ممتا بینرجی۔ مودی کے لئے ہمالیائی چیلنج؟


اس وقت نہ صرف مغربی بنگال میں کلکتہ سے دارجلنگ تک بلکہ سارے بھارت میں ممتا بینرجی کی زوردار جیت کے بعد یہ بحث جڑ پکڑ چکی ہے کیا واقعی ممتا بینرجی اب نریندر مودی کے سامنے ایک دم دار لیڈر کے طور پر پوری قوت سے ابھر چکی ہیں؟ یاد رہے اس عظیم کامیابی کے پیچھے ممتا جی کی بھرپور محنت اور فولادی عزم کا اہم ترین کردار ہی ہے جس نے بی جے پی کے طوفان کو بنگال میں بالکل تھما سا دیا ہے۔ حالیہ ریاستی چناؤ کی بات کی جائے تو بنگال میں ممتا جی کو 47 فیصد ووٹ ملے ہیں جبکہ بی جے پی محض 77 سیٹوں تک ہی بڑھ پائی جو کہ بقول امت شاہ 200 کا آنکڑا پار کر نیکی دعویدار تھی۔

اسی لئے اب ممتا جی کو اندرا کے بعد بھارت کی سیاسی تاریخ کی طاقتور ترین خاتون رہنماء قرار دیا جا رہا ہے۔ درحقیقت ممتا جی کا عکس اس دبنگ رہنماء کا بن چکا ہے جو کہ ناقابل تسخیر سمجھے جانے والے لیڈران کو بنگال کی سیاسی پچ پر تگنی کا ناچ نچانا جانتی ہیں جیسے 2011 میں دہائیوں تک پھیلے کمیونسٹ راج کا صفایا کیا پھر اب 2021 میں مودی بریگیڈ کے زبردست پراپیگنڈے اور انتخابی مشینری جھونکنے کے باوجود اسے بھی غرق یاب کر دیا۔

کہا جاتا ہے کہ ”دیدی“ کے ”سخت مقابلہ ہو گا“ کے نعرے نے کارکنوں اور سپورٹرز میں گویا بجلی بھر دی اور بنگال پر بھگوا پرچم لہرانے والے خلیج بنگال میں غرق ہو کر رہ گئے۔ لیکن یہاں یاد رکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ امت شاہ کی چانکیائی سیاست کو اتنی داد تو بنتی ہے کہ 2016 کے بنگال کے ریاستی چناؤ میں جہاں بی جے پی محض تین نشستوں تک محدود رہی تھی اس بار وہ 77 تک تو پہنچ پائی۔ سیاسی پنڈتوں کے مطابق اب ممتا کی اگلی منزل دلی ہے جہاں 2024 کے لوک سبھا چناؤ میں وہ علاقائی لیڈران کے ساتھ مل کر مودی کے سامنے بند باندھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں اور خود کو کانگرس کا متبادل بھی ثابت کرچکی ہیں۔

تاہم یہ بے حد کٹھن راستہ ہے اور دلی کی سینٹرل پالیٹکس کی حرکیات بنگال کی ریاستی سیاسی حرکیات سے یکسر مختلف اور ہمالیائی جدوجہد کی متقاضی ہیں۔ لیکن بلاشبہ دیدی کے پاس وہ عزم اور فولادی جذبہ موجود ہے کہ وہ 2024 میں یہ چمتکار بھی دکھانے کی بجا طور پر اہل ہیں۔ ”ممتا دیدی“ آخر کیوں بنگال میں اتنی مقبولیت کی حامی ہیں آئیے اس کا جائزہ لیں۔ ممتا نے 2011 میں وزیر اعلیٰ بننے کے بعد لڑکیوں کی تعلیم اور روزگار کے لئے جامع پروگرام پیش کیے اور جس کے تحت لڑکیوں کو پچیس ہزار کی سکالر شپ ملنے لگی اور بنگال کی بیٹی زیور تعلیم سے آراستہ ہونے لگی۔

جبکہ اس کے علاوہ پسماندہ لڑکیوں کی شادی کے لئے پچیس ہزار کی امداد کی بھی اسکیم بنائی جن کو بے حد پذیرائی ملی۔ یہی نہیں بلکہ بنگالی طالب علموں کے لئے لاکھوں کی تعداد میں سائیکل فراہم کیے۔ نیز بنگالی معیشت بھی ٹیک آف کر گئی جس کی مثال فی کس آمدنی کے حوالے سے اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور بہار جیسی ریاستوں کو پچھاڑ دینا شامل ہے۔ غریب عورتوں کو روزگار کی فراہمی اور خود انحصاری کی راہ پر ڈالنے کے حوالے سے دیدی نے ایک بہترین انتظامی ڈھانچے کی بنیاد رکھی۔

یہی وجہ ہے کہ ان کو بنگال کے کانگرسی، لیفٹسٹ اور مسلم ووٹروں کی بھی بھرپور حمایت ملی۔ جہاں تک بی جے پی کی شکست کا سوال ہے تو اس حوالے سے اہم نکات یہ رہے کہ اول بھاجپا بنگال کے سیاسی کلچر کا ادراک نہ کر سکی دوم، بی جے پی نے اس سیاسی کھیپ کو ٹکٹ بڑی تعداد میں دیے جن کی سیاسی ساکھ محض موسمی پرندوں کی سی تھی۔ سوم مودی جی فلمی اداکاروں، کابینہ کے وزراء اور دوسری ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو ممتا کے خلاف انتخابی مہم میں لاتے تو رہے مگر ترنمول کانگرس کی کرپشن بارے ان کے پاس کچھ ٹھوس شواہد تھے ہی نہیں جس سے ممتا کی ساکھ متاثر ہوتی۔

جبکہ سب سے اہم وجہ کہ مودی جی بنگال میں امت شاہ کے ساتھ مل کر بی جے پی کو کوئی ایسا جادوئی چہرہ ہی نہیں دے سکے جو ممتا کے مقابلے میں عوام کو لبھا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ بنگال کے روشن خیال اور سیاسی شعور کے حامل عوام نے مودی کے سونار بنگلہ کے نعرے کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ جبکہ مودی جی بھی ”دیدی او دیدی“ جیسے بے سرے نعرے لگا کر اپنا ہی مذاق بنواتے رہے۔ مختصراً یہ کہ جے شری رام کا زعفرانی ہندتوا کا نعرہ بنگال میں بک ہی نہیں سکا۔

اب ذرا مختصراٰ بات ہو جائے کیرل، پانڈیچری، آسام اور تامل ناڈو کے ریاستی چناؤ کے احوال کی کہ وہاں کیا نتائج رہے اور کون ابھرا کون ڈوب گیا؟ تامل ناڈو میں بلاشبہ ڈی ایم کے رہنماء اور کروناندھی کے سپوت سٹالن نے شاندار فتح حاصل کی اور دس برس کے بنواس کے بعد ڈی ایم کے کو اقتدار کے گلیاروں میں پہنچا دیا۔ سٹالن کی جماعت 234 کے ریاستی ایوان میں 147 سیٹیں لینے میں کامیاب ہوئی۔ جبکہ ایکٹر کمل ہاسن کو بھی ریاستی چناؤ میں بھرپور مہم کے باوجود شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

تاہم سٹالن کو تامل ناڈو کی سیاست میں جے للیتا جیسی قد آور راہنما کے بعد پیدا ہونے والے خلاء کو بھرنے کے لئے ابھی خاصی لمبی سیاسی مسافت طے کرنا ہوگی۔ جبکہ کیرل میں ایل ڈی ایف نے تاریخ بناتے ہوئے مسلسل دوسری بار اقتدار حاصل کیا اور 140 کے ایوان میں 71 نشستیں لے اڑی۔ یوں کیرل ہندوستان میں بائیں بازو کا سب سے مضبوط قلعہ بن کر ابھرا جبکہ اتحادی کانگرس جماعت کی حیثیت محض اس کامیابی میں بی ٹیم کی ہی رہی۔ یاد رہے کہ تعلیم سیاحت، آئی ٹی، آرگینک فارمنگ، پائیدار معیشت، واٹر مینجمنٹ اور ہیلتھ کی بہترین سہولیات کی بنا پر کیرل ہندوستان میں اول درجہ رکھتا ہے۔

آسام کے ریاستی چناؤ بھاجپا کے نام ہی رہے اور 126 کے ایوان میں اسے 78 سیٹیں ملیں۔ پانڈیچری کے ریاستی چناؤ بھی بی جے پی کے نام رہے۔ آخر میں اب ذرا بات ہو جائے بھارت کے اگلے لوک سبھا چناؤ 2024 کے امکانی منظرنامے کی جہاں ایسا لگ رہا ہے کہ اب ممتا بینر جی آئندہ لوک سبھا کے چناؤ کے لئے صف بندیوں میں مصروف ہونے والی ہیں اور بنگال کی زبردست فتح کے بعد ان کو مختلف ریاستوں میں موجود اہم علاقائی جماعتوں سے بھی حمایت ملنے کی توقع ہو سکتی ہے جن میں پنجاب کا اکالی دل، مہاراشٹر کی شیو سینا، جگن موہن ریڈی، چندر شیکھر راؤ شامل ہیں۔

جبکہ کانگرس پارٹی کے مسلسل بکھراؤ اور زوال کی بدولت ممتا کی نظریں کانگرس جماعت پر بھی مرکوز رہیں گی کیونکہ ان کا سیاسی خمیر بھی کانگرس کے پلیٹ فارم سے ہی ماضی میں ابھرا تھا۔ جہاں تک کانگرس کا سوال ہے تو اب آسام اور بنگال میں چلی کمزور انتخابی مہم اور کیرل میں بائیں بازو کی حمایت جبکہ بنگال میں بائیں بازو کی مخالفت سے راحل گاندھی مزید کمزور اور تضادات سے بھرپور لیڈر ثابت ہوئے ہیں۔ مغربی بنگال کے انتخابی معرکے کے بعد کچھ سبق ضرور ملتے ہیں اول 2014 سے اب تک یہ مودی عہد کی سب سے بڑی الیکشن ناکامی ہے دوم یہ بالکل بھی ضروری نہیں کہ بی جے پی اور مودی جی اپنے فرقہ ورانہ ایجنڈے کے بل بوتے پر ہندوستان میں ہر ریاست میں من پسند نتائج بٹور سکیں اور سوم کہ مودی جی کو سوچنا ہوگا کہ اب ان کی کرشماتی شخصیت کی حدیں محض ہندی بیلٹ والی ریاستوں اور گجرات تک ہی سمٹ گئی ہیں بنگال کا جادو اپنی جگہ سر چڑھ کر بول رہا ہے۔

تاہم یہ دیکھنا خاصا دلچسپ ہوگا کہ بنگال میں ممتا جی کے ہاتھوں کراری شکست کھانے کے بعد اب اگلے آٹھ ماہ بعد گوا، منی پور، پنجاب، اتر پردیش اور اتراکھنڈ کے ودھان سبھا چناؤ یعنی ریاستی الیکشن میں کیا مودی جی اپنی کرشماتی شخصیت کا جادو جگا پائیں گے یا ہم ایک تیسرے فرنٹ کو ممتا بینرجی کی قیادت میں تیزی سے ابھرتا ہوا دیکھیں گے جنہوں نے مودی جی کی زعفرانی فرقہ ورانہ سیاست کو کھدیڑ کر سیکولرازم کے تھکے ماندے جسم میں بنگال کے حالیہ چناؤ سے ایک تازگی کا احساس کامیابی سے جگایا ہے۔

Facebook Comments HS