اودغاں کی دعوت | AUDRAN ’S FEAST
ایسا شاید ہی کبھی ممکن ہے کہ کسی فرانسیسی اداکارہ سے آپ کا تعارف کسی ڈینمارک کی فلم کے ذریعے ہو۔ لیکن میرے ساتھ ایسا ہی ہوا ہے جب اتفاق سے ڈینمارک کی فلم ”BABETTE ’S FEAST“ یعنی بابیت کی دعوت دیکھنے کے بعد میں نے استے فین اودغاں ( STEPHNE AUDRAN ) کی کئی فلمیں دیکھیں۔ آپ چاہیں تو اودران ( AUDRAN ) کو فرانسیسی انداز میں اودغاں بھی پڑھ سکتے ہیں۔
اودغان جو 2018 میں پچاسی برس کی عمر میں فوت ہوئی 1960 اور 1970 کے عشروں میں اپنے عروج پر تھی مگر غالباً اس کی سب سے اچھی اداکاری 1987 میں پچپن برس کی عمر میں سامنے آئی جب اس کو BABETTE ’S FEAST ( بابیت کی دعوت ) نامی فلم میں بہترین غیر ملکی فلم کا آسکر انعام ملا۔
جس طرح JEANNE MOREAU ( جین مورو یا موغیو ) کہ ابتدائی کام یابی کا سہرا اس کے ہدایت کار اور محبوب ( LOUISE MALLE ) ”لوئی میل“ کے سر تھا اسی طرح اودغاں کو شہرت دلانے میں ”CLAUDE CMABROL“ یا کلوڈ شیب غول نے اہم کردار ادا کیا جو ان ہدایت کاروں میں تھے جنہوں نے FRENEN NEW WAVE یا فرانسیسی سینما کی نئی لہر کا آغاز کیا تھا۔
اس گروہ کے دیگر ہدایت کاروں میں GODARD ( گوداغ ) ، TRUFFAUT ( تغوفو) ، اور ROHMER ( غومیغ ) شامل تھے۔ یہ سب شروع میں CHABROL ( شیب غول ) کی طرح فرانس کے بڑے فلمی رسالوں میں فلموں پر تنقیدی تبصرے لکھتے تھے۔ شیب غول کی مشہور فلموں میں LES COUSINS (1958) LES BICHES ( 1968 ) اور LE BOUCHER شامل ہیں جس میں اس نے فرانسیسی سماج کی منافقت پر تنقید کی ہے۔
ان فلموں میں اودغاں نے اہم کردار ادا کیے۔ شیب غول نے کل چوبیس فلمیں اودغاں کے ساتھ بنائیں جس سے وہ فرانس میں اداکاراؤں کی صف اول میں شامل ہو گئی۔ LES COUSINS ( لی کوزاں ) میں فرانسیسی سماج میں زوال اور بے حسی دکھائی گئی ہے جس کا سامنا محنت کرنے والوں کو کرنا پڑتا ہے۔ اس فلم میں ایک نوجوان گاؤں سے پیرس آ کر تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے۔ یہاں وہ اپنے ایک بدکردار کزن پال کے ساتھ رہتا ہے۔ اس فلم میں اودغاں نے پہلا اہم کردار ادا کیا۔
1964 میں اودغاں نے شیب غول سے شادی کرلی اور زیادہ تر اسی کی فلموں میں آئی۔ اس کی اگلی اہم ترین فلم LES BICHES ( لے بیشے ) تھی جس کی بڑی تعریف ہوئی۔
اس فلم میں اودغاں نے ایک بالادست اور مال دار عورت کا کردار نبھایا جو عورتوں اور مردوں دونوں سے لطف اندوز ہوتی ہے یعنی BISEXUAL ہے۔
اسے فٹ پاتھ پر ایک غریب نوجوان اور خوب صورت لڑکی مل جاتی ہے۔ گو کہ امیر کے ہاتھوں غریب کا استحصال کوئی نئی کہانی نہیں لیکن ایک غریب لڑکی کا ایک امیر عورت کے ہاتھوں استحصال وہ بھی جنسی نوعت کا ضرور نئی بات تھی، اب یہ سب اس سے پہلے بھی ہوتا ہوگا مگر فلم کی اسکرین پر یہ سب دکھایا جانا ایک اچھوتا تجربہ ضرور تھا۔ LE BICHES ( لے بیشے ) ایسے محبت کرنے والوں کی درد ناک داستان ہے جو اپنے طبقاتی اور جنسیاتی کرداروں سے بھی الجھے ہوئے ہیں۔ اس فلم میں اودغاں ( AUDRAN ) نے اس مفلس اور فن کی دل دادہ نوجوان دوشیزہ کا کردار کمال خوبی سے نبھایا ہے۔
1970 میں CHABROL ( شیب غول ) نے THE BUTCHER ( قصائی ) نامی فلم بنائی جس میں اودغاں اپنی بہترین کارکردگی دیکھاتی ہیں۔ اس فلم میں ایسے جنگ جو ہیرو دکھائے ہیں جو اخلاقی پستیوں کو چھو رہے ہیں۔
وہ لوگ جو جنگوں میں بے شک شان دار کارنامے انجام دیتے ہوں جب عام زندگی میں واپس آتے ہیں تو ان کے رویے پرتشدد ہوچکے ہوتے ہیں۔
اس فلم کو جنگ عظیم دوم کے بعد کی بہترین فرانسیسی فلم قرار دیا جاتا ہے۔ اس میں ایک ایسے قصائی کی کہانی ہے جو ایک اسکول کی سربراہ سے محبت میں مبتلا ہوجاتا ہے اور وہ اودغاں ہے۔ وہ اس قصائی کی بہترین دوست بن جاتی ہے مگر جسمانی تعلق سے گریز کرتی ہے۔
گو کہ اس وقت اودغان چالیس سال کی تھی وہ فلم میں خاصی جوان دکھائی دیتی ہے اور ایک تیس سالہ استاد کا کردار خوب نبھاتی ہے۔
اس کی اگلی شان داد فلم LUIS BUNUEL ( لوئی بون ویل ) کی فلم THE DISCREET CHARM OF THE BOURGEOSIE ( 1972 ) میں ہے اس میں ہسپانوی ہدایت کار بون ویل نے ستر سال سے زیادہ ہونے کے باوجود بہترین ہدایت کاری کی ہے۔
بون ویل ( BUNUEL ) خاموش فلموں کے دور سے ہدایت کاری کر رہے تھے اور ان کی زیادہ تر فلمیں بڑی انقلابی نوعیت کی تھیں جنھوں نے روایات کو توڑ کر رکھ دیا۔
بون ویل کی ابتدائی فلمیں مثلاً LOS OLVIDADOS جو 1950 میں بنی اور BELLE DE TOUR جو 1967 میں بنی اور بہت مشہور ہوئیں۔ اور اب اودغاں کے ساتھ ایک اور شاندار فلم بنارہے تھے لیکن اگر آپ خوابیدہ معاملات اور متوازی بیانیے کے شوقین نہیں تو آپ کو یہ فلمیں پسند نہیں آئیں گی۔
بیل دی ٹور ( BELLE DE JOUR ) ایک انتہائی نئی نوعیت کی اور پریشان کن فلم ہے جسے بہترین غیر ملکی فلم کا آسکر انعام ملا اور اودغاں کو بہترین اداکارہ کا بافٹا ( BAFTA ) ایوارڈ بھی۔
لیکن اودغاں کی بہترین اداکاریBABETTE ’S FEAST (بابیت کی دعوت ) میں سامنے آئی جسے گبریل ایکسیل ( GABRIEL AXEL ) نے ہدایت کاری دی۔ ڈینمارک کی اس فلم میں اودغاں نے ایک پراسرار باورچن کا کردار ادا کیا ہے۔
یہ باورچن 1870 کے عشرے میں ڈنمارک کے ایک دور افتادہ اور چھوٹے سے گاؤں میں دیہاتی لوگوں کے ایک جمگھٹ میں شاندار کام کرتی ہے۔
اس باورچن کی نہایت اعلی درجے کے پکوان کو دیکھتے ہوئے مزہ آ جاتا ہے۔ اس میں اودغان کی باورچن اپنی تمام نفاست اور شائستگی کے ساتھ نمودار ہوتی ہے۔
اس فلم میں بابیت نامی باورچن جس کا کردار اودغاں نے ادا کیا دراصل ایک طرح کی جلا وطنی میں ہے جو بل آخر باورچی خانے میں اپنے چھپے ہوئے راز افشا کرتی ہے۔
اس کے مہمان زیادہ تر ان پڑھ دیہاتی لوگ ہیں جو اس طرح کی دعوت سے قطعی نا بلد ہیں۔ اب جب انہیں یہ شان دار دعوت ملتی ہے تو وہ حیران پریشان رہ جاتے ہیں اور کھانے کا اتنا لطف اٹھاتے ہیں کہ ان کے پاس شکریہ کے الفاظ تک نہیں ہوتے۔
اودغاں نے کچھ انگریزی فلموں میں بھی کام کیے مثلاً سیم فلر ( SAM FULLER ) کی 1980 میں بننے والی فلم THE BIG RED ONE بھی ہے جس میں اودغاں کا مختصر مگر طاقت ور کردار ہے۔
جب 2018 میں اودغاں ( AUDRAN ) کا انتقال ہو تو بلاشبہ دنیا ایک بڑی اداکارہ سے محروم ہو گئی جس نے زیادہ تر ایک امیر عورت کے کردار ادا کیے لیکن وہ ایک اسکول کی استانی کے روپ میں بھی بہت اچھی اداکاری کر سکتی تھی اور ایک باورچن کے روپ میں بھی۔
اس کے کردار ڈرامہ سے لے کر مزاحیہ کرداروں تک پھیلے ہوئے ہیں مگر غالباً سب سے شان دار اداکاری BABETTE ’S FEAST ( بابیت کی دعوت ) میں ہی ہے جو اس کی یادگار فلم رہے گی۔ اس فلم کی کہانی ISAK DINESON نے لکھی جس میں ایک فرانسیسی عورت کو پیش کیا گیا ہے جو ڈنمارک کے دور افتادہ گاؤں میں کمال دکھاتی ہے۔





