لوح جہاں پر حرف مکرر نہیں ہوں میں – اکرم ڈوگر کی یاد میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خواب دیکھنا شاید کوئی ایسا غیر معمولی عمل نہیں کہ اس پر حیرت ہو یا اس پہ رشک کیا جائے۔ ہاں آنکھوں ( اور خیالوں ) میں بسے خواب کے لئے، مسلسل تعاقب کرنے اور اس کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے سرگرداں جنونی ( اور سودائی ) ، ہمارے معاشرے میں عموماً ”کم دیکھنے میں آتے ہیں اور ان میں، وہ دیوانے اور بھی نایاب ہیں جن کے خواب اپنی ذات سے بالا ہوں ( مگر وہ اس کی دھن میں ہمہ وقت، یوں مضطرب ہوں جیسے، تھوڑی سی کوتاہی یا صرف نظر، اس خواب کے حصول میں کوئی رکاوٹ نہ کھڑی کر دے۔ )

یہی وجہ ہے کہ ایسے دل جلے، ان ہی خصوصیات کی وجہ سے، ہجوم سے مختلف اور عام سے خاص گردانے جاتے ہیں کہ ان کے خواب، خود غرضی سے (یکسر ) دور، نرگسیت سے ( قطعی ) لاتعلق، خود نمائی سے ( سراسر ) تائب اور صرف اور صرف انسان دوستی میں لپٹے ہوتے ہیں۔ یہ وہ جنونی ہیں جو خود سے لا پرواہی برت کر اپنے ارد گرد کے بے زبانوں کی زبان اور ان کی خاموشی کی پکار بننا چاہتے ہیں۔

یہ کہانی بھی ایک ایسے جنونی کی ہے جس پر زمانہ طالب علمی سے ہی، لفظ ”طالب علم“ کا حقیقی مفہوم آشکار ہو چکا تھا۔ وہ مفہوم جسے محض اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے دائرے میں مقید نہیں کیا جا سکتا۔ شاید اسی لئے روایتی تدریسی نصاب اس کے لئے مجبوری کا سودا، جبکہ کتابوں، رسالوں اور دینا بھر کی تحریروں سے عشق، اس کا اختیاری فیصلہ تھا۔ خوشی، اس کے لئے کسی پسندیدہ کتاب کا اچانک کہیں مل جانا تھا اور غم، کسی فکر انگیز دانشور کے ساتھ اچانک رابطے سے محرومی۔

جہاں اور جب کسی اچھی کتاب کا ذکر سنا، (جس قدر ممکن ہوا ) ذخیرے میں اضافے کی خواہش کم نہ ہوئی۔ یہی حال دانشوروں سے ملنے، انھیں ڈھونڈنے، انھیں جاننے اور ان سے ( کچھ ) پانے کی ان مٹ تڑپ کا تھا۔

ایک لکھاری کی تحریریں بہت پسند آئیں۔ ان کا ٹھکانہ لاہور نکلا۔ اب یہ تڑپ شروع ہوئی کہ کراچی یونیورسٹی میں ہوتے ہوئے، کیسا رابطہ ہو اور کس طور، دلی جذبات گوش گزار ہوں۔ تب رابطے کا واحد ذریعہ سوائے خط کے اور کچھ نہیں تھا۔ مسلسل تگ و دو کے بعد کہیں سے سچی طلب نے رنگ دکھایا اور مطلوب کا پتہ ہاتھ آ ہی گیا۔ خط پوسٹ کرتے ہوئے خوشی، دیدنی، جیسے کوئی معرکہ سر کر لیا ہو۔ جواب ملنے پر اس سے زیادہ احساس طمانیت، جیسے کوئی لاٹری نکل آئی ہو!

ادبی سنگت ہو، دانشوروں کی بیٹھک ہو یا موسیقی کی محفل، کان میں بھنک پڑنے کی دیر، اور اس میں شرکت کی خاطر دوسرا ہر کام ملتوی! یاروں سے ایسی یاری کہ ہر عمل میں سب کو اپنا ہم راہی بنانا، پہلی ترجیح، کوئی میسر نہ ہوا تب بھی اپنا ارادہ اتنا ہی مصمم۔ اگر راہ میں کسی مشکل کا اندیشہ بھی ہو، تو وہ بھی، دل و جاں سے قبول اور عزم اتنا ہی اٹل!

کراچی آرٹس کونسل ( یا پریس کلب ) میں ایک تقریب جو رات گئے انجام پذیر ہوئی۔ صدر بازار سے چلنے والی یونیورسٹی کی بس سروس کبھی کی اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو چکی! پریشانی سامنے ہے، پھر بھی پریشانی کی کوئی بات نہیں، سوچا اب کیا کیا جائے۔ جذبہ ملاحظہ ہو، طے ہوا کہ بازار میں پھیلے ان خالی تھڑوں میں سے کسی ایک پر جیسے تیسے رات گزاری جائے اور ان کے مالکان کے آنے سے پہلے ہی صبح صبح، یونیورسٹی کی پہلی بس سے ہوسٹل کی راہ لی جائے۔

یونیورسٹی کا وہ زمانہ جب نوجوان، اپنی عمر کے سہانے خواب دیکھتے ہیں، ادھر، اپنے خواب سے ہٹنے پر کوئی آمادگی ظاہر نہیں کی گئی اور ہر محفل میں بیداری کا علم اٹھائے رکھا۔ جب کہیں، جہاں کہیں موقع ملا، محروموں اور مظلوموں کی ترجمانی ہی پیش نظر رکھی۔ اپنی کتابوں میں پھول رکھنے کی بجائے، کانٹوں سے دوچار خلقت کے دکھوں کو ہر لفظ کے پیچھے محسوس کیا اور، مقدور بھر، اسے اپنے حلقہ اثر میں عام کرنے کی ( سر توڑ ) کوشش کی۔

وہ معاشرہ جہاں تعلقات کی تشکیل محض اپنے مفادات کی تکمیل کے لئے ہو، وہاں بہ بانگ دہل، سچ بولنے کی ڈگر اختیار کر کے تعلقات پوری جرات مندی سے بگاڑ لئے مگر راہ نہ بدلی۔ ایک دیرینہ شناسا وزیر کی گاڑی میں بیٹھ کر، کسی ( ذاتی ) گھٹیا درخواست کی منظوری لینے کی بہ جائے، اپنے تمام تر تعلقات کو پس پشت ڈالتے ہوئے، انھیں بتایا اور جتایا کہ ان کی ذمہ داری کیا ہے اور ان کی کارگزاری کیا ہے۔ دلی جذبات کو اس پر بھی تشفی نہ ہوئی تو انھیں، ان ہی کی گاڑی میں بیٹھ کر، اگلے انتخابات میں شکست کی نوید سنا ڈالی ( اور اسے اتفاق یا قبولیت کا لمحہ کہیے کہ یہ دعا سنی بھی گئی) ۔

مزاج اور شخصیت کی طرح، لہجے میں بلا کی سادگی جبکہ گفت گو اور دلائل میں متاثر اور قائل کرنے کی بے حساب صلاحیت! اپنے خواب کی وکالت کے لئے، ہر جگہ، ہر لمحے، تیار۔ مطالعے کی عرق ریزی کے ساتھ، عقلی نکات کی ایسی آمیزش کہ مقابل متفق ہو نہ ہو، ان پر سوچنے پر ضرور مجبور ہو۔ پاکستان ٹیلیوژن کے ایک نہایت سینئر ڈائریکٹر کو، ادارے کی بہتری کی تجاویز ارسال کیں۔ دانشمندانہ تحریر نے کسی موقع پر اسلام آباد میں ملاقات کی صورت نکالی۔ مصروفیت کے پیش نظر دس پندرہ منٹ کی ملاقات طے تھی مگر متاثرکن تجاویز اور مدلل مشوروں نے اس ملاقات کو بہ رضا و رغبت پانچ گھنٹوں پر پھیلا دیا۔

بڑے ایوانوں میں بیٹھے فیصلہ سازوں سے جب ملے، دل کھول کر، دل کے پھپھولے پھوڑے اور جی بھر کر، جی کی بھڑاس نکالی۔ کسی رعایت کو روا نہ رکھا، ایسے جیسے اب نہ کہا تو قرض رہ جائے گا۔ ایسی جگہوں کے لئے، یہ دلیل ہمیشہ زور شور سے اجاگر کی کہ ان ایوانوں میں موجود ذہنوں میں وہ عام سے خیالات کیوں نہیں آتے جو فٹ ہاتھ پر چلتا ہوا ایک ان پڑھ اپنی تمام تر بے خبری، نا تجربہ کاری، اور کم فہمی کے باوجود، ملک کی بہتری کے لئے سوچ رہا ہوتا ہے۔ ان ایوانوں کی ان کرسیوں میں ایسا کیا ہے جو ان کے ذہنوں میں ان سطحی اور سادہ سی باتوں کو آنے سے روک دیتی ہے۔

جو اسے جانتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ وہ انسانی معاشرے، معاشرے کی بدلتی حالت اور اس بدلتی حالت کو انسانیت کے معیار کے مطابق بدلنے کی حسرت میں، کیا کچھ جانتا تھا اور کیا کچھ جاننے کے لئے ہمیشہ سرگرداں رہا۔

دوستوں کے حصار میں، اپنے خواب کی تڑپ لئے، اس کا اثاثہ اور کچھ نہ تھا، سوائے تجسس، جستجو، تحیر اور تحرک کے!

1980 کی دہائی میں جامعہ کراچی سے صحافت کے مضمون میں فارغ التحصیل، یہ روایت شکن، صاف گو اور جرات مند شخصیت جسے محمد اکرم ڈوگر کے نام سے پہچانا گیا، پچھلے سال مئی ( اور رمضان ) کے مہینے میں اپنے آبائی شہر فیصل آباد، میں، سب کو اداس کر کے سفر آخرت پر روانہ ہوئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *