زندگی کا سفر


رزندگی کیا ہے یہ سلیقہ سیکھ لیا
اپنے آپ سے محبت کرنا سیکھ لیا

زندگی کہ کتنے برس گزر گئے اور ہر ایک گزرتے برس میں نیا کچھ سیکھنے کو ملا۔ کبھی وقت کچھ نیا سیکھا لیتا تو کبھی لوگ، یا تو کبھی حالات۔ ہر موڑ پہ نیا سیکھنے کو ملا۔

ہر بدلتے موڑ پر ایک بات جو میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ آخر وقت، حالات اور لوگ اتنی جلدی کیسے بدل جاتے ہے؟ آخر کیا وجہ ہے جو یہ سب پلک جھپکتے بدل جاتے ہے؟

اپنی زندگی کہ ہر سال مجھے کچھ نہ کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے کبھی اچھے حالات سے تو کبھی آزمائشوں سے۔ کبھی کچھ نئے لوگوں سے تو کبھی پرانے لوگوں سے جو میری زندگی میں ہے۔

جیسے جیسے وقت گزرتا ہی جا رہا ویسے ہی زندگی ایک نیا سبق سکھاتی ہے۔ کبھی اچھے حالات سے تو کبھی آزمائشوں سے۔ کبھی لوگوں کہ ساتھ رہنے سے تو کبھی لوگوں کہ جانے سے۔ ہر موڑ پر کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔ لوگ برے نہیں ہوتے بس ہم حد سے زیادہ امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں تبھی میں زندگی کہ اس موڑ پر کھڑی ہوں کہ جہاں ہر ایک میں مجھے منافقت نظر آتی ہیں۔ لوگوں سے ایسے بے دل ہوئی ہو کہ کوئی حد نہیں۔

جب کچھ لوگوں کی حقیقت کے دروازے کھولے تو سب کے لئے اعتبار کہ دروازے بند ہوئے۔ اب کوئی اچھا بھی کرتا ہے تو سنبھل کہ چلتی ہوں۔ میں جو سمجھتی تھی کہ میں سب سے ہوشیار و سمجھدار لڑکی ہوں لیکن اب میں سمجھتی ہوں کہ نہیں میں ایک کم عقل لڑکی ہوں، جو ہر کسی کو فرشتہ صفت انسان سمجھ لیتی ہوں۔

ایک اور سبق جو سیکھنے کو ملا کہ اس دنیا کی بھیڑ میں آپ کہ ساتھ اچھے لوگ جو آپ کہ خیرخواہ ہوتے ہیں وہ بہت ہی کم آپ کو نظر آئیں گہ لیکن منافقین آپ کو ہر طرف ہی نظر آئیں گے۔ جب لوگوں کا آپ سے مطلب ہوگا تبھی وہ آپ کہ پاس رہیں گے ورنہ نہیں۔ اور جب تک لوگوں کے ساتھ ہنس کہ باتیں کرو گے تب سب آپ کہ ساتھ ہوں گے اور جب آپ اپنا دکھ بانٹنا چاہوں گے تو کوئی پاس نہیں ہو گا۔ کیونکہ یہاں لوگوں کا یہی ہی معیار ہے۔ لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ جب بھی میں ٹوٹنے لگتی ہو تو ایسے لوگ سہارا بن جاتے ہے کہ اپنی قسمت پر یقین نہیں آتا۔

کچھ ایسے لوگوں سے واسطہ بھی پڑا ہے جو بظاہر تو میری ساتھ رہے لیکن اصل میں میرے ساتھ نہیں۔

کچھ ایسے حالات کا سامنا بھی کرنا پڑا کہ جب لگا کے بس اس کہ بعد میں نہیں جی پاو گی میں نہیں ہنس پاؤ گی۔ لیکن جب جب میں ایسے حالات سے گزری ہوں تو اس کی بعد جو مضبوط میں بن جاتی ہو پھر شکر ہی ادا کرتی ہوں۔ کیونکہ تلوار کو جتنا بھی گرم کرو وہ اتنا ہی مضبوط بنتا ہے۔

یہ نہیں ہے کہ میری زندگی میں خوشیاں ہی نہیں ہے لیکن میں نہیں چاہتی کہ میری خوشیوں کو نظر لگے کیونکہ میں جب بھی زیادہ خوش ہوئی ہو تو اتنی ہے میں روئی ہو۔ مجھے اس بات کو شکوہ بالکل بھی نہی کیونکہ ہر امتحان کہ بعد کچھ نیا سیکھنے کو ملا۔

میں یہ نہیں کہتی کہ لوگوں کا ہی قصور ہے جو ہر وقت مجھے چونکا دیتے ہے اپنے رویوں سے شاید کہی نہ کہی میرا ہی قصور ہے کہ ان کہ ساتھ حد سے زیادہ جوڑ جاتی ہو اور امیدیں بندھنا شروع کر لیتی ہو۔

زندگی کہ اب تک کہ ہر آزمائش سے جب سبق سیکھنے کو ملتا ہے تو بعد میں شکر ہی ادا کرتی ہو یا اللہ تیرا شکر ہے کہ مجھے حقیقتوں سے واقف رکھا اور مجھے مضبوط بنایا۔ افسوس اس بات کا نہیں ہوتا کہ امیدیں کیوں ٹوٹ جاتی ہے افسوس اس بات کا ہوتا ہے امیدیں ہمیشہ اپنا کوئی توڑ دے۔ لیکن جو ہوتا ہے اچھے کے لئے ہی ہوتا ہے۔

اپنے زندگی کہ نئے سال کا آغاز اس دعا سے کرنا چاہو گی کہ یا اللہ میری عزت کو ہمیشہ محفوظ رکھنا۔ مجھے منافقین کہ شر سے بچا اور میری ذات سے کبھی کسی کو نقصان نہ دینا۔ جو میرے خیرخواہ ہے ان کو ہمیشہ میرے ساتھ رکھنا۔

میں ہاری نہیں ہو امید ابھی باقی ہے
نہ امید نہیں ہوئی یہی میری جیت ہے۔

Facebook Comments HS