جنات اور دیو مالائی مخلوق ریاست نہیں چلاتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں یو ٹیوب پر پاکستان کے مایہ ناز سائنسدان جناب پرویز ہود بھائی کا جنات کے حوالہ سے ایک تبصرہ سننے کا اتفاق ہوا۔ ہود بھائی نے اس میں یہ واضح کیا کہ جنات کا ابھی تک سائنسی یا تجرباتی ثبوت تو موجود نہیں لیکن اگر لوگ اس وہم کو ماننا چاہیں تو کوئی انہیں روک نہیں سکتا جیسے انسان بہت سی مافوق الفطرت چیزوں پر اندھا یقین رکھتا ہے اسی طرح جنات پر یقین رکھ سکتا ہے۔

یو ٹیوب پر کچھ مزید پروگراموں میں بعض ایسے لوگوں کے انٹرویو بھی سنے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ جنات کے اسرار سے واقف ہیں۔ بلکہ جنات ان کے قبضے میں ہیں اور وہ جو چاہیں ان سے کروا سکتے ہیں۔ ایک صاحب نے تو یہاں تک دعویٰ کیا کہ جنات کے قبرستان بھی ہیں۔ مثلاً ماکلی ٹھٹھہ کا قبرستان جنات کا ہے۔

پاکستان کے موٴقر جرائد نوائے وقت اور خبریں وغیرہ کے سنڈے میگزینز میں بھی ان عاملوں اور جادو گروں کی طرف سے ایسے اشتہارات شائع ہوتے ہیں جن میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ آپ کا کوئی بھی کام ہو۔ محبوب کو قدموں تلے لانا ہے۔ ملازمت اور کاروبار میں کامیابی۔ شوہر کو رام کرنا۔ اولاد کا حصول غرض ہر قسم کا کام کروانے کے لیے ان عاملوں سے رابطہ کریں اور سو فیصد کام کروائیں۔

ایک بات ناقابل فہم ہے کہ یہ عامل حضرات اگر اتنے طاقتور جنات پر قبضہ رکھتے ہیں تو پھر اپنے کاروبار کے لیے وہ انہی کے ذریعے لوگوں کو رام کیوں نہیں کرتے اور کیوں خواہ مخواہ اخبارات میں اشتہارات وغیرہ کے پیسے بھرتے ہیں۔

سمجھنے والی بات یہ ہے کہ جن ہیں کیا؟ اور کس طرح انسان پر غیر مرئی طور پر اثر انداز ہوتے ہیں اور کیا کسی ایسی مافوق الفطرت مخلوق کا وجود ہے بھی جو انسان پر اس طرح اثر انداز ہو سکے؟

جن عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی پوشیدہ اور مخفی چیز کے ہیں۔ جن عربی میں ایک قسم کے سانپ کو بھی کہتے ہیں۔ جنین ماں کے پیٹ میں پیدائش سے پہلے پرورش پانے والے بچے کو بھی کہتے ہیں جن علیہ الیل سے مراد ہے کہ رات چھا گئی۔ چنانچہ لغت کی رو سے کوئی بھی مخفی چیز جن کے لفظ سے موسوم ہے لیکن انسان چونکہ وہمی ہے اور ماورائی قوتوں سے متاثر ہے اس لیے اس نے اس سے مراد ایسی مخلوق سمجھی ہے جو ایسی قوتوں سے لیس ہے جو انسان کے محدود جسم میں تو پائی نہیں جاتیں مگر انسان کی لامحدود سوچ میں ان کی خواہش بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔

ایسی مخلوق جو کبھی نظر سے غائب ہو اور کبھی سامنے آ موجود ہو۔ اپنا حلیہ بدلنے پر قادر ہو۔ کبھی جانور کی شکل اختیار کر لے کبھی انسان کی۔ بڑے سے بڑا کام کرنے کی طاقت رکھتی ہو با اختیار بھی ہو اور دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک بجلی کی رفتار سے سفر کرنے کا ملکہ بھی رکھتی ہو۔ اچھائی اور برائی میں نہ صرف فرق کر سکتی ہو۔ بلکہ مکانی اور زمانی طور پر ماضی حال اور مستقبل میں سفر بھی کر سکتی ہو۔

انسان کو اشرف المخلوقات اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ اچھائی برائی میں فرق کر سکتا ہے۔ جذبات رکھتا ہے اور ماضی کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر مستقبل کی منصوبہ بندی کر سکتا ہے۔ لیکن اگر واقعی کوئی ایسی مخلوق موجود ہو جو درج بالا تمام خوبیوں سے متصف ہونے کے علاوہ غیر معمولی جسمانی طاقت بھی رکھتی ہو تو پھر اشرف المخلوقات تو وہ مخلوق ہوئی نہ کہ انسان اور انسان کو اپنے تابع کرنے کا اختیار ان کے پاس ہونا چاہے نہ کہ انسان کے پاس جو اس حوالہ سے ایک کمتر درجہ کی مخلوق ٹھہرتا ہے۔ ورنہ وہی صورت حال ہوگی جو مشہور ناول اینیمل فارم کی کہانی میں بیان کی گئی ہے جب سوٴروں نے انسان کو نکال کر فارم پر قبضہ کر لیا تھا۔

جیسا میں نے عربی لغت کے حوالہ سے تحریر کیا جن کا لفظی مطلب چھپا ہونا یا مخفی رہنا ہے آج کل دنیا کووڈ کی وبا میں مبتلا ہے یہ ایک چھوٹا سا وائرس ہے جو عام خوردبین سے بھی نظر نہیں آتا مگر نہایت ترقی یافتہ انسان کے لیے ایک مصیبت بنا ہوا ہے اور معاشی اور معاشرتی پہلووٴں پر بری طرح اثر انداز ہو رہا ہے۔ یہ بھی جن کی ایک قسم کہی جا سکتی ہے۔ اسی طرح محاورة ہم ایسے لوگوں کو بھی جن کہتے ہیں جن میں عام انسانوں سے اضافی کوئی بات ہو مثلاً ایک شخص بہت زیادہ وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہو تو ہم کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو جن ہے۔ اسی طرح ایسے لوگ جو دوسروں پر حکومت کرتے ہوں اور عوام الناس سے علیحدہ رہتے ہوں انہیں بھی جن کا لقب دے دیا جاتا ہے۔

چنانچہ جنات دراصل ان اشیاء یا افراد کو کہتے ہیں جو مخفی طور پر معاشرے پر اثر انداز ہوتے ہیں ایسی کوئی مخلوق جو انسان سے ہر خوبی میں بالاتر ہونے کے باوجود انسان کے تابع رہے۔ نہ تو یہ کسی بوتل میں بند ہوتے ہیں اور نہ یہ کسی چراغ کے رگڑنے سے نمودار ہوتے ہیں۔ آج کل کی دنیا میں ہر ملک میں انٹیلی جنس ایجنسیاں بے شمار پیسہ اور دماغ خرچ کر کے دنیا کو قابو کرنے کے منصوبے بنانے میں ہمہ وقت مشغول ہیں کہ کس طرح ساری انسانیت ان کے قبضہ میں آ جائے اگر تو ایسی کوئی مزعومہ مخلوق ہوتی تو بجائے اتنی رقم خرچ کرنے اور اتنے افراد کے دماغ سوزی کرنے کے اگر وہ چند عامل حضرات کو جنات کو تابع کرنے کے مدعی ہیں بڑی کم تنخواہوں پر ملازمت دیتے اور اپنے ہیڈ کواٹر میں ایسے سیل کھول لیتے کہ جب اور جہاں چاہتے جنات کو بھیج کر اپنے مقاصد حاصل کر لیتے تو کیا یہ زیادہ سود مند نہیں تھا؟

خواہ مخواہ احمقوں کی طرح اتنی رقم اور محنت ضائع کر رہے ہیں مسئلہ صرف یہ ہوتا ہے کہ اگر سی آئی اے کا شعبہ جنات کسی ملک کے وزیر اعظم پر اثر انداز ہونے کا منصوبہ کرتا اور روسی کے جی بی بھی اس وزیر اعظم کو اپنے قابو میں رکھنے کے لیے اپنے جنات بھیج دیتا تو وزیر اعظم صاحب کبھی انگریزی اور کبھی روسی میں بیانات داغنے شروع کر دیتے اور کچھ پتہ نہ چلتا کہ وہ چاہتے کیا ہیں؟

ہمیں چاہیے کہ عظیم الشان خوبیاں رکھنے والی اس مخلوق سے بڑے بڑے کام لیں۔ سڑکیں۔ ڈیم۔ فیکٹریاں بنوائیں ورنہ صرف محبوب کو قدموں میں لے آنے جیسے کام پر لگانے سے وہ تو اپنی سبکی محسوس کرتے ہوں گے۔

عقل والو۔ عقل سے کام لو


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments