آگے کیا ہے؟

عاصمہ شیرازی - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چُپ چاپ معاشرے کی گونگی آوازوں اور غوں غاں کا بے ہنگم شور بڑھ رہا ہے۔ بغیر اظہار آوازیں اور بے ربط لفظ محض اظہار کا زیاں۔۔۔ اور پھر احساس سے عاری دل اور فکر سے عاری سوچ۔ سیاست ہو یا معیشت، صحافت ہو یا معاشرت عجب افراتفری ہے۔

’ہو گا کیا‘ کا سوال پوچھتے بے منزل بھاگتے لوگ کس فکر میں ہیں۔ روٹی، کپڑا اور مکان کے غم میں الجھے بس دوڑے چلے جانے والے لوگ اس احساس سے بھی عاری کہ پیچھے کیا چھوڑ آئے ہیں۔

ملکی سیاست اور معیشت پر چھائے گہرے سائے کس کو نظر آ رہے ہیں؟ طاقت کے مراکز اس بات سے بے بہرہ کہ آنے والے دنوں میں معاشی حالات کس نہج پر ہوں گے، حکمران اس بات سے بے خبر کہ آئندہ چند ماہ میں کتنے بیروزگاروں میں اضافہ ہو گا۔ اعداد و شمار سے کھیلنے والے بے پرواہ کہ آئی ایم ایف کے کتنے مطالبات پورے کرنے کی سکت ہے اور کتنے کی نہیں؟

دُنیا آپ پر دروازے بند کرنے کی کوششوں میں، بڑی طاقتیں خطے کے اثر رسوخ میں نئے مطالبات میز پر لانے کی تیاریوں میں۔ افغانستان ایک نئی آزمائش گاہ بن رہا ہے مگر ملک میں فیصلے کہاں اور کیسے اور کس شرط پر۔۔۔ کسی کو معلوم نہیں۔

حکمران جماعت جس طرح تیزی سے غیر مقبول ہو رہی ہے اس کا اشارہ حالیہ ضمنی انتخابات سے ملتا ہے۔ عوام مایوس اور نظام کو ناکام بنانے کی مسلسل کوشش مزید نااُمیدی اور اجتماعی ناکامی کا سبب بن رہی ہے۔

اپوزیشن جماعتیں خاص کر کے شیڈو حکومت یعنی ن لیگ ایک عجیب کنفیوژن کا شکار ہے۔ ناکامی کا سہرا کس کے سر ہے اور احساسِ ناکامی کس کو۔۔۔ یہ بحث لا حاصل ہو چکی۔ اب آگے کیا؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب اس وقت نہ سیاسی اشرافیہ کے پاس ہے نہ ہی مقتدر طاقتوں کے پاس۔

ن لیگ کے تضادات کو ہی لے لیجیے۔۔۔ جماعت کے صدر شہباز شریف نے حال ہی میں دنیا اخبار کے سلمان غنی کو ایک انٹرویو میں مفاہمت پر ایک مرتبہ پھر زور دیا ہے جبکہ دوسری جانب اُن کی جماعت میں حکومت سے کسی طور بات نہ کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔

ایک طرف اسٹیبلشمنٹ کے عمل دخل کو ختم کرنے کی باتیں اور دوسری طرف آئینی طریقوں سے احتراز ن لیگ کی نظریاتی سیاست پر ذاتی چھاپ کو واضح کر رہا ہے۔ اسٹبلشمنٹ سے لڑائی بھی اور این اے 249 کے بیلٹ پیپرز کی فوج کی نگرانی میں کھلوائی بھی۔۔۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

ن لیگ حکومت کا خاتمہ بھی چاہتی ہے مگر بظاہر حکومت گرانے کی کوئی تحریک بھی نہیں۔ استعفے دینا بھی چاہتی ہے اور دینے سے انکاری بھی۔ انتخابی عمل سے نالاں بھی اور ضمنی انتخاب میں پیش پیش بھی۔

پارلیمانی سیاست کے اندر بھی اور پارلیمان میں فعال سیاست سے باہر بھی۔ اوپر سے حالیہ دنوں میں دھونس اور دھمکی کا لہجہ ن لیگ کو سیاسی تنہائی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ ایسے میں ن لیگ کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ آخر چاہتی کیا ہے۔

این اے 249 کے ضمنی انتخاب نے ن لیگ میں چھپی کئی ایک خامیوں کو ظاہر کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن کی کوتاہیوں کا الزام جس طرح اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی پر لگایا گیا ہے اس سے شہباز شریف کی مفاہمانہ کوششوں پر بھی پانی پھر گیا ہے۔

الزامات کی نوعیت ایسی کہ معلوم ہوتا ہے آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ ن جیت کے علاوہ کچھ تسلیم نہیں کرے گی۔ امید کی جا سکتی ہے کہ ن لیگ پیپلز پارٹی پر دھاندلی کے ثبوت سامنے لائے گی۔

ایسے میں شہباز شریف کی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں۔ شہباز شریف پیپلز پارٹی کے ساتھ تعلقات پارلیمان کے اندر اور باہر بہتر کرنے کے حق میں ہیں لیکن ن لیگ کے اندر دوسرا گروپ کسی طور ایسا نہیں چاہتا۔

استعفوں کا معاملہ ہو یا مزاحمتی تحریک کا، پارلیمان کی سیاست ہو یا پی ڈی ایم کی۔۔۔ ن لیگ ایک واضح تضاد کا شکار ہے اور ملکی سیاست مزید تقسیم ہو رہی ہے۔

قومی جماعتیں بشمول پیپلز پارٹی اور ن لیگ آئین کی سربلندی، سویلین بالادستی، انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے تحفظ کے لیے جس ایجنڈے پر جمع ہوئیں وہ ایجنڈا چھوٹے چھوٹے فروعی اختلافات میں کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔

بدقسمتی سے قومی میڈیا سیاسی دھڑوں میں تقسیم ہو کر جس زبوں حالی کا شکار ہوا ہے اُس کی مثال بھی نہیں ملتی۔ ایسے میں کون ہو گا جو قومی مقاصد کے لیے ایک قدم آگے بڑھے۔ شہباز شریف کی قومی مفاہمت کا خواب پورا ہو سکتا ہے اگر ان کی جماعت ان پر اعتماد کرے اور اندرونی دھڑے بندی ختم ہو۔

ملکی حالات کا تقاضا ہے کہ قومی قیادت یا کم از کم حزب اختلاف عوام کی اُمید بنے ورنہ آگے صرف اندھیرا ہے۔ دور دور تک روشنی کا کوئی نشان نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •