الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور انتخابی اصلاحات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی ضمنی انتخاب پی ڈی ایم کی حلیف جماعتوں کے درمیان خلیج بڑھانے کا سبب بن گیا۔ فیصل واوڈا کے استعفیٰ سے خالی ہونے والی نشست پر بظاہر مقابلہ مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے مابین لگ رہا تھا مگر انتخابی نتائج کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کی باہمی چپقلش میں ڈھل گیا۔ ابتدائی نتائج میں پیپلز پارٹی یہ نشست جیت گئی مگر مسلم لیگ نون کی دوبارہ گنتی کی درخواست پر الیکشن کمیشن کے حکم امتناعی سے معاملہ لٹک گیا ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت اڑھائی سالہ مکمل کر چکی ہے اور وزیراعظم عمران خان اپنے دور حکومت کو قابل فخر گردانتے ہیں۔ حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج وزیراعظم عمران خان کے دعووں کے برعکس ہیں۔ چاروں صوبوں میں پے در پے شکست اس بات کی عکاسی کر رہی ہے کہ عوام حکومتی پالیسیوں سے مطمئن نہیں ہیں۔ اب ووٹرز پچاس لاکھ گھروں اور ایک کروڑ نوکریوں جیسے بلند و بانگ دعووں پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔ انتخابی نتائج نے واضح کر دیا کہ عام آدمی کی نظر میں عمران خان کے دعوے ان پہاڑی ندی نالوں کی مانند تھے جو چڑھتے تو بڑے زور و شور سے ہیں مگر منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی سوکھ جاتے ہیں۔ خلق خدا جان چکی ہے کہ اگر ریت کے گھروندے بھی بنائے جائیں تو اس عرصۂ حکومت میں پچاس لاکھ کے ہندسے تک نہیں پہنچ سکتے چہ جائیکہ سیمنٹ بجری کے اصل گھر۔ رعایا پر یہ حقیقت آشکار ہو چکی ہے کہ کروڑ نوکریاں اور لاکھوں گھروں کے دعوے محض سراب ہیں۔

کراچی الیکشن میں پیپلز پارٹی کے امیدوار نے ووٹ بھلے جتنے بھی لئے ہوں البتہ گنتی کرنے والوں نے تقریباً ستر ( 70 ) ہزار ووٹ دس گھنٹوں سے زائد میں گن کر کچھوے سے آہستہ رفتار کا ریکارڈ چھین لیا ہے۔ ڈر ہے کہیں کچھوا ایسوسی ایشن اس پر احتجاج نہ شروع کر دے۔ کراچی جیسے شہر میں جہاں جدید سہولیات دستیاب ہیں نتائج کا اتنی تاخیر سے آنا شکوک و شبہات بڑھانے کا سبب بنتا ہے۔

ڈسکہ الیکشن کے بعد اس حلقہ پر سب کی نظریں جمی تھیں۔ توقعات کے برعکس مسلم لیگ نون کی الیکشن ٹیم منظم نظر نہیں آئی۔ پولنگ ایجنٹس کی کارکردگی بھی ایسی نہیں تھی جیسے ڈسکہ میں دیکھنے کو ملی۔

اس بابت ایک اہم لیگی رہنما نے پوچھنے پر بتایا کہ الیکشن کمیشن کی سختی کی وجہ سے کوئی بھی پارلیمانی رہنما حلقہ میں نہیں جا سکتا تھا، صرف مریم نواز صاحبہ الیکشن مہم میں شرکت کر سکتی تھیں مگر مفتاح اسماعیل نے چند دن پہلے ایک سروے کروایا جس میں انھیں واضح برتری حاصل تھی، اس لیے کورونا مسائل کی وجہ سے سندھ کے عہدیداران نے مریم نواز صاحبہ کا دورہ منسوخ کروا دیا لیکن سوشل میڈیا ٹیم سمیت تمام عہدیداران بھرپور محنت کر رہے تھے اور آن بورڈ تھے۔ خوشاب کے حوالے سے بھی انہوں نے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

الیکشن کمیشن کی بات کی جائے تو اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر صاف شفاف الیکشن کروانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرنا چاہتے۔ ان کے اقدامات سے کوتاہیوں پر چشم پوشی کرنے کی بجائے انھیں مزید بہتر کرنے کی سعی نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈسکہ اور کراچی میں پریزائڈنگ افسران کو درپیش مسائل کو مدنظر رکھتے خوشاب میں ہونے والے ضمنی انتخاب کے لئے الیکشن کمیشن نے ہر پریزائڈنگ افسر کے لئے ایک الگ گاڑی اور پانچ افراد کی ایک ٹیم کا انتظام کیا ہے جس میں رینجرز و پولیس کے اہلکاروں کے علاوہ ایک نمائندہ بھی شامل ہو گا اور وہ ہمہ وقت ریٹرننگ افسر کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔ ان اقدامات کو دیکھتے ہوئے توقع کی جا سکتی ہے کہ خوشاب میں نتائج بروقت دستیاب ہوں گے۔ حالیہ ضمنی انتخابات کے بعد اصلاحات کے نام پر ایک بار پھر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال موضوع سخن بن چکا ہے۔

الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر بات کرنے سے پہلے ہمیں یہ ذہن نشین ہونا چاہیے کہ ہماری 60 فیصد سے زیادہ دیہی آبادی ہے اور 40 فیصد سے زائد افراد ناخواندہ ہیں۔ آج بھی ایک بڑی تعداد کو اے ٹی ایم مشین استعمال کرنا نہیں آتی۔ ایسے میں کیا وہ بغیر رہنمائی کے ووٹ ڈال سکیں گے اور اگر انھیں کوئی اسسٹنٹ فراہم کیا جائے تو کیا ان کے ووٹ کی رازداری برقرار رہ پائے گی؟

الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال کی بات کی جائے تو اس میں سب سے اہم ووٹر کی شناخت خفیہ رکھنا، الیکٹرانک مشین کی سیکیورٹی، ڈیٹا کی محفوظ سٹوریج اور ووٹنگ کے عمل کا مسلسل چلتے رہنا بہت اہم ایشو ہو گا۔ کراچی جیسے شہر میں جہاں ہمہ وقت تیز ترین انٹرنیٹ دستیاب ہے وہاں صرف فارم 45 وہاٹس ایپ کرنے میں 10 گھنٹے لگ گئے تو پورے الیکشن پراسس کو انٹرنیٹ کے ذریعہ مکمل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا۔ مزید براں ووٹنگ مشین اور ڈیٹابیس کی نگرانی کے لئے ایک آئی ٹی کمپنی کی خدمات درکار ہوں گی۔

آئی ٹی سے وابستہ افراد سمجھ سکتے ہیں کہ ڈیٹابیس میں نتائج تبدیل کرنے میں صرف چند سیکنڈ لگتے ہیں۔ اگر کسی نے ”جذبات“ میں آ کر ایک Query لگا دی تو حسب منشا نتائج تبدیل ہو جائیں گے۔ ایسے معاملات کی انکوائری رپورٹ اور فرانزک آڈٹ کے جو نتائج نکلتے ہیں وہ ہم گزشتہ الیکشن میں ایک فون کال کے ذریعے RTS بندش کی تحقیقات میں دیکھ چکے ہیں جو ہنوز نامکمل ہیں اور وطن عزیز میں جس واقعہ کی تحقیقات مکمل نہ ہو سکیں اس میں کون ملوث ہوتا ہے یہ اب راز نہیں ہے۔

ہم ایک فون کال پر RTS کی بندش سے پیدا ہونے والے اثرات دیکھ چکے ہیں جبکہ اس میں معاملہ چند سیکنڈ سے زیادہ کا نہیں ہے۔ کسی ”جذباتی“ شخص کا اشارہ ابرو ہی کافی ہو گا۔ پاکستان میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو استعمال کرنے سے بہتر ہے سلیکٹرز کو ڈائریکٹ اختیار دے دیا جائے کہ جسے چاہیں ’نیا سلیکٹڈ‘ بنا کر مسند اقتدار پر بٹھا دیں، کم از کم اس سے غریب عوام کے اربوں روپے ہی بچ جائیں گے۔

اصلاحات کی مزید بات کی جائے تو صرف الیکشن اصلاحات ہی نہیں بلکہ اس نظام کے بنیادی ڈھانچے میں خرابیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ امید کی جاتی تھی کہ ’انصاف‘ کے نام پر بننے والی جماعت اس نظام انصاف میں اصلاحات لائے گی مگر بدقسمتی سے اس دور حکومت میں احتساب اور انصاف گم ہو کر انتقام کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ بدقسمتی سے وزیراعظم کی اولین ترجیح عوام کو آسان انصاف فراہم کرنے کی بجائے مخالفین کو جیلوں میں ڈالنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر شعبہ میں بہتری کے بجائے گراوٹ کے اثرات نمایاں ہیں۔

تمام سیاسی جماعتوں کو ’نظام انصاف میں اصلاحات‘ کو اپنے منشور کا حصہ بنانا چاہیے۔ موجودہ نظام کے سقم دور کر کے اس میں بہتری لانا ازحد ضروری ہے۔ فوری اور سستا انصاف شہریوں کا بنیادی حق ہے۔ دادا کے مقدمہ کا فیصلہ پوتے کے زمانے میں ہوتا ہے۔ یہ رجحان ختم ہونا چاہیے۔ ججز صاحبان اور وکلاء حضرات کو بھی اس سلسلے میں تعاون کرنا چاہیے تاکہ عوامی مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔ مزید براں اگر ہرجانے کے مقدمات کا فیصلہ برسوں کی بجائے مہینوں میں ہونے لگ جائے تو پھر کوئی عمران خان بیچ چوراہے میں کسی پر بھی الزامات کی کیچڑ نہیں اچھال سکے گا۔

اگر ایسا ہو جائے تو اشاروں پر چلنے والے میڈیائی اینکرز ہوا میں کاغذات لہرا کر بے سروپا الزامات لگانے سے پہلے سو بار سوچا کریں گے۔ ٹی وی چینلز بھی ایسے نام نہاد اینکرز کو رکھنے سے گریز کریں گے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف طویل عدالتی مراحل سے گزرے ہیں، عدالتی مشکلات کو انہوں نے قریب سے دیکھا ہے۔ اگر عوام نے ان کی جماعت کو دوبارہ اقتدار سونپا تو انھیں ’نظام انصاف میں اصلاحات‘ کو اپنی اولین ترجیح بنانا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *