علم حقیقی اور یونانی فلسفہ اقبال کی نظر میں


علامہ اقبال کو مسلم دنیا کا قدآور فلسفی مانا جاتا ہے۔ ان کے بنیادی فلسفیانہ نظریات جیسا کہ علم اور مذہبی مشاہدہ، خدا کا تصور، دعا کا مفہوم، خودی اور آزادی کا تصور وغیرہ وغیرہ ان کی کتاب تجدید فکریات اسلام میں موجود ہیں۔ تجدید فکریات اسلام دراصل اقبال کے خطبات کا مجموعہ ہے۔ یہ خطبات انہوں نے مدراس، حیدر آباد اور علی گڑھ میں پڑھے۔ ان خطبات میں اقبال نے اسلام کی مذہبی فکر کو سائنس، فلسفے اور جدید علوم کی روشنی میں ازسر نو تشکیل دینے کی کوشش کی ہے۔ کچھ ترقی پسند تنقید نگاروں کا خیال ہے کہ اقبال نے درحقیقت فلسفہ اور سائنس جیسے غیر جانبدار علوم کو مسلمان کرنے کی کوشش کی ہے بہر حال یہ ایک الگ بحث ہے۔ ذیل میں ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ اقبال کے نزدیک حقیقی علم کیا ہے؟ اور اسے حاصل کرنے کا ذریعہ کیا ہے؟

اپنے پہلے خطبہ میں اقبال کائنات کے حوالے سے کچھ بنیادی سوالات اٹھاتا ہے جیسا کہ ”ہم جس کائنات میں رہتے ہیں اس کی خاصیت اور ماہیت کیا ہے؟ کیا اس کی بناوٹ میں کوئی مستقل عنصر موجود ہے؟ اس سے ہمارا تعلق کیا ہے؟ کائنات میں ہمارا کیا مقام ہے؟

یہ سوالات ایسے ہیں جو مذہب، فلسفہ اور جدید سائنسی علوم میں مشترکہ اہمیت کے حامل ہیں یعنی ان تینوں علوم میں ہی ان بنیادی سوالات کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان سوالات کا جواب دینے سے پہلے اقبال فلسفیانہ طریقے سے حاصل کیے گئے علم اور مذہبی طریقہ سے حاصل کیے گئے علم کی وضاحت کرتا ہے۔ اقبال کے مطابق فلسفہ آزادانہ تحقیق کا نام ہے جو ہر حکم اور دعوے پر شک کا اظہار کرتا ہے اور اس کی تصدیق کے لئے عقلی دلائل کا طالب ہے۔

جبکہ مذہب کی بنیاد ایمان پر ہے اور ایمان اس پرندے کی مانند ہے جو اپنا راستہ عقل کی مدد کے بغیر پا لیتا ہے۔ مذہب کا بنیادی نصب العین انسان کی باطنی اور ظاہری زندگی کو بدلنا اور اس کی رہنمائی کرنا ہے۔ ہم ایک ایسے نظام کو جو ہماری ظاہری اور باطنی زندگی کو بدلتا ہے محض آنکھیں بند کر کے قبول نہیں کر لیں گے بلکہ اس کے حتمی اصولوں کو عقلی بنیادوں پر سمجھیں گے۔

کسی بھی چیز کو عقلی بنیادوں پر پرکھنا فلسفیانہ طریقہ استدلال کے زمرے میں آتا ہے تو کیا ہم اس سے یہ مراد لیں گے فلسفے کو مذہب پر برتری ہے؟ اقبال اس کا جواب نفی میں دیتا ہے۔ اس کے مطابق مذہب کی قدر کا تعین کرتے وقت فلسفے کو لازمی طور پر اس کی مرکزی حیثیت بھی مد نظر رکھنی چاہیے۔ جس طرح فلسفے میں عقل کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اسی طرح مذہب میں وجدان (وحی) کو علم کا بنیادی ذریعہ قرار دیا جاتا ہے۔ اقبال کے مطابق وجدان اور عقل بنیادی طور پر دونوں ہی حقیقت کے متلاشی ہیں ان دونوں کی بنیاد اور مقصد ایک ہی ہے درحقیقت وجدان عقل کی بر تر صورت ہے۔ یعنی وجدان عقل سے سپریم اور اس کا اگلا درجہ ہے۔ اس سے اقبال یہ ثابت کرتا ہے کہ مذہب پر فلسفے کی برتری کو کسی طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ اقبال کے مطابق دین اسلام کی عقلی بنیادوں پر تلاش کا آغاز خود نبی ﷺ نے کیا۔ آپ ﷺ اکثر دعا فرمایا کرتے تھے کہ ”اللہ مجھے اشیاء کی اصل حقیقت کا علم عطا فرما“ ۔

اقبال اپنے اس خطبے میں دعوٰی کرتے ہیں کہ اگرچہ یونانی فلسفے نے مسلمانوں کی فکر میں بہت زیادہ وسعت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا لیکن قرآن کے بارے میں مسلم مفکرین کی سوچ کو یونانی فکر نے متاثر کرتے ہوئے دھندلا دیا ہے۔ یونانی فلاسفر سقراط نے محض انسانی دنیا پر ہی اپنی توجہ مرکوز رکھی اس کے نزدیک انسان کے مطالعے کا موضوع صرف انسان ہے۔ اقبال کے مطابق یہ کرہ ارض، حشرات زمینی اور ستارے وغیرہ یونانی فلسفیوں کے مطالعے کا کبھی بھی موضوع نہیں رہے اور یہ سوچ قرآنی تعلیم کے منافی ہے کیونکہ قرآن میں دوسرے موضوعات ہواؤں کے تغیر و تبدل، دن اور رات کی گردش، سورج چاند، ستاروں اور سیاروں کے مطالعے کی بھی دعوت دی گئی ہے۔

(اقبال کی طرف سے صرف ایک یونانی فلسفی کے بیان کردہ فلسفے کو بنیاد بنا کر یہ دعوٰی کرنا کہ یونانی فلاسفرز نے کائنات کو کبھی موضوع بحث نہیں بنایا ایک تاریخی غلطی ہے۔ سقراط سے پہلے جتنے بھی نیچرل فلاسفر تھیلز، اناکسی مینز، اناکسی مینڈر، ایمفی ڈاکلز اور ہیرا کلایئٹس وغیرہ آئے ان کا تو موضوع بحث ہی کائنات تھی)

اقبال متعدد آیات کا حوالہ دیتے ہیں جس میں غور و فکر اور عقل رکھنے والوں کے لئے نشانیوں پر زور دیا گیا ہے جس سے وہ یہ اخذ کرتے ہیں کہ دین اسلام ایک ایسا دین ہے جو خود غور و فکر اور عقلی استدلال کی دعوت دیتا ہے۔ خطبہ کے آخر میں اقبال اس بات پر زور دیتے ہیں کہ علم کے بنیادی سورسز عقل، حسی ادراک ( حواس خمسہ سے حاصل کیا گیا علم) اور وجدان جسے اقبال مذہبی تجربے کا نام دیتے ہیں۔ اقبال کے نزدیک عقل اور انسانی تجربے سے حاصل کیا گیا علم خارجی دنیا سے متعلق ہے جو کہ ناقص علم ہے جبکہ مذہبی تجربہ سے حاصل کیا گیا ہی اصل علم ہے جو آپ کو حقیقت (خدا) تک پہنچا سکتا ہے۔ مذہبی تجربہ ماورائے عقل ہے اور جدید سائنس بھی اس کا تجزیہ کرنے سے قاصر ہے۔

Facebook Comments HS