سی پیک کے تحت زرعی اقدامات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملکی یا بین الاقوامی سطح پر کسی نئے منصوبے کی بات ہو رہی ہو تو زیادہ تر گفتگو کے موضوع کی تبدیلی یا گفتگو کا اختتام اس جملہ سے ہوتا ہے کہ اس میں آخر کار ہمیں کیا فائدہ؟ اس کو انسانی فطرت کہا جا سکتا ہے کہ ہم ہر اس چیز کو ہی زیادہ اہمیت دیتے ہیں جس کا ہمیں براہ راست فائدہ ہو۔ جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب کچھ نیا اور بہتر ہو تو اس کا فائدہ سب کو ہی ہوتا ہے جیسے کہ سی پیک ہم سب کے لئے بالواسطہ اور بلاواسطہ بہتری لا رہا ہے اور مستقبل میں بھی اس کے مثبت اثرات ہماری زندگیوں پر آئیں گئے۔

ہم جتنی زیادہ سی پیک کے بارے میں بات کریں اتنا ہی یہ واضح ہوتا ہے کہ سی پیک جو کہ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) کا فلیگ شپ پروگرام ہے اور پورے خطے کے لئے ایک بڑا گیم چینجر ہے۔ سی پیک کے تحت توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں کام جاری ہے لیکن ان کے ساتھ ساتھ زراعت کے شعبے میں بھی بہت کام ہونے جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے پاکستان اس فلیگ شپ پروگرام کے ثمرات سے پوری طرح فائدہ اٹھا سکے گا۔

جیسا کہ پاکستان ایک زراعت پر مبنی معیشت ہے اس لیے صنعتی شعبے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ یہ پاکستان کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری کو ڈھیر سارے خام مال مہیا کرتی ہے۔ لہذا زراعت پاکستان کی بقا اور نشوونما کے لئے ناگزیر ہے اور اب سی پیک کے تحت، چین کے تعاون سے ہمارے موجودہ زرعی نظام میں بہتری آئے گی۔

زراعت میں چین کو مکمل طور پر شامل کرنے کے لئے، جوائنٹ ورکنگ گروپ بھی بن چکا اور پہلی میٹنگ بھی ہو گئی ہے اور ایک ایکشن پلان تیار کیا گیا ہے اس منصوبے کو موثر طریقے سے نافذ کرنے سے نہ صرف زراعت بلکہ اس سے منسلک مختلف صنعتوں کے لئے لامحدود معاشی و اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔

ایکشن پلان کی پہلی اور اولین ترجیح یہ تھی کہ ٹڈیوں پر کنٹرول کیا جائے کیونکہ پنجاب اور سندھ کی زرخیز زمین ہر سال ٹڈیوں کی بھیڑ جمع ہونے کی وجہ سے کبھی بھی پوری طرح استعمال نہیں ہو سکی اور پیداوار کی کوالٹی اور مقدار دونوں پر بہت زیادہ منفی اثر پڑا۔ لیکن اس کے لئے حکومت پاکستان نے این ایل سی سی (نیشنل لوکسٹ کنٹرول سنٹر) تشکیل دیا اور کنٹرول کرنے میں کامیاب رہے۔

پاکستان اور چین کے ماہرین کے مابین علم اور صنعت کی تکنیک کا مکمل تبادلہ بھی ایکشن پلان کا ایک اہم حصہ ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ہم آہنگی پیدا کی جائے اور ایک دوسرے کے زرعی آب و ہوا اور حالات کا مطالعہ کرنے کے بعد زیادہ تکنیکی معلومات حاصل کرنا ہے جس سے بیجوں کی تصدیق، نگرانی اور مصنوعات کے معیار کو بہتر کرنے میں آسانی ہو گی۔

پاکستان میں گائے اور بڑے جانوروں میں منہ کھر کی بیماری (ایف ایم ڈی) ایک بڑا مسئلہ ہے اور اب ایف ایم ڈی فری زون کے لئے ایک مستقل کوشش جاری ہے جس کے لئے چولستان کا علاقہ زیرغور ہے وہاں گورنمنٹ کا ایک فارم پہلے سے موجود ہے لیکن اب جدید زون بنایا جائے گا جس سے پاکستان کو گائے کا گوشت برآمد کرنے میں مدد ملے گی کیونکہ جب ایف ایم ڈی پر کنٹرول ہو جائے گا تو یہ بین الاقوامی معیار پر پورا اترے گا۔

اس ایکشن پلان کے مطابق کراچی میں پلانٹ پسٹ اینڈ ڈسیز کنٹرول ریسرچ سینٹر بنایا جائے گا اور پورے ملک میں اس کے سیٹلائٹ اسٹیشن بھی بنے گئے جس سے فصل خاص طور پر سبزیوں، پھلوں اور کپاس کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے لئے بیماریوں پر قابو پایا جائے گا اس کے ساتھ ساتھ مرکزی ڈیٹا بیس بھی بنایا جا رہا ہے۔

پروڈکٹ پروسیسنگ جو اس ایکشن پلان کا لازمی حصہ ہے اس کے تحت اضافی سہولیات متعارف کروائی جائیں گیں جیسے اجناس کو دھونے، گریڈنگ اور تاریخوں کے لحاظ چھانٹ وغیرہ اسی طرح پانی کی کمی کے بارے ٹیکنالوجیز کو بھی متعارف کرایا جا رہا ہے۔ ویلیو ایڈنگ کی یہ تمام تکنیک زرعی یونٹ کی مجموعی صلاحیت میں اضافہ لائیں گئیں اس لئے کارپوریٹ فارمنگ پر کام کیا جا رہا ہے۔

آبپاشی کے نظام کی کارکردگی کو جانچنے کے لئے ماڈل فارم بنائے جائیں گے اور یہاں استعمال کی جانے والی تکنیک کو پاکستان کے مختلف علاقوں میں منتقل کیا جائے گا ان ماڈل فارموں کے ایک بڑے حصے میں ڈرپ آبپاشی کے نظام شامل ہوں گے کیونکہ یہ صحراؤں میں خاص طور پر مفید ہے۔

آبی زراعت کو اہمیت دی جا رہی ہے جس کے تحت مچھلی کی نرسریوں کو نئی تکنیک پر بنایا جائے گا جدید فارمنگ کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے مثال کے طور پر مچھلی کو پنجرے میں رکھنے کا عمل (فش کیج فارمنگ) پوری دنیا میں کیا جاتا ہے۔ اور ہر کسان اپنے اپنے انفرادی مچھلیوں کا فارم بنا سکتا ہے۔ یہ عمل اس لیے بھی زیادہ پرکشش ہے کیونکہ مچھلیوں کو ایک چھوٹے سے علاقے میں بھی تیار جا سکتا ہے۔ اور مچھلی ایک چھوٹے علاقے میں ہونے کی وجہ سے مسائل کو جلد پہچانا اور حل کیا جاسکتا ہے۔ اب پاکستان میں بھی اس بارے میں باقاعدہ کام ہونے جا رہا ہے۔ جس سے فش فارمنگ انڈسٹری پاکستان کے زرعی صنعت کا ایک اہم جز بننے جا رہی ہے۔

ملکی سطح پر کسانوں اور اس سے متعلقہ اہلکاروں کی صلاحیت سازی کے اضافہ کے لئے آگاہی پروگراموں کا اہتمام کرنا بھی ایکشن پلان کا اہم جز ہے۔

پاکستان زراعت کی صنعت کو ہموار کرنے اور چین کی ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کے لئے تیار ہے جو پاکستان کے لیے بہت مفید ثابت ہوگا۔ مثال کے طور پر چین کی آبادی تقریباً 1.4 بلین ہے اور گزشتہ تین دہائیوں سے لوگوں کی آمدنی میں غیر معمولی اضافہ، کھپت اور شہری آبادی میں اضافہ ہو نے کی وجہ سے کھانے کی طلب میں اضافہ ہوا ہے اور ایک اندازے کے مطابق ہر سال 1 ٹریلین ڈالر مالیت کا کھانا استعمال ہوتا ہے اور اگلے 10 سالوں میں اس میں مزید 500 بلین ڈالر کا اضافہ متوقع ہے۔

اعلی تنوع، معیار اور درآمد شدہ کھانے کی مانگ کے ساتھ 2009 کے بعد سے چین کی خوراک کی درآمدات سالانہ اوسطاً تقریباً 15 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہیں اور 2012 میں چین امریکہ سے آگے نکل کر دنیا کا سب سے بڑا زرعی مصنوعات درآمد کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ چین میں پچھلے 15 سال میں پیکیجڈ فوڈ کی فروخت میں بھی تقریباً چار گنا اضافہ ہوا ہے اس لئے چین درآمدی کھانے کی مصنوعات کی ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے اور چین زراعت اور خوراک میں بھی مختلف قسم کی مصنوعات درآمد کرتا ہے۔

پاکستان چین کو اپنی زرعی مصنوعات برآمد کرتا ہے تاہم چین کی کل درآمدات میں پاکستان کی برآمدات بہت معمولی ہیں لیکن اب سی پیک کے تحت جس طرح سے ایکشن پلان ترتیب دیا گیا ہے اس سے غیر معمولی حد تک فوائد حاصل ہوں گے۔

Latest posts by عابد خان، اسلام آباد (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عابد خان، اسلام آباد کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *