رمضان سیریل چپکے چپکے


رمضان کے مہینے میں پیش کیا جانے والا ڈرامہ سیریل ”چپکے چپکے“ اس وقت ریٹنگ کے نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے سوشل میڈیا پر بھی اس کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے ابلاغیات کے ماہر جی گربنر نے 1976 ء میں تفصیلی انداز سے ”کاشت کا نظریہ“ پیش کیا تھا، جسے Cultivation Theory کہتے ہیں۔ بحوالہ Journal of Communication، 29 ( 10 ) ، 177۔ 196۔ ) ۔ گربنر کا پیش کردہ نظریہ کہتا ہے کہ ٹیلی ویژن آج کے معاشرے میں داستان گوئی کا اہم ذریعہ بن گیا ہے۔

ٹیلی ویژن کہانی پیش کرنے کا ایک مرکزی نظام ہے جس میں ڈراموں، اشتہارات، خبروں اور دیگر پروگراموں کے ذریعے ہر گھر میں اسی نظام کو بچپن سے کاشت کیا جا رہا ہوتا ہے جس کے اثرات سماجی حقیقتوں کے روپ میں انسانی اذہان میں کاشت ہو جاتے ہیں اور آپ کے ذہن میں وہ بات، منظر، فعل عملی طور پر منتقل ہوجاتا ہے۔ اس میں ایک بات کی مختلف انداز سے بار بار تکرار کے ذریعے ذہن سازی کردی جاتی ہے۔

اکیسویں صدی کی دو دہائیوں کے اختتام پر ٹیلی وژن ڈرامہ کی رسائی کروڑوں ذہنوں تک ہے اور مختلف ممالک کی حکومتیں ڈرامے کو سیاسی اور ثقافتی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ ٹیلی وژن ڈرامہ سینما سے بھی زیادہ متاثر کن میڈیم کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ اس کی بہترین مثال ترک طویل ڈرامے ”ارطغرل“ کی پوری دنیا میں دھوم ہے۔ ٹیلی وژن ڈرامے کی اس قدر افادیت اور اہمیت کے پیش نظر ضروری ہے کہ اسے یکسانیت اور اندھی تقلید سے بچایا جائے۔

اچھوتے خیالات اور مضبوط کہانیوں کے ذریعے انسان کو درپیش تہذیبی، سیاسی، معاشرتی، معاشی اور نفسیاتی چیلنجز کو سامنے لایا جائے۔ ڈرامے کی کامیابی اس حقیقت کا ادراک بھی ہے کہ انسان ابھی تک فنون لطیفہ کا دلدادہ اور امن پسند ہے۔ اگر یہ میڈیم بھی اپنی افادیت کھو بیٹھا تو عدم برداشت شدت پسندی اور آمریت کی بدترین شکلیں نمودار ہوں گی جو ہر تخیلاتی ذہن کو ختم کرنے کے درپے ہوں گے

ڈرامہ لکھنا جہاں ایک مشکل ترین آرٹ ہے، وہیں اردو ادیب کے لئے ایک دشوار کن مرحلہ اور بھی ہے اور وہ ہے عوام میں شامل ہونے کا احساس، عوام کے جذبات کی عکاسی، اخلاقی تقاضے، کردار سازی و کردار نگاری پر قدرت کاملہ کا ہونا، مکالموں کی برجستگی اور ان سب سے زیادہ، اپنے زمانہ، اپنے عہد کا ترجمان ہونا

شاید اسی لئے کہا گیا ہے کہ ڈرامہ احتجاج کی زبان اور دکھی دلوں کی پکار کا نام بھی ہے ڈرامہ ابتدا میں بھی، عوامی احتجاج کے طور پر اسٹیج ہوا۔ اور ارتقاء کی اتنی صدیاں گزرنے کے بعد بھی، وہ اسی عوامی صورت میں موجود ہے

لیکن پاکستان میں ٹیلی وژن ڈرامے کے کئی شیڈ موجود ہیں ڈرامہ سیریل ”چپکے چپکے“ سپرہٹ قرار پانے والے رمضان ڈرامہ سیریل ”سنو چندا“ کی رائٹر صائمہ اکرم چوہدری نے تحریر کیا ہے جبکہ ہدایتکار دانش نواز ہیں۔ اس کی کاسٹ میں عثمان خالد بٹ، عائزہ خان، میرا سیٹھی، اسماء عباس، علی سفینہ، یوٹیوبر ارسلان نصیر اور دیگر شامل ہیں۔

ڈرامہ سیریل ”چپکے چپکے“ دو خاندانوں کی کہانی ہے جو ایک دوسرے کے رشتہ دار ہونے کے علاوہ پڑوسی بھی ہیں۔ دونوں فیملیز کی دادیوں کے پاس جو آپس میں سوکن ہیں، کبھی نہ ختم ہونے والے گلے شکوے ہیں لیکن ان کے پوتے پوتیاں ذرا ہٹ کر سوچتے ہیں۔ ڈرامہ محبت، نفرت، حسد، دوستی، رومانس اور مزاح سے بھرپور ہے

ڈرامے کی کہانی فاعز اور ہادی کے گرد گھومتی ہے ’فاعز ایک مکمل لڑکی کی تلاش میں ہے جبکہ موخر الذکر نہ صرف اپنی نوکری سے جدوجہد کر رہا ہے بلکہ شادی کے پروپوزل کے حوالے سے بھی بد قسمتی کا شکار ہے۔ ڈرامے کی کہانی خاندانی‘ تناؤ ’مضحکہ خیز اور دلچسپ صورتحال کا بہترین امتزاج ہے

ڈرامہ نگار نے سماجی مسائل کو بڑے ہلکے پھلکے انداز میں ڈرامے کی زینت بنایا ہے کہا جاتا ہے کہ ادب میں اسی چیز کی عکاسی کی جاتی ہے جو سماج میں موجود ہو آج کے جدید دور میں بننے والا ڈرامہ بھی اپنے اندر موجود جدید سماج کے مختلف رنگوں کو لئے ہوئے ہے۔ پہلے ادوار میں جب انٹرنیٹ اور موبائل فون معاشرے کے ہر فرد کی دسترس میں نہیں تھے تو فرد خبر کا واحد اور بڑا ذریعہ مانا جاتا تھا گاؤں میں یہ کام چند عورتوں کے سپرد ہوتا تھا یا یوں کہہ لیں کے یہ ان کا مرغوب مشغلہ ہوتا تھا کہ ایک گھر میں ہونے والے معاملات کو دوسرے گھر مرچ مصالحے لگا کر سنانا جبکہ درمیان میں کچھ عرصہ تک یہ کام بچوں سے بھی لیا جاتا تھا جس گھر کی خبر معلوم کرنی ہو اس گھر کے بچے کو نہایت پیار دے کر ان سے اپنا کام نکلوایا جاتا تھا لیکن جدید دور میں زندگی میں مختلف کاموں کو سر انجام دینے کے طریقے بدل گئے ہیں ڈرامہ نگار نے بھی اسی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے بے بے اور اماں کی سٹیٹس کی جنگ صرف بے بے اور اماں کی جنگ نہیں بلکہ آج کے فرد کی زندگی کا عکاس ہے ہم کسی اچھی جگہ جائیں یا نہ جائیں شریکوں کو جلانے کے واسطے ہم یہ سب کرنا فرض سمجھتے ہیں اس ڈرامے سے ہمارے ہاں سوشل میڈیا کا زیادہ تر استعمال کیسے اور کس مقصد کے لئے کیا جاتا ہے یہ بھی دکھایا گیا ہے۔

ڈرامہ نگار نے آج کے سماج میں رشتے کی نوعیت کو بھی خوب باریک مگر ہلکے انداز میں سٹوری کا حصہ بنایا ہے ہمارے یہاں نسلوں سے چلے آنے والے مسائل جس سے نئی نسل کو نہ چاہتے ہوئے بھی نبرد آزما ہونا پڑتا ہے یہ کہانی بھی ایسے ہی مختلف مسائل کا بیان کرتے ہوئے دکھائی دیتی ہے بے روزگاری، پڑھائی کے حوالے سے ”مینو“ کی لاپرواہی اور شادی کے بطور ڈھال استعمال کرنا، گھر داماد کی کہانی رشتوں کا ناجائز حق جتانا جس کی بڑی مثال ”گل آپا“ کا کردار ہے جن کے ناک کے نیچے گل کھلانے سے کہانی مسلسل آگے بڑھتی ہے استاد جی کی لچکدار طبیعت نے کہانی کے درمیان میں ایسی رنگینی پیدا کی ہے کے سب کو حیران کر دیا ”مینوں“ کا کردار ایک ایسی لڑکی کا کردار ہے جس کی زندگی کا ہر سانحہ کسی دوسرے سانحے کی وجہ سے پیش آتا ہے امتحان میں فیل ہونا جس کے بعد شادی کا فیصلہ اور نکاح کے وقت اشعر کی بیوی کا آنا اور پھر استاد جی سے نکاح اور محبت یہ سب سانحات براہ راست ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں نہ جانے کہانی کی آخر تک ”مینو“ کن سانحات سے گزرے گی جبکہ دوسری طرف مشی اور ہادی کا تعلق کہانی میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا محسوس ہوتا ہے وہ بیچارے اپنے تعلق کو بچانے کے واسطے دونوں گھروں میں شدت پسند کرداروں کو نارمل کرنے میں لگے رہتے ہیں

جبکہ ولید ( کدو) مرچی ( منیبہ) اس کہانی کے ایسے ثانوی کردار ہیں جو مرکزی کرداروں کی کہانی میں کب کیسے کہاں اور کس طرح تبدیلی لانی ہے یہ سب خوب جانتے ہیں کفایت چاچا کے کردار کو جس طرح اسم بامسمی بنایا گیا ہے اس بات کی داد تو ڈرامہ نگار کو علیحدہ سے دینا بنتی ہے ڈرامہ نگار نے کہانی میں مکالموں کو نہایت احسن طریقے سے نبھایا ہے اور چند ڈائیلاگ تو کرداروں کی پہچان بن گئے

”میکوں جیون ڈے“ ”مینڈھا ہاں پیا سڑدا اے“ ”گھر دا پیر چل دا وٹا“ ”گل کے ہوتے کس نے گل کھلا دیا“ ”اشکے بھئی اشکے“ وغیرہ شامل ہیں

اماں جی کی زبان اور تکیہ کلام دیکھنے والوں کو خوب لطف مہیا کرتا ہے ڈرامے میں جب اماں سرائیکی میں کچھ بولتی ہے تو مشی رومی جواباً یہ کہتی ہیں کہ آپ کیا کہہ رہی ہیں اماں ہمیں سمجھ نہیں آتی یہاں ایک لسانی تناظر بھی پیدا ہوتا ہے کہ آج کی نسل اپنی مادری زبان سے اس طرح واقف نہیں بلکہ ان کے لیے مادری زبان کی تفہیم مشکل عمل ہے اس ڈرامے کی مقبولیت کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اس میں سماج میں موجود مختلف طرح کی زندگی گزارنے والے افراد کے رنگوں کو ایک کہانی کے کینوس پر بکھیر دیا گیا ہے انسانی نفسیات میں یہ چیز شامل ہے کہ اس سے اپنے یا اپنے سے ملتے جلتے عکس میں ہمیشہ کشش محسوس ہوتی ہے اور وہ اس کی طرف کھینچا چلا آتا ہے جبکہ اس ڈرامے میں بھی مختلف طرز زندگی کے لوگوں کا عکس مختصراً مگر واضح انداز میں دکھایا گیا ہے جس سے اس کی مقبولیت آئے دن بڑھتی جا رہی ہے بڑے ابا کی اچانک آمد، مینوں کی زبردستی رخصتی، اماں اور بے بے کی خاموشی اور تمام افراد کے نہ چاہتے ہوئے بھی بڑے ابا کی بات کو ماننا خاندانی روایات کی خوبصورت عکاسی ہے مینوں کی سسرال میں شروع ہونے والی نئی زندگی اب کن مراحل میں داخل ہوتی ہے جبکہ مشی اور اور ہادی کی محبت کو محبت کا رنگ ملتا ہے یا نہیں اس سب کے لئے ڈرامے میں بھی تجسس باقی ہے

Facebook Comments HS

One thought on “رمضان سیریل چپکے چپکے

Comments are closed.