جمہوریت بمقابلہ فسطائیت

جمہوریت کی کتابی تعریف عوام کی حکومت، عوام کے لیے اور عوام کے ذریعے ہے۔

جمہور کی رائے اور جمہور کی حکمرانی اصل روح تصور ہوتی ہے۔ فاشزم یا فسطائیت لفظ facio سے نکلا ہے جس کا مطلب قدیم اطالوی زبان میں ڈنڈوں کا مجموعہ ہے جن سے عوام پر قابو پا یا جاتا تھا۔

Read more

نہ چلنے والی فلمیں

جب کسی فلم کو مشہور کرانا ہو تو اُس پر پابندی لگا دیں یا اُس کو سینسر بورڈ میں ہی روک لیں۔ کھڑکی توڑ ہجوم کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ فلم یا کسی کمپنی کی مشہوری کے لئے اسے متنازعہ بنا دیا جائے تو یقین مانیں کہ کبھی نہ چلنے والی کمپنیاں بھی دوڑنے…

Read more

پاس کر یا برداشت کر!

چند برس پہلے پی ٹی آئی کا مشہور و معروف نغمہ 'تبدیلی آئی رے' ریلیز ہوتے ہی مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ گیا۔ اس گانے کے بول شروع ہوتے ہیں 'پارلیمنٹرینز، درباری اینڈ جیالاز ۔۔۔۔نیکسٹ اسٹاپ اڈیالہ'۔ کسی کو یقین نہ تھا کہ سال 2017 میں تخلیق کیے گئے گانے کے بول حرف بہ حرف…

Read more

حکومت کو اصل خطرہ کس سے؟

وقت کا پہیہ تیزی سے گھوم رہا ہے مگر رفتار سست ترین۔ اعداد و شمار کے گورکھ دھندے چلتی سانسوں کا شمار کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔

تجارتی، مالیاتی خسارے انسانی خسارے کو جنم دے سکتے ہیں۔ مہنگائی کے بڑھتے پیمانے انسانوں کو سائے میں بدل سکتے ہیں مگر احساس کی موت واقع ہو چکی ہے۔ المیہ یوں بھی ہے کہ الزام در الزام کے اس دور میں عام آدمی محض عام سا ہو کے رہ گیا ہے۔

بلاخر اسد عمر بھی پھٹ پڑے۔ آئی ایم ایف کا جو پیکج وہ دے رہے تھے اور دے نہ پائے، آئی ایم ایف کی وہ شرائط جو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کا وعدہ تحریک انصاف کی حکومت کر رہی تھی مگر عملدرآمد نہ کر سکی، بلاآخر یہ معاملہ ایک عوامی نمائندے یعنی اسد عمر کے ہاتھوں ہی انجام کو پایا۔

Read more

انہونی سے ہونی تک۔۔۔

جو ہو رہا ہے کبھی نہ ہوا تھا، جو ہو گا وہ بھی کبھی نہیں ہوا۔۔۔
ہونی کو کون روک سکتا ہے، ہونی ہو کر رہتی ہے۔
اور جو اب ہو رہا ہے دراصل وہی ہو رہا ہے جسے ہونا تھا۔ اس ہونی کے پیچھے سب اچھا نہیں تھا مگر اب اچھے کی اُمید بن چلی ہے۔

جس طرح سیاسی بساط پر کھیل جاری ہے اس سے فی الحال یہ تاثر مل رہا ہے کہ کچھ اچھا نہیں مگر ذرا لمحہ بھر کو سوچیے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے والی سیاسی جماعتیں ایک صفحے پر کیسے آتیں۔

ازراہِ کرم اس صفحے کو اُس صفحے سے الگ سمجھا جائے۔

Read more

ایک پیج کی تحریر

ہم وقت کے ساتھ ضد میں ہیں۔ جب یہ سوچ لیا جائے کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا تو ملک ناقابل تلافی نقصان کا شکار ہوتے ہیں۔ کون کہتا ہے کہ ہم بدلے ہیں۔ نہ ہم بدلے ہیں، نہ بدل سکتے ہیں۔ کون کہتا ہے کہ ملک میں جمہوریت ہے؟ نہ جمہوریت ہے، نہ…

Read more

لڑائی تو کپتان کو ہی لڑنی ہے

کوئی بھی سیاسی حکومت عدلیہ، میڈیا اور سیاست دانوں کو بیک وقت ہاتھ لگانے سے ڈرتی ہے سوائے موجودہ حکومت کے۔ اب یہ خان صاحب کی دلیری سمجھیں، تابع داری یا حد درجہ خود کشی کا شوق، یہ صرف کپتان ہی کر سکتے ہیں سو وہ کر رہے ہیں۔جنرل مشرف کے دورِ آمریت میں میڈیا آزاد تھا عدلیہ پابند۔ پھر عدلیہ آزاد ہوئی اور دھیرے دھیرے میڈیا کو پابند کر دیا گیا۔ صحیح یا غلط میڈیا نے اپنی بساط کے مطابق عدلیہ کو حد سے زیادہ آزادی دلوانے میں کامیاب کردار ادا کیا اور نتیجہ ادارے سے زیادہ فقط افتخار چوہدری صاحب کی خود مختاری اور وکلا گردی پر منتج ہوا۔

Read more

عزیز ہم وطنو!

دریدہ ماضی، پشیمان حال اور غیر یقینی مستقبل۔۔۔ ہم کہاں تھے، کہاں ہیں اور کہاں کھڑے ہوں گے؟ کبھی سوچا کہ ہم ماضی سے سبق سیکھنے کی بات کرتے ہیں اور پھر ماضی کو ہی فراموش کر دیتے ہیں، ماضی کی غلطیوں کو نہ دہرانے کے وعدے کرتے ہیں اور دانستہ نادانستہ غلطی در غلطی…

Read more

میثاق جمہوریت سے میراث جمہوریت تک!

ہم نے ہوش سنبھالا تو دو ہی جماعتیں برسر پیکار تھیں۔ پیپلز پارٹی جو بائیں بازو یعنی ترقی پسند جماعت تصور ہوتی تھی اور مسلم لیگ جس کے کئی حصے بخرے اس وقت بھی موجود تھے، دائیں بازو کی کنزرویٹو جماعت تصور کی جاتی تھی۔ 1986 میں محترمہ بینظیر بھٹو وطن واپس آئیں تو ظاہر…

Read more

حکومت تو آسان ہوتی ہے

ہم ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں وقت اور حالات ہمیشہ ایک سے رہے ہیں۔ ہم، ہم سے پہلے اور ہمارے بعد (خواہش ہے کہ ایسا نہ ہو) وہی قصہ درد، وہی صبحِ غلامی، وہی شامِ غریباں، وہی درد آشوب نغمے، وہی دل لبھاتے نعرے، بلندوبانگ دعوے، خواب در خواب، تعبیر کی جھوٹی تسلیاں، روٹی…

Read more