جناب وزیراعظم، انصاف کی ایپ کب بنے گی؟

ایسا معاشرہ جہاں لاپتہ آوازیں ہوں، لاپتہ تحریریں، لاپتہ لہجے، لاپتہ الفاظ، لاپتہ کتبے، لاپتہ قبریں، لاپتہ نوحے، لاپتہ نغمے، لاپتہ دُھنیں اور ُان دُھنوں پر ناچنے والے لاپتہ پاؤں، لاپتہ موسم، لاپتہ راستے اور لاپتہ منزل۔۔ وہاں کیا لکھیں اور کیا کہیں۔ میں لاپتہ ہوں میری آنکھیں لاپتہ ہیں جو نظر رکھتی ہیں مگر…

Read more

پارلیمنٹ کا این آر او!

ایک نئے میثاق یا ایک نئے عمرانی معاہدے پر بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ قومی اداروں کے مابین مکالمے کے آغاز کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے اور ہم آہنگی کی فضا کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ’اختلاف‘ مکالمے کو جنم دیتا ہے اور اتفاق ’رائے‘ کی راہ ہموار کرتا ہے۔ میثاق،…

Read more

دو نہیں ایک پاکستان!

کٹہرے میں کھڑے طاقتور شخص سے پوچھ کر انصاف کرنا اُتنا ہی بُرا ہے جتنا جابر حکمران کی اجازت سے کلمۂ حق ادا کرنا۔ ترازو کے پلڑوں میں قانون کو تولنے کی نوبت آ جائے تو نظام کو اعتماد کی سند لینا ہی پڑتی ہے اور قانون کے اطلاق میں رنگ، نسل، مذہب، زبان اور…

Read more

دوستو! انقلاب مؤخر ہوا

وہی جو ہمیشہ ہوتا رہا ہے، پھر سے ہو رہا ہے۔ بالکل اُسی طرح جیسے پیپلز پارٹی کو پچھاڑنے کے لیے پہلے اسلامی جمہوری اتحاد بنایا گیا جس میں سے ن لیگ، ق لیگ، ضیا لیگ، فنکشنل، نان فنکشنل اور کئی ایک ’جمہوری‘ گروپ اور کئی عدد چھوٹی چھوٹی الف سے ے تک مسلم لیگیں…

Read more

میرے بعد کس کو ستاؤ گے؟

سٹیج پر جاری کھیل کے سب کردار بند گلی میں ہیں۔ ڈائریکٹر، پروڈیوسر اور فنکار سب کے سب۔۔۔ ڈرامے کا کوئی انجام سمجھ نہ آ رہا ہو تو کردار بڑھا دیے جاتے ہیں، مکالموں میں طول، کردار لایعنی اور جملے بے ربط ہو جاتے ہیں، ڈرامہ ختم ہو جاتا ہے، ڈائریکٹر داد بھی سمیٹ لیتا…

Read more

کہانی وہی پرانی!

بچپن کی کہانیوں میں ہمیشہ سُنتے تھے کہ باپ بیٹے کو سفر پر نکلتے ہوئے نصیحت کرتا کہ بیٹا دوران سفر پیچھے مُڑ کر مت دیکھنا، پیچھے دیکھنے سے پتھر کے ہو جاؤ گے۔ آگے کا سفر جاری رکھنا تا کہ منزل تک پہنچ سکو۔ بڑے ہوئے تو سمجھا کہ پیچھے مُڑ کر دیکھنے سے…

Read more

اصل امتحان حکومت یا اپوزیشن کا نہیں، فیصلہ سازوں کا ہے

اُمید اور ناامیدی کے درمیان فقط انتظار ہوتا ہے اور منتظر چہرے اضطراب کا شکار۔ اضطراب وہ واحد کیفیت ہے جسے جانچنے کا کوئی پیمانہ موجود نہیں۔ اضطرابی کیفیت میں امید کی کوئی اُمید نظر نہ آئے تو ہیجان جنم لیتا ہے اور ہیجان انتشار کا سبب بنتا ہے۔ بہر حال کہنے کا مقصد صرف یہ ہے…

Read more

روک سکو تو روک لو!

ہم تاریخ کے اُس نازک دور میں واقعی داخل ہو چکے ہیں جہاں غلطی کی ذرا سی گنجائش نہیں ہے۔ اگر کسی کو امریکہ-انڈیا گٹھ جوڑ میں ذرا سی بھی غلط فہمی ہے تو ہیوسٹن کے مشترکہ جلسے کے بعد دور کر لے۔ لیکن سوال یہ اہم ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ مسئلہ کشمیر…

Read more

مولانا فضل الرحمن: سیاست کے کھیل کا بارہواں کھلاڑی

پاکستان کی سیاست کا میچ اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اگلی سہ ماہی کا ٹوئنٹی ٹوئنٹی شروع ہو چکا ہے، نئی نئی ٹیمیں وجود میں آرہی ہیں، اُکھاڑ پچھاڑ کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔ اپوزیشن اپنی صف بندیوں جبکہ حکومت احتساب کے تازہ دم دستوں کے لیے تیار ہے۔ گذشتہ برس جولائی…

Read more

’آپ نے مارنا کہاں سے سیکھا ہے؟‘

وقت ایک سا نہیں رہتا۔ گھڑی کی ٹک ٹک کے ساتھ جُڑا وقت احساس دلاتا ہے کہ ہر گزرتا وقت آپ کا نہیں تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔ وقت حقیقت بھی ہے اور سراب بھی۔ وقت تعبیر بھی ہے اور خواب بھی، وقت راحت بھی اور عذاب بھی، وقت صبح صادق بھی اور تاریک رات بھی۔

Read more