یہ حکومت چلے گی؟

آصف علی زرداری اب ایک بار پھر ایوان صدر میں ہیں اور موجودہ حکومت کی بقا کے ضامن بھی۔ جب سے حکومت تشکیل پائی ہے یہ سوال بارہا اُٹھایا جا رہا ہے کہ کیا یہ حکومت چل پائے گی؟ اس کا جواب صرف ایک شخصیت کے پاس ہے اور اُس کا نام ہے آصف علی زرداری۔

Read more

’حلوہ‘ تیار ہے

یہ محض ایک واقعہ نہیں یہ احساس کے تن پر لگی وہ تعزیز ہے جس کے لیے کسی عدالت کی بھی ضرورت نہیں اور نہ ہی کسی قاضی کی گنجائش۔ توہین مذہب کا الزام لگا کر کسی کو بھی ہجوم کے سامنے پھینک دینا کس قدر آسان ہے کوئی ہمارے معاشرے سے پوچھے۔

Read more

یہ ’ضمیر‘ کون ہے؟

ابھی حال ہی میں ایک سول افسر کا ’ضمیر‘ انتخابات سے دس دن بعد جاگ اُٹھا ہے اور حالیہ انتخابات کی صحت کو متنازع بنا رہا ہے۔ خیر ضمیر کسی بھی وقت جاگ سکتا ہے اگر ابدی نیند نہ سو گیا ہو اور جگانے کے لیے نہ تو اقبال کی نظموں کی ضرورت ہے اور نہ ہی فیض صاحب کے انقلابی کلام کی۔ البتہ ’فیض یاب ضمیروں‘ کی کسی طور کمی نہیں ہے۔

Read more

نئی اننگز مگر پرانا کھیل؟

کھلاڑی سب دیکھ رہے ہیں، سمجھ رہے ہیں لیکن چاہتے ہیں کہ جو کھیل امپائر نے شروع کیا، وہی ختم کرے تاکہ نئی اننگز کا آغاز ہو سکے۔ عاصمہ شیرازی کا کالم۔۔۔

Read more

’ہم کوئی آزاد ہیں؟‘

انتخابات کے بعد آزاد منڈیوں میں لگائی جانے والی بولیاں کس کے ہاتھ ہوں گی اس کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ سب نظریں اب آزاد امیدواروں پر ہیں جو نجانے جیتنے کے بعد آزاد رہیں گے بھی یا نہیں؟

Read more

’کُج سانوں مرن دا شوق وی سی‘

گزشتہ کچھ عرصے میں پاکستان میں تمام فالٹ لائنز ایک ساتھ نا صرف متحرک ہوئی ہیں بلکہ خدانخواستہ آئندہ انتخابات تک امن وامان کی صورتحال کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہیں۔۔ ایک طرف جہاں سیاسی جماعتوں کے قائدین کو خطرات ہیں تو دوسری جانب انتہا پسند قوتیں بھی ان فالٹ لائنز پر نظر رکھے بیٹھی ہیں اور موقع کی تلاش میں ہیں۔ اس صورتحال میں پرامن انتخابات کا انعقاد ریاست کے لیے یقینا ایک بڑا چیلنج ہے۔

Read more

چٹان عورتوں کی زنانہ وار تحریک

بلوچستان کی حالیہ تحریک کو سمجھنا ہو گا، گزشتہ تحاریک سے یہ تحریک قطعی مختلف اور یکسر جُدا ہے۔ اس بار یہ تحریک یوں بھی مختلف ہے کہ راہبر عورتیں ہیں، یہ سمجھنا ہو گا کہ حق دو تحریک کی مائی زینب ہو یا ماہ رنگ بلوچ اور سمی یہ سب عورتیں بدلے ہوئے بلوچستان کا پتا دے رہی ہیں جس کا اندازہ نہیں لگایا جا رہا۔ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

انقلاب آن لائن دستیاب ہے

’نامعلوم چہروں‘ سے سوشل میڈیا پر دھوم مچانے سے انتخابات جیتے جا سکتے تو جا بجا پھرتے کروڑوں فالوونگ والے کئی سٹارز اس وقت سیاسی دنیا پر عروج کر رہے ہوتے جبکہ ای ووٹنگ میں ’نامعلوم ووٹرز‘ کی بھرمار ہوتی۔

Read more

اور اب انتخابی نظریہ ضرورت

انتخابات کی جمع تفریق قطعی طور پر ایک مختلف سائنس ہے، مقبولیت اس کا پیمانہ نہیں مگر قبولیت اس کی آزمائش ضرور ہے۔ پاکستان کی سیاست میں بے حد مقبول الجبرا ’الیکٹیبلز‘ ہیں جو ہواؤں کے رخ کے موافق چلتے ہیں اور صرف مفاہمت کے نظریے پر یقین رکھتے ہیں۔ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

ازالہ، مداوا یا سمجھوتا

میز کے اردگرد کردار بدل گئے، معتوب، مشکور قرار پائے اور منظورِ نظر محفل سے در بدر۔ حضور! یہ سیاست نہیں سیاست سے کچھ آگے کی بات ہے۔ سیاست ناممکن کو ممکن بنانے کے فن کا نام ہے مگر اصل سیاست کا گُر سیاسی جماعتوں میں کہاں؟ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

فلسطین: تتلی کا بوجھ

درج کرو! میں عرب ہوں اور تم نے میرے اجداد کے باغات چرا لیے ہیں اور وہ زمین بھی جہاں میں اپنے تمام بچوں کے ہمراہ کاشت کاری کیا کرتا تھا، تم نے میرے لیے اور میرے تمام پوتوں کے لیے کچھ بھی باقی نہیں چھوڑا ہے سوائے ان پتھروں کے، تو کیا تمہاری حکومت، جیسا کہ کہا گیا ہے، ان پتھروں کو بھی چھین لے گی؟

Read more

کوئی منزل تو ملے!

تاریخی طاقتور اسٹیبلشمنٹ اور عدالتی گٹھ جوڑ نے ملک میں وہ فضا بنائی کہ ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوا نتیجتاً ایک صفحے کی حکومت نے ہائبرڈ دور کی بنیاد رکھی اور عسکری، عدالتی اور سیاسی کرداروں نے مملکت کو نئے تجربے سے دوچار کیا۔ بہرحال سیاسی جماعتیں یہ معاملہ اب فقط اللہ پر چھوڑ چکی ہیں۔

Read more

اب انصاف کی راہ میں سموسہ نہیں آئے گا؟

انتخابات قریب ہیں اور آپ نے اہم فیصلے کرنا ہیں لہٰذا سب ذمہ داری اگلے تیرہ ماہ میں آپ کے کندھوں پر رہے گی۔ کیا کریں قاضی صاحب! آپ ایک ہیں اور مقدمات کی طرح اُمیدیں ہزاروں۔۔۔ اُمید ہے اب انصاف کی راہ میں سموسہ نہیں آئے گا

Read more

سیاست میں الجھی عدالت

جناب چیف جسٹس صاحب ہمیشہ دلوں میں زندہ رہیں گے کہ اُنھوں نے آئین کے تریسٹھ اے کی تشریح کرتے کرتے اُس شق کے ساتھ وہ کیا کہ آئین ہی دوبارہ لکھ ڈالا جبکہ ’ووٹ نہ شمار‘ کرنے کے حکم نامے نے ایک حکومت گرائی اور پھر اُسی شق کی حالت درست کرنے کے لیے واپس وہ کچھ کیا کہ آئین یاد کرے گا آخر پالا کس سے پڑا تھا۔ عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

بجلی تو بس بہانہ ہے

ریاست اور عوام کے درمیان بظاہر تفریق اور تقسیم کو ہوا دینے والے ’سابقہ اثاثے‘ کس قدر بھاری ہتھیاروں سے لیس ہیں اور یہ ہتھیار یوں استعمال ہوں گے یہ خبر نہ تھی۔ کیا کیجیے کہ استعمال کا ہُنر خود ریاست نے اپنے ہاتھوں سے دیا ہے۔

Read more

نگران، مہربان، قدردان

نگران وزیراعظم کی تعیناتی کاہے کا سرپرائز ہے؟ ایسا کیا ہوا ہے جس کی توقع نہ تھی۔ کیا یہ غیر متوقع ہے کہ نگران وزیراعظم کا فیصلہ راجہ ریاض اور شہباز شریف کے ہاتھوں ہوا ہے؟ یا یہ کہ یہ فیصلہ خود اُن کے لیے بھی توقع کے خلاف تھا؟ بات مقتدرہ کے اختیار کی نہیں، سیاسی خانوادے کے انحصار کی ہے۔ عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

سراب سائے اور جمہوریت

ستم ظریفی کہ جس لمحے ووٹ کو عزت دینے کا دعویٰ کیا جا رہا تھا اُسی لمحے جنرل باجوہ سے خاموش سمجھوتہ بھی کیا جا رہا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ جنرل باجوہ تب بھی اور شاید آخری وقت تک کسی اور ’معاہدے‘ کے پابند رہے، آخری وقت تک اسلام آباد کے بڑے گھر میں خفیہ ملاقاتیں کرتے رہے اور شاید ایک بار پھر مارشل لا لگ چکا ہوتا۔ اس کی گواہی ہو سکتا ہے کسی وقت موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی آن دا ریکارڈ لے آئیں جن کی بروقت مداخلت نے کھیل کا پانسہ پلٹا۔

Read more

دودھ، بلی اور جمہوریت!!!

پیپلز پارٹی، پی ایم ایل این اور پی ڈی ایم کی دیگر جماعتیں سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر عوامی رابطے کی جانب نا بڑھیں تو ایسا نہ ہو کہ آئندہ چند ماہ میں تحریک انصاف سمیت سب جماعتیں انتخابات کے لیے ہم آواز دکھائی دیں۔

Read more

اب نہیں تو کب؟

اٹھارہ کے انتخابات میں شطرنج کی میز پر کھلاڑی تبدیل ہوئے تھے، بازی پلٹی گئی تھی اور ایک ایسا کھیل بنایا گیا تھا جس میں ہار کا تصور نہ تھا۔ اب کی بار نو مئی کے واقعات ہیں اور کھیل یکسر تبدیل، انتخابات سے قبل عمران خان کے لیے ایک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے۔ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

وہ کون تھے؟

ڈی جی آئی ایس پی آر کی جذباتی پریس کانفرنس میں سب کچھ تھا مگر وہ نہ تھے جنھوں نے عمران خان کو کبھی ریڈ لائن بنایا تھا۔ سب کچھ تھا ذکر نہیں تھا تو اُن پردہ نشینوں کا جنھوں نے بُت تراشے، تبدیلی کے سکرپٹ میں ذاتی مفاد اور عناد کا رنگ بھرا اور مقبول چہرے کی مقبولیت کو استعمال کیا۔

Read more

کھیل کے نئے اصول؟

کل جس چہرے کو دکھا کر اشتہار ملتے تھے آج اُس چہرے کو چھپا کر داد ملتی ہے۔۔۔ جس طرح ’قاسم کے ابا‘ کے نام لینے پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کی گئی ہے یہ مضحکہ خیز ہے۔ ناظرین اور قاری بھی کنفیوزڈ ہیں اور صحافی اور اینکر بھی۔

Read more

ہائبرڈ سے ہاف پلیٹ جمہوری نظام؟

کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ نئے اُبھرتے نظام میں جمہوریت محض نعرہ اور شخصی آزادی محض خواب ہو گا؟ محدود جمہوریت، مشروط انصاف اور محفوظ آزادئ اظہار نئے ممکنہ نظام کے خدوخال ہوں گے؟ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

معافی نامہ!

سرکار! آج کے بعد آپ مجھے کسی جلسے میں نہ دیکھیں گے اور نہ ہی کسی ٹاک شو پر بولتا دکھائی دوں گا، اب کبھی کسی تبدیلی کے جھانسے میں نہیں آؤں گا اور نہ ہی کسی کپتان کو رہنما بناؤں گا۔ فدوی آج کے بعد صرف اپنے کاروبار پر توجہ دے گا اور خاندان کی پرواہ کرے گا۔ عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

’اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے‘

جناح ہاؤس میں لگی آگ ہو یا پشاور کے تاریخی ریڈیو پاکستان میں دہکتے شعلے، نذر آتش جہاز کا ماڈل یا شہید کا سر بُریدہ مجسمہ۔۔۔ ستم ظریفی یہ کہ دشمن اسے طاقت کے میناروں کے زمین بوس ہونے سے تشبیہ دے رہے ہیں اور محفوظ فصیلوں میں محصور چوکیداروں کو عدم تحفظ کے احساس سے پہلی بار دوچار بھی کر رہے ہیں۔

Read more

آخری مرحلے کی لڑائی

بے نشان منزل کے مسافروں کی مسافت کہاں کم ہوتی ہے اور بے مکاں مکین کب سائبان رکھتے ہیں، مقام مقیم کے لیے اور زمان زمین کے لیے اجنبی ہونے لگیں تو سکونت کہاں؟ خوف کی چادر میں اندیشے پنپ رہے ہیں اور بے یقینی کا راج ہے۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہاتھ کوئی ایسی چھڑی آ جائے کہ گھمانے سے ایک دم ’نواں نکور‘ پاکستان نکل آئے، ایک دم بے یقینی کے بادل چھٹ جائیں اور صبح

Read more

مُرشدوں کے مُرشد جنرل باجوہ!

کپتان اس غم میں مبتلا ہیں کہ اُنھیں اسمبلیاں توڑنے کا مشورہ جنرل باجوہ نے دیا تھا اور اُن کے کہنے پر وہ ایسی حماقت کر بیٹھے ہیں جس کا پچھتاوا جاتے نہیں جا رہا۔ عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

لُٹ گئی شہر حوادث میں متاع الفاظ

کہیں جنرل ریٹائرڈ باجوہ کھُل کھُل کر نظام سے کیے گئے تجربے بیان کر رہے ہیں تو کہیں اُسی نظام کے خالقوں میں سے جسٹس ریٹائرڈ ثاقب نثار ’نامکمل صادق اور امین‘ کی کتھا سُنا رہے ہیں۔ عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

ریاست سے چند مشکل سوال

ایسا کیوں ہوا کہ ریاست کے وجود کے ساتھ ہی ایک متضاد بیانیے کو بُنیاد بنایا گیا؟ مذہب، معیشت اور معاشرت کو ایک ایسے بیانیے کے سُپرد کیا گیا جس نے سوائے کنفیوژن کے کچھ نہیں دیا۔ عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

ایک تھا جنرل!

ایسا جنرل جس پر تاریخ میں پہلی بار آرٹیکل چھ یعنی آئین توڑنے کی سزا غداری کا مقدمہ چلا اور پھر ایک ایسا جنرل جسے بچانے کے لیے ادارے نے اپنے تمام اختیارات کا بھرپور استعمال کیا۔ عدالت کا راستہ ہسپتال کی طرف اور قانون کا اختیار کی طرف موڑ دیا گیا اور یوں بظاہر جنرل مشرف جیت گئے اور آئین ہار گیا۔ عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

معاشی دہشت گردی، ذمہ دار کون؟

اب جب جنرل باجوہ ملک کی معیشت کے جنازے پر ذمہ دار عمران خان کو ٹھہرا رہے ہیں اور عمران خان ہر بُرائی کی ذمہ داری جنرل باجوہ کے کاندھوں ڈال رہے ہیں تو کون سی عدالت یہ طے کرے گی کہ پاکستان کی معیشت اور امن کے ساتھ کیا کھیل کھیلا گیا ہے؟ معیشت کے جنازے پر بین کرنے والے ایک صفحے کی حکومت کے تمام کردار کس حد تک ذمہ دار ہیں؟

Read more

چوہدری صاحب کا سال

چوہدری صاحب دس ووٹوں کے ساتھ سب سے بڑے صوبے کے وزیراعلی بنے اور اکثریتی جماعت اُن کے ہاتھوں بے بس ہے۔ عدالت اُن سے آگے چلتی ہے اور تحریک انصاف اُن کے پیچھے، وہ ایسے مرد قلندر ہیں کہ بقول اقبال ’فرشتے جن کی نصرت کو، قطار اندر قطار اب بھی۔‘

Read more

باجوہ، فیض اور عمران کی تکون

طاقت کی تثلیث میں تین میں ایک یا ایک میں تین کا جو فارمولا ترتیب دیا گیا تھا اُس مثلث کے بازو بھی ہر چند مضبوط کئے گئے تاہم تکون میں دراڑ باہر سے نہیں بلکہ اندر سے آئی ورنہ کون تھا جو طاقت کی اس تکون کو توڑ سکتا۔

Read more

غیر سیاسی فوج اور پراجیکٹ عمران!

آخری اطلاعات تک فوج عمران خان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے دروازے اب بند کر چُکی ہے۔ وزیراعظم نئے چیف کا اعلان نومبر کے تیسرے ہفتے میں کر سکتے ہیں، تب تک عمران خان صاحب جی ٹی روڈ پر ’اچھے دنوں‘ کی امید میں ماحول گرما سکتے ہیں۔

Read more

کون، کیوں، کیسے، کہاں؟

ارشد شریف نیروبی کیوں گئے؟ اجل لے گئی مگر اس اجل کو کیا نام دیں؟ موت ارشد کا تعاقب کرتے دبئی، برطانیہ اور پھر کینیا پہنچ گئی لیکن موت کی آہٹ کیوں سُنائی نہ دی؟ اجل نام بدل کر سرحد بدل رہی تھی مگر زندگی کو معلوم ہی نہ ہو سکا؟ سوال ہی سوال ہیں۔ کون؟ کیوں؟ کیسے اور پھر کہاں؟

Read more

تیرا چیف نہ میرا چیف۔۔۔

خان صاحب کسی درمیان کے چیف پر رضامند ہو گئے ہیں اور ’صاحب‘ کو ڈرل ماسٹر کے پاس بھیج دیا ہے۔ پیغام یہ بھی ہے کہ آئیے کسی اور پر ہی بات کر لیں اور کچھ لو اور دو کی بُنیاد پر معاملہ طے کر لیں۔ عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

سیاسی اُترن کا لنڈا بازار

انقلاب تب آئے گا جب سیاست نہیں جمہوریت کو نقطہ نظر بنایا جائے گا اور صحافت تب آزاد ہو گی جب سچ دکھائی دے گا سچ سُنائی دے گا اور سویلین بالادستی تب ہو گی جب فوج ہمیشہ بیرکس میں رہے گی اور سیاست کی طاقت کا مرکز اسٹیبلشمنٹ نہیں بلکہ جمہور ہوں گے۔ عاصمہ شیرازی کا کالم۔۔۔

Read more

سلسلے توڑ گیا ’وہ‘ سبھی جاتے جاتے!

انقلاب چند دنوں میں پھر سڑکوں پر ہو گا اور حقیقی آزادی کا نعرہ بھی گونجے گا مگر جن سے حقیقی آزادی چاہیے اُن کے نیوٹرل ہونے اور ساتھ نہ دینے کے طعنے بھی منشور کا حصہ بن رہے ہیں۔ عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

آخری واردات؟

دلچسپ امر یہ ہے کہ آڈیو لیکس میں وہ آڈیو خان صاحب کے علم میں ہے جو ابھی تک منظر عام پر آئی ہی نہیں۔ آخر وہ کون سے ذرائع ہیں جو ڈارک ویب پر آڈیو ڈالنے سے پہلے خان صاحب کو آگاہ کر رہے ہیں کہ اُنھیں توشہ خانہ کیس میں نااہل کیا جا رہا ہے۔۔۔ عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

وہی خطرناک کھیل دوبارہ

مجاہدین سے لے کر ’کی بورڈ واریئرز‘ تک ہر کام اُلٹا پڑتا ہے، پراجیکٹ افغانستان سے پراجیکٹ عمران تک سب تدبیریں الٹی پڑ جاتی ہیں؟ عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

قوم کے وسیع تر مفاد میں!

معاملہ امریکی سازشی خط سے عدالت میں معافی تک، حقیقی آزادی سے امریکی حکام سے بند کمروں میں ملاقاتوں تک اور آرمی چیف کی تعیناتی سے مدت ملازمت میں توسیع تک آن پہنچا ہے۔ ممکنات میں سے ہے کہ قوم کے وسیع تر مفاد میں آئندہ چند دنوں میں عمران خان جنرل باجوہ کی توسیع کی خوبیاں بیان کرتے دکھائی دیں۔ عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

ہم اتنے گناہ گار تو نہیں!

کیا ممکن ہے کہ ڈیم فنڈ کی مد میں جمع کیے گئے اربوں روپے کا حساب بھی قوم کو دے دیا جائے اور یہ بھی بتا دیا جائے کہ ڈیم کی رکھوالی اب کس کے پاس ہے اور چوکیداری کون کر رہا ہے؟ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔۔۔

Read more

مقبولیت کا ہتھیار اور انتشار

باوجود اس کے کہ توشہ خانہ یا ممنوعہ فنڈنگ کیس عمران خان کی صداقت اور امانت پر کئی سوال اُٹھا چُکے ہیں، وہ خود کو نہ صرف قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں بلکہ عوامی مقبولیت کے ہتھیار کو انتشار کے لیے استعمال کرنے کا ہُنر بھی رکھتے ہیں۔ عاصمہ شیرازی کا کالم۔۔۔

Read more

بات کہاں تک جائے گی؟

طاقت کا اصل سر چشمہ عوام ہیں، کسی چوراہے میں کی گئی اس تقریر کو سُننے والا مجمع اس پر نعرے تو لگا سکتا ہے لیکن حقیقت میں عوام نہ تو طاقتور ہیں اور نہ ہی کبھی سمجھے گئے ہیں۔ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

وہ نیوٹرل کیا ہوئے۔۔۔

بازار میں بیچنے کے لیے بہر حال سودا چاہیے اور سودا یہاں نقد چاہیے۔۔ نقدی بیرونی فنڈنگ کیس میں ہے اور کیس کے لیے فیس اور پھر توشہ خانہ کا سُوٹ کیس۔۔ غرض تحریک انصاف چاروں طرف سے گھر چُکی ہے۔

Read more

ممنوعہ بیرونی چندے پر کھڑے ’صادق و امین‘

ممنوعہ غیرملکی چندے پر کھڑی جماعت کیا اب بھی غداری اور چوری کے سرٹیفیکیٹ بانٹے گی اس کا فیصلہ اداروں اور حکمرانوں کو کرنا ہو گا۔ بہرحال چیف الیکشن کمشنر نے بے پناہ دباؤ اور خوف کو مات دے دی ہے: عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

یو ٹرن تو اچھے ہوتے ہیں

اتفاقات کی اس دُنیا میں قسمت کے دھنی صرف عمران خان ہی ہیں کہ کل تک طاقتور حلقوں کے گُن گاتے تھے اور آئی ایس آئی چیف سے لے کر آرمی چیف تک اور چیف جسٹس سے لے کر سابقہ چیف تک اُن کے ہی صفحے پر تھے اور وزیراعظم کی کُرسی سے اُترنے کے بعد ایک دن بھی محسوس نہیں ہوا کہ وہ اقتدار کے اس کھیل سے کبھی باہر بھی ہوئے ہیں۔

Read more

پاکستان سری لنکا نہیں

کچھ اپوزیشن رہنما مسلسل کہہ رہے ہیں پاکستان سری لنکا بن رہا ہے۔ پاکستان سر ی لنکا بن سکتا تھا اگر سیاسی جماعتیں سیاست کو بالائی طاق نہ رکھتیں۔ یہاں تیل دستیاب ہے گو عوام کا تیل نکل رہا ہے۔

Read more

سازشوں میں بُنی سیاست!

ایک ایک کر کے تمام سازشیں اور سازش میں اُلجھی سیاست منظر عام پر آ رہی ہے۔ یوٹرن پالیسی کے نتیجے میں تخلیق شُدہ صحافی نُما سیاسی کارکن اور سوشل میڈیا جنگجو ہر ناکام پالیسی کی طرح ایک بار پھر سماجی رابطے کے خودکُش بن چکے ہیں۔ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔۔۔

Read more

نظام بچائو، عوام کو عزت دو

تصورات کی دنیا کتنی دلکش اور حسین ہے۔ نہ خیالات پر ٹیکس لگتا ہے اور نہ ہی خواب دیکھنے پر ڈیوٹی۔۔۔ نہ خوابوں کے محل تعمیر کرنے پر خرچہ نہ ہی خیالی پلاو بنانے میں دقت۔۔۔ مگر اب خواب بھی سستے نہیں رہے کہ نیند ہی نہیں آتی۔ نیند آئے گی تو خوش کن خواب ہوں گے۔ یہ ’رات بھر نیند کیوں نہیں آتی‘ صرف غالب کا ہی مسئلہ نہیں بلکہ ہر اس شخص کا ہے جو مہنگائی اور مستقبل

Read more

خاموشی کی زُبان

بہر حال اب غیر جانبداری کے دن ہیں اور خاموشی باقاعدہ اسلوب بن چُکی ہے۔ اشاروں کی زُبان رائج ہے اور نگاہوں ہی نگاہوں میں معاملہ طے ہو جاتا ہے۔۔۔ اصل بات تو یہ ہے کہ شہباز شریف صاحب خاموشی کی زُبان عمران خان سے کہیں زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔

Read more

کیا عمران خان پاکستان کی نئی اسٹیبلشمنٹ ہیں؟

شہباز کو اب پرواز کے لیے پَر نہیں مگر دَم چاہیے۔ عمران خان دباؤ بڑھا رہے ہیں اور عدلیہ، مقتدر حلقے، نئی حکومت، میڈیا جس طرح اس وقت دباؤ کا شکار ہیں، خدشہ ہے کہ تحریک انصاف کی دی گئی ڈیڈ لائنز پر سرنڈر نہ کر جائیں؟

Read more

سازشی بیانیے کا چورن کب تک؟

حالات اُس نہج پر آ چکے ہیں جہاں خان صاحب نے حالات سدھرنے نہیں دینے اور نہ ہی نظام چلنے دینا ہے۔ ریاست سوشل میڈیا کے ہوے کا شکار ہو گئی ہے جبکہ اُسے خوف سے نکل کر آئین اور قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہوں گے۔

Read more

کون بچائے گا پاکستان؟

گذشتہ دنوں ایک باپ کا خان صاحب کے حکم پر بچے کی گردن کاٹ دینے کا خوفناک اعلان دیکھا اور سُنا، احساس جُھرجھری میں بدلا تو محسوس ہوا کہ اس کم علم شخص کے گلے میں جس غلامی کا طوق پہنایا گیا ہے وہ اس سے آگے اپنی عقیدت کا اظہار کیسے کرے۔

Read more

اور مجھے یوں نکالا

خیال کے ہر موسم میں کمال اور زوال کا سوال ہے۔ وقت یوں بھی بدل جائے گا شاید وقت کو بھی احساس نہیں۔ وقت کا پہیہ کس نے کتنا گھمایا اور کس کے ہاتھ کیا آیا یہ ابھی چند دنوں کی داستان ہے۔

Read more

اور اب آئین انصاف کے کٹہرے میں

آج آئین انصاف کے کٹہرے میں ہے تو یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ شخصی آمریت اور مطلق العنانیت کے خواب کو چکنا چور اور اجتماعی دانش یعنی آئین کو سرخرو کیا جائے گا۔ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

کچھ سرپرائز ابھی باقی ہیں

سرپرائز تو یہ بھی ہے کہ نیوٹرل ہوئے دانشور اُنہی کو آنکھیں دکھا رہے ہیں جو نظریہ پاکستان کے محافظ اور حب الوطنی کے علمبردار ہیں۔ پھر یہ ایکس سروس مین اچانک کیسے نیوٹرل نہیں رہے اور سوشل میڈیا پر گھومتی کپتان کے حق میں ویڈیوز کس کا فیصلہ سنا رہی ہیں؟

Read more

آخری اوور کا کھیل؟

ہماری سیاست کے کھیل میں امپائر کا کردار ہمیشہ ہی اہم رہا ہے اور یہ اصطلاح بھی جدید سیاست میں عمران خان صاحب نے ہی روشناس کرائی جو اب زبان زد عام ہے۔ امپائر کی جس اُنگلی کا تقاضا اُنھوں نے 2014 میں کیا اب اُنھیں اسی کے اٹھ جانے کا اندیشہ ہے۔ ذمہ دار وہ خود ہیں یا کوئی اور اس کا فیصلہ تاریخ پر چھوڑتے ہیں۔

Read more

ڈی چوک اور دما دم مست قلندر

دوسری جانب پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کی عوام کو تیار رہنے کی اپیل، پی ڈی ایم کا تئیس مارچ کو لانگ مارچ کااعلان صورت حال کو گھمبیر کر رہا ہے ایسے میں کون نیوٹرل ہو گا اور تصادم کیا رنگ لائے گا اس کی ضمانت کسی کے پاس نہیں۔

Read more

تبدیلی لوٹ رہی ہے؟

بہر حال ساڑھے تین سال بعد پھر تبدیلی کے ناگزیر ہونے کا خیال، سیاسی قوتوں کی جمع تفریق کے مطابق وقت سے کہیں پہلے تھا۔ پالنے میں بچے کے مستقبل کا حال بتا دینے والے سیاسی جوتشی سمجھ رہے تھے کہ غیر فطری نظام فطری طور پر گر سکتا ہے۔ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

اُلٹی گنتی کس کے لیے؟

حیران کُن یہ نہیں کہ حکومت نے عوام کو ریلیف دیا، پریشان کُن بات یہ ہے کہ یہ اضافے آئی ایم ایف کی شرائط اور دباؤ پر کرنا پڑتے ہیں، تو کیا وزیراعظم آئی ایم ایف کی زنجیریں توڑ رہے ہیں؟

Read more

جنون جیت گیا

ریاست کے نزدیک بچوں کو درسگاہوں میں ٹوپیاں پہنانے سے شاید ہم بہترین مسلمان پیدا کریں گے۔۔۔ زمانہ مریخ سے آگے جہان ڈھونڈ رہا ہے اور ہم قرون اولی کی جانب سفر کر رہے ہیں۔ کوئی کیسے سمجھائے کہ سکولوں میں معصوم بچوں کو ٹوپیاں پہنانے سے نہ تو مذہب کی خدمت ہو گی اور نہ ہی اسلام کی ترویج۔ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

بے خودی بے سبب نہیں غالب

مقتدر حلقوں کے ڈرائنگ رومز میں بحث نہ تو اپوزیشن کی سیاست پر ہو رہی ہے اور نہ ہی کپتان کی لیاقت پر تاہم بحث کا اصل موضوع کمان کی تبدیلی یا توسیع ہی ہے اور یہی وہ اہم معاملہ ہے جس کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ یا ماحول کو سیاست سمجھ لیا گیا ہے۔

Read more

اپوزیشن کے دن گنے جا چکے ہیں

متحدہ اپوزیشن قومی اسمبلی میں کوئی چمتکار دکھا سکتی ہے یا نہیں یہ سوال میڈیا پر ہر روز دہرایا جاتا ہے تاہم اُس کے لیے نواز شریف کو اپنی جماعت یا شاید شہباز شریف پر اعتماد کرنا ہو گا جس کے لیے وہ تیار نہیں۔ ن لیگ کی ساری سیاست مقدمات کے گرد ہی گھوم رہی ہے: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

آخری قہقہہ کس کا؟

احتساب کا بیانیہ کبھی چین کی طرح پھانسی گھاٹ پر لٹکتے بدعنوانوں، کبھی سعودی عرب کے بدعنوانی کے خلاف سفاکانہ نظام اور کبھی ملائیشیا اور ترکی کی مثالوں کو کارآمد بنا کر پیش کیا گیا۔ نہیں آزمایا گیا تو صرف انصاف، آئین اور جمہوریت کا نظام: عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

ٹیسٹ ٹیوب نظام

ہر بار سسٹم ہی ناکام ہوتا ہے ، سسٹم بنانے والے ناکام نہیں ہوتے۔ ایک بار اسے بھی تبدیل کرنے کی کوشش کیوں نہ کی جائے، عوام کو سسٹم میں حصہ دار کیوں نا بنایا جائے تاکہ نظام چل پڑے؟

Read more

ریاست بند گلی میں؟

ملکِ عزیز میں بسنے والوں کے شب و روز جس تکلیف میں ہیں اُس کا احساس تو شاید کسی کے پاس نہیں لیکن اب جب معاشی اُفتاد ٹوٹ پڑی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے ہر چیز برف تلے دب گئی ہے۔ معیشت، سیاست اور ان سے جُڑی ریاست بھی۔ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

سیاسی دھند میں لپٹا 2022

بہر حال اپوزیشن بلوچستان حکومت کی طرح وفاق میں بھی ’خاموش انقلاب‘ کا ساتھ دے سکتی ہے، ہاں اگلا ایک سال سنبھالے گا کون اس بارے میں ابہام موجود ہے یا یوں کہیے کہ ابھی وہاں بھی مکمل دھند چھائی ہے۔ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

ڈیل یا ڈائیلاگ؟

ڈیل کی خبریں ایک بار پھر گردش میں ہیں۔کیا سیاسی جماعتیں اس بار کوئی بھی ڈیل کرنے کی بجائے ڈائیلاگ کو ترجیح دیں گی؟ خفیہ بات چیت کی بجائے معاملات منظر عام پر لائیں گی؟ اپنے ذاتی مفادات کو عوامی مفادات میں بدلیں گی؟ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

کس میں کتنا ہے دم

ساڑھے تین سال کی سیاست نے مقتدر حلقوں کو باور کرا دیا کہ اب لاتعلقی نہ دکھائی تو آنے والے حالات اُن کے لیے بھی پریشان کُن ہو سکتے ہیں۔ تدبیر کے شاطر کو مات ہوئی تو وطن عزیز کے زمینی حقائق سامنے آنا شروع ہوئے، دھیرے دھیرے ایک ہی ٹوکری میں اکٹھے کیے انڈوں کو مرغی کے پروں سے نکالا گیا اور پھر متبادل کے لیے خالی جگہ کا بورڈ یوں آویزاں کیا گیا کہ بھرم رہ جائے اور شکوہ بھی نہ ہو۔ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

پی ڈی ایم کا ٹھٹھرتا انقلاب

ن لیگ کی قیادت لندن میں اور باقی قیادت پاکستان میں خوبصورت ’سیاسی موسم‘ کی منتظر ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ن لیگ یا تو کسی ڈیل یا کسی ڈھیل کے باعث اس حکومت کو پورے پانچ سال دینا چاہتی ہے جبکہ موجودہ کانپتا سیاسی نظام کسی سہارے کا منتظر ہے: عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

تاریخ، انصاف اور کٹہرا

پاکستان کی تاریخ میں متعدد رہنماؤں کو سیاسی مقدمات کا سامنا کرنا پڑا، تاریخ کے کٹہرے میں کبھی جسٹس قیوم کی ٹیپ منظر عام پر آئی اور کبھی سیف الرحمن احتساب کے نام پر انتقام لیتے رہے۔ تاریخ کی عدالت میں ذوالفقار علی بھٹو کا مقدمہ آج بھی انصاف کا متقاضی ہے۔

Read more

پیش خدمت ہے نیا سیاسی سیزن۔۔۔

پھر سیاسی سیزن میں ایک نیا موڑ آیا۔ دو جماعتیں اُکتا گئیں اور کسی حد تک سمجھ گئیں۔۔۔ ہدایت کاروں کو خیال آیا کہ کیوں نہ تبدیلی سیزن شروع کیا جائے۔ اس سیزن کے تقریبا تمام کردار نئے تراشے گئے، کچھ پرانے کرداروں کو لانڈری میں دھو کر چمکایا گیا۔ عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

طاقتور الیون بمقابلہ بااثر الیون

گزشتہ ہفتے احتساب کا بیانیہ ایک آرڈیننس کی صورت دفن ہوا تو تدفین کے ساتھ ہی ایک صفحے کی عمارت تیار کرنے والے ادارے کے خلاف مہم کا خاموشی سے آغاز کر دیا گیا۔ یہی کوشش کسی ’اور‘ سیاسی جماعت نے کی ہوتی تو اُسے میمو اور ڈان لیکس سے سخت صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا۔ عاصمہ شیرازی کا کالم۔۔۔

Read more

نظام گِر گیا تو؟

گزشتہ تین سالوں میں ایک سے بڑھ کر ایک سکینڈل اس حکومت سے وابستہ ہو چکا ہے۔ چینی، آٹا، دوائیاں، بجلی اور ضرورت کی ہر شے پہنچ سے بہت دور چیخ چیخ کر نظام کے گرنے کی پیش گوئی کر رہی ہے۔ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

ن کا بحران اور ش کی اُڑان

ن لیگ کو ش کے ہاتھ جانے سے روکنے اور بیانیوں کی جنگ میں بٹی ن کو بچانے کے لیے نواز شریف کو واپسی کا فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ دیکھنا یہ بھی ہے کہ ن میں تیزی سے سرایت کرتی ’ش‘ کے مقابلے میں شدید تحفظات رکھنے والی ایک اور ’ش‘ کب منظر عام پر آتی ہے۔

Read more

ہمیں بحیثیت ریاست خود سے مذاکرات کی ضرورت ہے

بات اندازوں اور تخمینوں سے بہت آگے کی ہے۔ المیہ یہ نہیں کہ دُنیا ہمیں کیسے دیکھ رہی ہے، دُکھ اس بات کا ہے کہ ہم نے اپنی قربانیوں کو دُنیا کے سامنے پیش کیسے کیا ہے: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

شکریہ عمران خان!

شہباز شریف نے بلاول بھٹو کو صحافیوں کے کیمپ میں ایک بار پھر متحد ہو کر شرکت کی دعوت دی اور اُن کی مشترکہ انٹری نے وہاں موجود کئی ایک صحافیوں کے چہروں ہر اطمینان دوڑا دیا کہ بالآخر جمہوریت، آزادی رائے اور عوامی حقوق کے لیے اپوزیشن جماعتیں اکٹھی ہو رہی ہیں۔ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

سیاسی بساط پر کس کی چال

آئندہ چھ ماہ میں حالات کیا ہوں گے یہ اہم سوال ہے۔ امن و امان کے پیش نظر ملک میں بحرانی کیفیت پیدا ہوئی تو قومی حکومت کا وجود ناگزیر ہو سکتا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کی گزشتہ چند دنوں کی کارروائیوں نے کئی شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم۔

Read more

شششش، خاموش۔۔۔

جیتے جاگتے ملک میں جمہوریت کی جنگ لڑنے والوں کو کیسے روندا جا سکتا ہے؟ نہیں معلوم یہ پانچ ہزار کی تعداد کہاں سے آئی، کس نے بتائی اور کیسے اگلوائی۔۔۔ تاہم اب یہ ایک سچ لگتا ہے۔ چوک چوراہوں میں لٹکایا تو نہیں گیا ہاں مگر جمہوریت پسندوں کو سر عام کبھی گالی کبھی گولی اور کبھی غداری کا سامنا ضرور کرنا پڑ رہا ہے: پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

شہباز شریف یا مریم نواز؟ ن لیگ کا گرم محاذ

سچ تو یہ ہے کہ اپوزیشن اور خصوصا ن لیگ نے جانے انجانے، ڈیل بغیر ڈیل ایک اہم موقع گنوا دیا: عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more

طالبان آ نہیں رہے۔۔۔ آ گئے ہیں؟

افغانستان میں طالبان آ نہیں رہے بلکہ آ چکے ہیں۔ کسی پُرانی فلم کا نیا سیکوئیل، پُرانی کتاب کے نئے ابواب اور پُرانی کہانی نئے کرداروں کے ساتھ منظر عام پر آ رہی ہے۔ پڑھیے عاصمہ شیرازی کا کالم

Read more