مذہبی اقلیتیں اور برابر کے شہری حقوق


چند روز سے اک خبر سوشل میڈیا پر زیر گردش رہی کہ یورپی یونین نے مذہبی اقلیتوں کے حوالے سے پاکستان سے ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اس کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کی ہے جس کے خلاف صرف تین ووٹ آئے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے جواب میں ایک بیان سوشل میڈیا پر جاری کیا کہ پاکستانی مذہبی اقلیتوں کو دستور کے تحت برابر کے حقوق حاصل ہیں، یوں قرارداد کی نفی کی اور ٹریڈ کے خصوصی درجے کے ممکنہ خاتمے پر مایوسی کا اظہار کیا۔

اہم بات یہ رہی کہ پاکستانی مذہبی اقلیتوں کے گنے چنے افراد ہی ٹویٹر پر ہیں مگر تمام نے یک زبان ہو کر دفتر خارجہ کے ترجمان کے بیان پر سخت سوالات اٹھائے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ دفتر خارجہ کو اقلیتی ارکان اسمبلی تک میں سے کوئی یہ جواب دینے کے لیے میسر نہیں آیا کہ ہاں جی، ہم بڑے سکھی ہیں آپ جائیں اپنا کام کریں۔

اس پر مزید یہ ہوا کہ چند روز قبل ہی لاہور کے مینٹل ہسپتال کے چیپل پر جو کہ مسیحی عبادت گاہ ہے اور چرچ بلڈنگ کے مساوی ہے، غیر مسیحی نرسز نے دھاوا بول دیا جس نے دفتر خارجہ کے بیان کی رہی سہی عزت کو بھی خاک کر دیا۔ اور ہاں وہ آڈیٹوریم نہیں چیپل ہے اور ہمارے لئے چیپل رہے گا، ایسی کوشش مرے کالج سیالکوٹ کے چیپل کو ہتھیانے کی بھی ہو چکی ہے ماضی میں۔

سوال یہ ہے کہ ہم دوسروں کے مذہبی جذبات کو اپنے مذہبی جذبات کے جیسا کیوں نہیں سمجھتے۔ دوسروں کے سوال کو کیوں در خور اعتناء نہیں جانتے۔ دوسروں کی بات کو اپنا مطلب اوڑھانے پر کیوں بضد رہتے ہیں۔

پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کی کل تعداد شاید پانچ فیصد سے بھی کم ہو مگر ان پر obsession کا منظر عجیب ہے۔ کبھی ان کی لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر اغواء کیا جا رہا ہے، کبھی ان کی جائیداد کو ہڑپنے کے لیے جھوٹے الزامات لگائے جا رہے ہیں، پچانوے فیصد ہو کے بھی قرار نہیں آ رہا۔ چرچ یا مندر یا ہندو دیوتاؤں کی مورتیوں کے بارے میں اکثر نامناسب بات کر دی جاتی ہے اور کچھ وقت کے بعد ایک معذرت کی ٹویٹ اور سب نارمل۔ بس یہی برابری میسر ہے۔

کوئی سوال کرتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ لوگ فوراً اسے اسائلم کی کوشش قرار دے دیتے ہیں۔ اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اچھا سلوک احسان جتلا کر کرتے ہیں۔ سب سے مشہور احسان یہ کہ ہم آپ کے ساتھ کھا پی لیتے ہیں۔ او بھائی نہ کھائیں نہ آپ، کس نے کہا ہے اتنا تردد کرنے کو۔ کوئی کیٹرنگ سروس کسی مسیحی کو ملازم رکھ لے تو اس کے ہاتھ کا کھانے کی بجائے ان سے لین دین ختم کر دیتے ہیں۔ بات کرتے ہیں۔

اخلاقیات کا مضمون متعارف کرا کے بڑا احسان کرتے ہیں۔ اس میں ہمارے نبیوں کا ذکر ہماری تعلیمات کے مطابق تو کرتے نہیں، برابری کی بات کرتے ہیں، ویسے بھی ہمیں تو انگریزی، اردو، سائنس، ریاضی سبھی اسلامیات ہی لگتی ہیں اور ہم پڑھتے ہیں۔

کوئی مذہبی اقلیتوں کا بندہ کسی چھوٹے سی وارڈ یا پرائمری سکول کا انچارج بن جائے تو اس سے آرڈر لینا توہین سمجھتے ہیں۔ نکالنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں چاہے جھوٹا الزام ہی کیوں نہ ہو۔ آرڈر مان بھی لیں تو پیٹھ پیچھے ”ہے تے چوہڑا ہی نا“ کہہ کر گزر جاتے ہیں۔

ہندوستان کے سیاسی اقدامات کے بدلے میں گالی ہندو کو دیتے ہیں چاہے ہندوستان کے اقدامات میں وہاں کے مسلمان بھی شریک ہی ہوں۔ نہ کوئی تقسیم کے وقت آیا نہ گیا پھر بھی سمجھتے ہیں کہ ہم پر بڑا احسان کر کے یہاں رکھا ہوا ہے۔ بعض نابغے تو جزیہ کا مطالبہ بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ نئے گرجا گھر نئے مندر بنانے راہ میں روڑے اٹکائے جاتے ہیں، بعض علاقوں میں گھر لینے کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔

کتابوں میں دوسرے مذہب کے لوگوں کو جس طرح پیش کیا جاتا ہے وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ مسیحوں کو اہل کتاب کہہ کر جو مارجن دیا جاتا ہے۔ چوہڑا کہہ کر وہ حساب پھر وہیں آ جاتا ہے۔ جاسنڈا آرڈن اور ٹروڈو کی تعریف میں قلابے ملائے جا رہے ہوتے ہیں یہاں پر کوئی رواداری کی بات کر دے پر امن بقائے باہمی کی بات کر دے اس پر غداری اور کفر کے فتوے۔

تو بھی ایک اچھی تعداد ایسے دوستوں کی بھی ہے جو مذہبی اقلیتوں کے اس دم گھٹنے کو محسوس کرتے ہیں اور اس کے لیے آواز بلند کرتے ہیں۔ ان کی وجہ سے ہمارا اس ملک میں یقین ابھی تک زندہ ہے۔ اس معاشرے میں زندگی کی رمق ابھی باقی ہے۔ گزارش صرف اتنی ہے کہ ہمیں اپنی عینک سے نہیں ہمارے زاویے سے دیکھیں۔

خدا پاکستان کو گیارہ اگست کی تقریر والا پاکستان بنائے۔ آمین

Facebook Comments HS