جوش صاحب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حلقۂ ارباب ذوق واشنگٹن میں پڑھا گیا مضمون۔

جوش صاحب ماشا اللہ، شخصیت کے لحاظ سے بھی، اور شاعری کے لحاظ سے بھی بہت بھاری بھرکم تھے۔ میں ان کی قادر الکلامی کی قائل ہوں، کیا نظمیں، کیا مناجات اور رباعیات۔ جو شاعری کی بھرپور کی۔

اپنے ایسے خیالات کا اظہار بھی برملا کر دیتے تھے۔ جن پر لوگ برا مان جاتے تھے۔ کبھی مولائے کائنات کو پکارتے ہیں کہ وہ ان کو آواز دے اور کبھی جبرائل سے طاقت پرواز مانگتے ہیں۔ کسی کو سود خور مولوی کہہ دیا۔ ایسے خیالات کی مذمت میں افکار رسالے کو ان پر نمبر نکالنا پڑا۔ (بھلا کس کے لئے کہا، میں تو نہیں کہہ سکتی۔ ”اپنی پوری کتاب دیدی، ہم تو کسی کو ایک شعر نہ دیں۔“ )  ایولیوشن کے سلسلے میں کہا۔ کہ فی الحال تو دم ہی جھڑی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جوش صاحب تشکیک کا شکار تھے، یا یقین و شک کے درمیان رہتے تھے جیسے اور بھی کوئی لوگ رہتے ہیں مگر اس طرح اظہار نہیں کرتے۔

شاید میرا ایک شعر جوش صاحب پر صادق آتا ہو۔ ع گماں، خیال، یقیں ایک سر میں رہتے ہوئے۔ ہے اختلاف بہت ایک گھر میں رہتے ہوئے۔

بہرحال۔ میرے مضمون کا عنوان ہے :جوش شاعر جو نہ ہوتے تو مصور ہوتے۔ ایک طرح سے مصور تو ہیں ہی، جیسے کہ انھوں نے رقص کو اعضا کی شاعری کہا ہے۔ اسی طرح ان کی نظمیں مصوری کے شاہکار ہیں۔ رینا سان کے شہرۂ آفاق مصوروں نے اپنی تصویروں میں خواتین کو خاصی اہمیت دی ہے، یہ روایت بہت حد تک جوش صاحب نے بھی روا رکھی ہے۔

جوش صاحب کی نظموں کے نام ہی تصاویر ہیں، مالن، جامن الیاں، کوہستان دکن کی عورت، رقاصۂ میکدہ، حسن بیمار، گنگا کے گھاٹ پر اور جمنا کے کنارے۔

ان کی نظمیں پڑھئے اور سر دھنیے۔ اب اشعار ملاحظہ کیجئے۔
ایک دوشیزہ سڑک پر دھوپ سے ہے بے قرار۔ چیتھڑوں میں دیدنی ہے روئے ے غمگین شباب۔
گرد ہے رخسار پر، زلفیں اٹی ہیں خاک میں۔ نازکی بل کھا رہی ہے دیدۂ نمناک میں
کوہستان دکن کی عورتیں۔ یہ ابلتی عورتیں اس چلچلاتی دھوپ میں، سنگ اسود کی چٹانیں آدمی کے روپ میں
عارضوں میں جامنوں کا رنگ، آنکھیں بے مثال۔
جامن والیاں، آ رہی ہیں ناز سے نوخیز جامن والیاں۔ اور عارض گلرنگ پر ایک پھول سا کھلتا ہوا۔

آپ کی نظر میں بنی بنائی تصویریں پھر رہی ہے نا، تبھی تو میں کہتی ہوں جوش صاحب الفاظ کے مصور ہیں۔

جوش صاحب کی ان نظموں پر، ( مالن، جامن والیاں، کوہستان دکن کی عورت، رقاصۂ میکدہ، گنگا کے گھاٹ اور جمنا کنارے۔ ) بنائی ہوئی تمام تصویریں اس قابل ہوتیں کہ دنیا کی مشہور ترین میوزیم اور آرٹ گیلریز ان پر فخر کرتیں۔

اگر جوش صاحب الفاظ کے بجائے لکیروں سے اور رنگوں سے کھیلتے تو ہم جنگل کی دوشیزہ کو ساٹھ شعروں میں پڑھنے کے بجائے بہ یک نظر دیکھ کر واہ واہ کرتے اور مجھے یقین ہے کہ وہ عالمی زبان میں لکھی جانے کے سبب پیرس کے میوزیم لوور میں، مائیکل اینجلو کی مونا لیزا کے برابر میں جگہ پاتی۔ ہو سکتا ہے جوش صاحب کی تصویر دیکھ کر دیکھنے والے مونا لیزا کی پراسرار مسکراہٹ کو بھول جاتے جو ہونٹوں سے زیادہ آنکھوں سے عیاں ہے۔

”گنگا اشنان“ والی تصویر کلاڈمو نے کی۔ ”باتھ آف شیبا“ سے ٹکر لیتی اور اسی طرح میوزیم اور آرٹ کی کتابوں میں اس کے برابر جگہ پاتی۔

میرا تو یہ بھی خیال ہے کہ من کی جیت فلم کے لئے جو گانا۔ ناچ کے لئے انھوں نے لکھا تھا، اور جو میں نے چودا پندرا سال کی عمر میں سنا اور دیکھا تھا، اگر اس گانے کو وہ ذرا احتیاط کے ساتھ تصویر کر دیتے تو وہ بہت حد تک معصوم ہوجاتا او شاید اس کا شمار عمدہ تصویروں میں ہوتا۔

اب جوش صاحب مصور تو نہیں البتہ الفاظ کے بادشاہ کہلاتے ہیں، شہنشاہ کہہ دیا جائے تب بھی غلط نہیں ہوگا۔ سنا ہے دو ادیب جوش صاحب پر باتیں کر رہے تھے۔ ایک نے پوچھا ان کی شاعری کے ڈکشن کے بارے میں کہیے۔ دوسرے ادیب نے جواب دیا۔ کیسا ڈکشن، ان کے پاس تو پوری ڈکشنری ہے۔

میں بھی یہی سوچتی ہوں، کیا الفاظ ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہوں گے؟ یا پیروں میں خوشامدانہ بیٹھے رہتے ہوں گے؟ ، یا جب وہ بلاتے ہوں گے تو قطار در قطار سامنے سے گزرتے ہوں گے

میں جوش صاحب سے ملتی تو یہ بات پوچھتی، مگر میں جوش صاحب سے کبھی نہیں ملی اگر موقع بھی ہوتا تو شاید میں سامنے نہ جاتی، اس ڈر سے کہ کسی لفظ کا غلط تلفظ منھ سے نکل تو کیا ہوگا۔ آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ وہ غلط تلفظ یا خط املا ہرگز برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ فوراً ٹوک دیتے تھے۔ کسی نے کہا میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ کہا سوال پوچھا نہیں جاتا کیا جاتا ہے۔ کسی نے کہا میں آپ کو کار تک چھوڑ آؤں۔ کہا کیا میں کوئی بکری یا بندر ہوں جو آپ مجھے چھوڑ دیں گے۔ وہ مشہور واقعہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا کہ باتوں میں عصمت آپا نے کہیں دِماغ کہہ دیا۔ جوش صاحب نے فوراً ٹوکا، دِماغ نہیں دَما۔ غ۔ عصمت پا آخر چغتائی تھیں فوراً بولیں،

” جوش صاحب دماغ آپ کا ہوگا، ہمارا تو دماغ ہی ہے۔“

سو ہوتا کیا۔ ہم تو رعب کے مارے تھر تھر کانپتے جاتے، جانے کیا کہنا چاہتے، اور منھ سے کیا نکلتا، وہ تو ؑعصمت تھیں خدا جانے ہم سے کیا کہہ دیتے۔ سو دید سے محروم رہ گئے، خیر ان سے ملنے کے اتنے مشتاق بھی نہیں تھے۔ باقی حد ادب اور شکریہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *