وزیراعظم کا دو گھنٹے بغیر پروٹوکول اسلام آباد کا دورہ
وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو تقریباً تین سال ہونے کو ہیں اور چونکہ وہ تبدیلی اور زبردست انتخابی نعروں کے ساتھ سیاسی میدان میں اترے تھے تو مجھ جیسے نوجوانوں نے ان سے بہت امیدیں وابستہ کر لیں۔ خان صاحب ابتدائی چند مہینوں میں کرپشن کے خاتمے کا سب سے زیادہ خوشنما اور متاثر کن سلوگن لائے تھے اور ہماری سادہ طبیعت اس سراب کو حقیقت بھی سمجھ بیٹھی تھی۔ مجھے تو ایسے لگتا تھا کہ کرپشن کا جو حساب کتاب عمران خان لگا کر بتاتے ہیں، وہ انہوں نے روک دینی ہے اور ہمارے ملک کے وارے نیارے ہو جائیں گے۔
عمران خان کو تو عدالت نے بھی صادق اور امین قرار دیا تھا۔ اس بات کی تو مجھے اور بھی زیادہ خوشی تھی کہ ہمارے ملک میں سرکاری صادق اور امین اس سے پہلے کوئی بھی نہیں تھا تو بس جب وہ وزیراعظم بنے تو میں نے والد صاحب سے کہا کہ پاپا بس اب ہمیں بھی وائنڈ اپ کر کے پاکستان جانے کی تیاری کر لینی چاہیے کیونکہ عمران خان کا دعویٰ ہے کہ عنقریب لوگ دنیا بھر سے پاکستان میں نوکریوں کی تلاش میں آئیں گے تو ہم بھی بروقت جا کر اپنی قابلیت اور پسند کی نوکری ڈھونڈ لیں، ویسے بھی پاکستان کے سبزہ زار اور موسم مجھے بہت پسند ہیں اور دادی بھی تو گاؤں میں اکیلی ہیں۔
ابھی ہم پیکنگ کا سوچ ہی رہے تھے کہ عمران خان نے ہلکا ہلکا ٹوسٹ (twist) لیا کہ نظام یک دم تو ٹھیک نہیں ہو سکتا، ہم نے پھر یقین کر لیا کہ چلو سال دو سال تک بہتری آ جائے گی مگر شومئی قسمت بہتری کی بجائے کورونا آ گیا اور رہی سہی کسر نا اہل کابینہ نے نکال دی۔ اوپر سے انکل نواز شریف ہمارے وزیراعظم کی نفسیات سے اترے ہی نہیں۔ بھئی یہ بھی تو غلط بات ہے کہ نکالنے والوں نے سابق وزیراعظم کو وزارت عظمیٰ سے نکال دیا اور عمران خان کے دماغ سے نکالنا بھول گئے۔
میں نے کبھی وزیراعظم عمران خان کی نیت پر شک نہیں کیا کیونکہ جتنی بار انہوں نے کابینہ کو بدلا، ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں بدلا۔ ہر ممکن کوشش کی مگر حکومتی معاملات خان صاحب کے لئے روبکس کیوب ہی ثابت ہوئے۔ اس سارے عرصے میں اگر کوئی چیز درست ہو پائی تو وہ ان کی بنی گالہ کی اراضی یا پھر ان کی ہمشیرہ کے اثاثہ جات بعوض کچھ رقم قانونی ہو پائے۔
اگرچہ عمران خان صاحب جیسے سرٹیفائڈ صادق اور امین انسان کے لئے یہ بھی بڑی اچیومنٹ ہے مگر مجھ جیسے پرامید اور ان کے پرستار عوام ابھی تک اس تبدیلی کے منتظر ہیں جس کا وعدہ انہوں نے ہمارے ساتھ کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ آتے ہی کرپشن کو روک کر اتنی رقم اکٹھی کر لیں گے کہ ملک کا قرضہ بھی اتر جائے گا۔ ہم سمجھتے تھے کہ چونکہ عمران خان نے کہا ہے کہ وہ خودکشی کر لیں گے مگر آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے تو نہیں جائیں گے مگر وہ بھی کیا کرتے سب کے سب وزراء تو پیپلز پارٹی کے تھے تو انہوں نے آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ بھی خود ہی کر لیا ہوگا، اس میں بھی بھلا وزیراعظم عمران خان کا کیا قصور۔
چونکہ وزیراعظم عمران خان صاحب ریاست مدینہ کی مثال بہت زیادہ دیتے ہیں تو آج تین سال بعد وہ ایک روایت زندہ کرنے میں کامیاب ہو ہی گئے، مدینہ کے خلفا کی طرح بغیر پروٹوکول کے خود گاڑی چلاتے اسلام آباد میں دو گھنٹے گزارے اور ایک کرکٹ گراؤنڈ کا دورہ بھی کیا تو مجھے ان کا ایک ننھا سا اور وعدہ یاد آ گیا کہ جب وزیراعظم بنوں گا تو روٹ لیول سے کھلاڑیوں کے انتخاب کو یقینی بناتے ہوئے ایک ایسی قومی کرکٹ ٹیم ترتیب دوں گا جسے دیکھ کر دنیا دنگ رہ جائے گی۔ آج کے اس دورے نے میری خوش فہم طبیعت کو پھر سے پرامید کر دیا ہے اور مجھے یقین ہے اور کوئی وعدہ پورا ہو نہ ہو خان صاحب یہ وعدہ پورا کر کے ہی اسمبلیاں توڑیں گے۔


