقات کے دوران ”چیف صاحب“ کہنے لگے کہ ہمیں اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ عام آدمی ہمارے بارے کیا رائے رکھتا ہے، البتہ جب تنقید دانشور طبقے سے آئے تو یہ ہمارے لیے تکلیف کا باعث بنتی ہے، اور پھر ہمیں ضروری اقدامات بھی اٹھانے پڑتے ہیں۔

intellectualism vs totalitarianism

یعنی دانشوریت بمقابلہ آمریت۔ ایک ایسا اختلاف اور ایک ایسی لڑائی ہے جو کئی صدیوں سے چلتی آ رہی ہے۔ جب کوئی بھی معاشرہ آمرانہ خیالات کے زندان میں قید ہوجاتا ہے تو وہاں پنپنے والی سوچ مصنوعی پن کا شکار ہوجاتی ہے۔ وہاں کے اقتدار پر قابض یوں تو اقتدار سے چمٹے رہنے کا جواز نہیں رکھتے، البتہ حاکم وقت اور اس کے معاونین قوم کو دھوکے اور سوال کرنے کی جرات سے ناآشنا رکھ کر اپنے آپ کو مسلط بہ ریاست رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں۔

ایسی سوسائٹی کبھی بھی نئے خیالات اور ان کے اظہار کو عملی جامہ پہننے ہی نہیں دیتی، کیوں کہ حاکم کبھی بھی اپنی رعایا کو اپنے سکھائے ہوئے سبق کے علاوہ کچھ بھی سوچنے اور سمجھنے کی اجازت دینے کا تصور نہیں رکھتے۔ اسی وجہ سے یہاں علم و ادب کبھی فروغ نہیں پاتا۔ یہاں دانشوروں کی مجالس کبھی کھل کر سانس نہیں لے پاتیں۔ ایسے ماحول میں پھر جو بھی سر اٹھانے کی کوشش کرتا ہے اسے بزور بازو گردن جھکانے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ سو پھر کوئی پس دیوار زندان نوحہ گر ہوتا ہے کہ

جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلے

تاریخ اٹھا کر دیکھ لی جئے، تو آپ کو ایسے کئی ادوار اس کائنات ہست و بود پر وارد ہوتے دکھائی دیں گے جب سوچ پر قدغن لگائی گئی۔ ہٹلر کی حکومت آئی تو اس نے کتاب دشمنی کو فروغ دیا، اور جرمن ادب کے بیشتر حصے کو قصہ پارینہ بنا ڈالا۔ یہی کچھ موسولینی اٹلی میں کرتا ہے اور لوگوں پر اپنی آمریت کو مسلط کرتا ہے۔ یونان میں انقلاب کے نام پر تاریخ کو مسخ کرنے، اور تاریخ کو اپنے پسندیدہ پیرائے میں پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔

اسی وجہ سے آمریت اور تاریخ دانوں میں بھی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ لبرل مورخ یہ کہتا سنائی دے گا کہ تاریخ کو مسخ کر کے پیش کرنا کسی صورت جائز نہیں کیوں کہ تاریخ سے استفادہ تب ہی ممکن ہے جب اسے اس کی اصل حالت میں قاری تک پہنچایا جائے۔ البتہ آمریت پسند اس سوچ کو لیے پھریں گے کہ اگر تاریخ اصل حالت میں ہی پیش کردی گئی تو وہ اپنی حکمرانی کو جائز قرار کیسے دلوائیں گے۔ پھر وہ اس دلیل کے ساتھ، سامنے آئیں گے کہ چونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ تاریخ کبھی اس کی اصل حالت میں موجود رہ سکے، تو بہتری اسی میں ہے کہ قوم کو اپنے ہاتھ سے لکھی تاریخ پڑھائی جائے جو ان کے دماغوں میں یہ بات چسپاں کردے کہ ہاں! صحیح وہی ہے جو اس وقت حاکم کہہ رہا ہے۔ اور پھر آمریت پابندیوں کی بارش کر دیتی ہے۔ تاریخ کی کتابوں میں رد و بدل کرتی اور ہر پختہ خیال پر خام خیالی کا لیبل لگا کر اسے رعایا کہ سامنے قابل مذمت بنا دیتی ہے۔

یہاں ایک اور پہلو جو قابل ذکر ہے وہ یہ کہ جب کوئی ایسی طرز حکومت پر بات کرنے کی کوشش کرتا ہے یا ارباب دانش کی آزادی کے لیے آواز بلند کرتا ہے، تو آگے سے کمزور دماغ لکیر کے فقیر یہ سوالات کرتے سنائی دیتے ہیں کہ کیا ایک مصنف اپنے خیالات کا اظہار کسی ایسے پیرائے میں نہیں کر سکتا کہ وہ بات کہہ بھی دے اور حکمران کو محسوس بھی نہ ہو؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ آرٹ اور ادب ایک ایسی سوسائٹی میں ترقی پا سکے جہاں خیالات کا اختلاف موجود ہی نہ ہو، جہاں تخیلات میں بھی ربط (یونیفورمٹی) ہو؟

اصل میں ایسے سوالات کرنے والوں کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ادیب کو محض ایک ”اینٹرٹینر“ سمجھتے ہیں، یا اسے کسی کا ایجنٹ بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے۔ خیالات کی پختگی صرف اسی معاشرے میں عروج کو پہنچتی ہے جہاں اختلاف کرنے اور اس پر پرامن مباحث کی برداشت پائی جاتی ہو۔ دنیائے ادب میں وہ گلستان خزاں رسیدہ ہوجاتا ہے، جہاں فکر کو آزادانہ سانس لینا میسر نہ ہو۔ جہاں سب کی سوچ کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے کے تصور کو عام کیا جاتا ہو وہاں نئی سوچ نہیں پنپتی، بلکہ قلم سے نکلتے الفاظ دراصل ایلچی کے حکم نامے کے مطابق کا غذ پر نقش ہوا کرتے ہیں۔ جہاں عقل برائے فروخت ہو جائے وہاں علم و ادب کی دھجیاں اڑ جاتی ہیں، اور پھر وہاں بونے جنم لینے لگتے ہیں۔ وہاں انسانوں اور حیوانوں میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ دونوں ہی اپنے اپنے سرکس میں کسی کی چھڑی کے اشارہ پر جیتے اور مرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد علی حیدر بخاری کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *