بشیر میمن کے انکشافات
احتساب کے عمل میں حکومتی مداخلت کا یقین تو تھا ہی مگر ایمانداری کی بات ہے یہ اندازہ ہرگز نہیں تھا کہ مداخلت اس قدر کھلم کھلا اور اعلی سطحی ہوگی۔ ایف آئی اے کے سابق ڈی جی بشیر میمن نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی روداد بتا کر ہلچل مچا دی ہے۔ بشیر میمن کے بقول ”اس ملاقات میں وزیر قانون فروغ نسیم، وزیر مملکت داخلہ و احتساب شہزاد اکبر اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان بھی موجود تھے۔ بشیر میمن کے مطابق عمران خان نے ان سے کہا وہ پہلے بھی بڑے اچھے کیس بناتے رہے ہیں، اس کیس میں بھی ہمت کرنی ہے اور اچھا کیس بنانا ہے۔
بشیر احمد میمن نے دعویٰ کیا کہ شہزاد اکبر کے دفتر میں جاکر انہیں پہلی مرتبہ پتہ چلا کہ وزیر اعظم کس کیس اور شخصیت کے متعلق تحقیقات کی بات کر رہے تھے۔ بشیر احمد میمن نے شہزاد اکبر اور اعظم خان دونوں سے سوال کیا، آپ سپریم کورٹ کے ایک سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ کے خلاف ایف آئی اے کی تحقیقات کی بات کر رہے ہیں، آپ کی طبیعت تو ٹھیک ہے؟ جس پر انہوں نے کہا ہمارے پاس کافی چیزیں ہیں، ریکارڈ موجود ہے آپ بس بسم اللہ کریں۔
بشیر احمد میمن کے بقول انہوں نے دونوں کو بتایا کہ ایف آئی اے اعلیٰ عدلیہ سمیت کسی جج کے خلاف تحقیقات نہیں کر سکتی، جب بات قانونی نکتے پر رک گئی کہ ایف آئی اے سپریم کورٹ کے ایک سینئر اور حاضر سروس جج کے خلاف تحقیقات نہیں کر سکتی تو اعظم خان اور شہزاد اکبر نے کہا کہ چلیں وزیر قانون کے پاس چلتے ہیں، جو آپ کو مزید اس پر بتا سکتے ہیں۔ ایف آئی اے کے سابق سربراہ کے مطابق وہ تینوں وہاں سے اٹھے اور وزیر قانون فروغ نسیم کے دفتر میں چلے گئے، جہاں پر ایف بی آر کے کمشنر انکم ٹیکس ڈاکٹر اشفاق احمد بھی پہلے سے ہی موجود تھے۔
بشیر میمن نے مزید کہا کہ انہوں نے اس حوالے سے واضح انکار کر دیا اور کہا کسی جج کے خلاف کارروائی کا اختیار سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس ہے، ایف آئی اے کا یہ مینڈیٹ نہیں لیکن حکومتی عہدیدار بضد رہے۔ ایک ماہ بعد شہزاد اکبر نے ان سے قاضی فائز عیسیٰ اور ان کے اہل خانہ کی سفری تفصیلات مانگی گئیں۔ انہوں نے مگر دینے سے انکار کر دیا۔ بشیر میمن نے مزید بتایا وزیر اعظم عمران خان سابق وزیر اعظم نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف، خواجہ آصف، جاوید لطیف، رانا ثنا اللہ سمیت دیگر افراد کے خلاف سخت مقدمات چاہتے تھے اور انہیں بار بار ایسا کرنے کے لئے کہا گیا ”۔
اس کے جواب وزیراعظم عمران خان نے اپنی صحافیوں میں سینئر صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں بشیر میمن کے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا بشیر میمن جو بھی کہہ رہے ہیں وہ جھوٹ ہے، میں نے انہیں جسٹس قاضیٰ فائز عیسیٰ، مریم نواز شریف اور دیگر کے خلاف مقدمات بنانے کا نہیں کہا۔ ریفرنس فائل کرنا بشیر میمن کا کام نہیں تھا، انہیں کیوں کہتا؟ بشیر میمن کو صرف خواجہ آصف کے اقامے کی تحقیقات کا کہا تھا جس کا فیصلہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا تھا، اس سے قبل میں انہیں جانتا تک نہیں تھا۔
اپوزیشن اس معاملے پر شدید تنقید کر رہی ہے کہ بشیر میمن کے دعوے کے مطابق وزیر اعظم ڈی جی ایف آئی پر مخالفین کو زیر عتاب لانے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے۔ اصولی طور پر اپوزیشن کا احتجاج درست ہے کیونکہ جو الزامات اپوزیشن موجودہ حکومت پر لگاتی ہے کہ حزب اختلاف کی قیادت اور رہنماؤں کے خلاف کارروائیوں کے لئے براہ راست وزیر اعظم عمران خان حکم دیتے ہیں ایک لحاظ سے ان کی گواہی مل گئی ہے۔ جب تک ان الزامات کی تحقیقات نہیں ہو جاتیں اپوزیشن یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کارروائیاں وزیراعظم ہاؤس سے مانیٹر ہوتی ہیں۔
اسی دوران سپریم کورٹ کے دس رکنی لارجر بنچ نے اپنے سینئر جج عزت مآب جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں جسٹس فائز عیسی کی اہلیہ اور بچوں کے نام پر موجود غیر ملکی جائیدادوں کی ایف بی آر کی طرف سے چھان بین کے حکم کے خلاف دائر کی گئی نظر ثانی کی اپیلیں چار کے مقابلے میں چھ کی اکثریت سے منظور کرلی گئی ہیں اور اس سلسلے میں ایف بی آر کی طرف سے اب تک کی گئی تمام کارروائی کو بھی غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال جون میں سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف دائر صدارتی ریفرنس کے فیصلے میں ایف بی آر کو ان کی اہلیہ اور بچوں کے نام غیر ملکی جائیدادوں کی چھان بین کا حکم جاری کیا تھا۔ گویا ایک لحاظ سے یہ حکومت کے لیے کھلی ہزیمت کی بات ہے اور مذکورہ عدالتی حکم اور ایف آئی اے کے سابق ڈی جی بشیر میمن کے انکشافات کے بعد ریفرنس کے خالقین کی بد نیتی کے بارے کوئی ابہام باقی نہیں رہا۔ کسی بھی مہذب جمہوری ملک میں اس قسم کی مثال نہیں ملتی، اور اگر کسی اور ملک میں ایسا ہوا ہوتا تو اب تک پوری حکومت مستعفی ہو چکی ہوتی۔
سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے اور بشیر میمن کے انکشافات کے بعد پوری حکومت بیشک استعفی نہ دیتی کم از کم مذکورہ تمام لوگوں کو ازخود تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دینا چاہیے تھا۔ لیکن اس کے بجائے وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے بشیر میمن کو 50 کروڑ روپے کا قانونی نوٹس بھیج دیا ہے اور وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم کہتے ہیں کہ بشیر میمن کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ وہ خود لڑیں گے۔
کاش وزیراعظم اور ان کے رفقاء کو اب ہی یہ بات سمجھ آ جائے کہ احتساب سے متعلقہ اداروں کو آزادانہ کام کرنے دیا جاتا اور خود حکومت کی تمام توجہ گورننس اور معیشت پر ہوتی تو نہ صرف احتساب میں کامیابی ہو سکتی تھی بلکہ وزیر خزانہ کو بھی یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہونی تھی کہ چار سال بعد ملک کا اللہ ہی حافظ ہوگا۔ حکومت کی احتساب کے نام پر انتقامی کارروائیوں سے آج جی ڈی پی گروتھ منفی میں جا چکی ہے۔ یہ کس قدر خوفناک بات ہے یہ سمجھنے کے لیے ماہر معیشت ہونا لازمی نہیں۔
ملک کو اگر آگے چلانا ہے تو جلد سے جلد جی ڈی پی گروتھ کم از کم چھ فیصد کی سطح پر لانا لازمی ہے کیونکہ ہماری آبادی میں اضافے کی شرح ہی تین فیصد سالانہ ہے۔ اس کے علاوہ آئی ایم ایف سے نئے سرے سے مذاکرات بھی لازم ہیں اور یہ کام اپوزیشن کو آن بورڈ لیے اور انتقامی نفسیات پر قابو پائے بغیر نہیں ہو سکتے۔ ورنہ جو حالات ہیں حکومتی مدت پوری ہونے تک واقعی ملک کا اللہ ہی حافظ ہوگا۔


