”کھیچل“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

“اردو بازار گوجرانوالہ کے شروع میں جہاں ان دنوں فائر بریگیڈ اسٹیشن ہے وہاں ایک چٹیل میدان ہوا کرتا تھا۔ اس میدان کے ایک جانب مولانا محمد اسماعیل سلفی کی مسجد تھی اور دوسری جانب سوختنی لکڑی کا ٹال۔ پاکستان میں اس وقت ابھی سوئی گیس دریافت نہیں ہوئی تھی۔ سوئی گیس کی بدولت جلانے والی لکڑی کے ٹال ختم ہو گئے ہیں۔ اب اس میدان میں لکڑی کا ٹال نہیں رہا۔ البتہ مسجد موجود ہے۔ سڑک پار اک دار المطالعہ تھا۔ یہاں سبھی اخبارات اور رسائل پڑھنے کے لئے میسر رہتے۔

ایک بڑے سے کمرے میں اک بڑی ساری میز کے ارد گرد کرسیوں پر بیٹھے بہت سے لوگ مطالعہ میں مصروف دکھائی دیتے۔ ان دنوں ابھی کتابوں، رسالوں، اخباروں کے رقیب پیدا نہیں ہوئے تھے۔ یہ ٹی وی اور فیس بک سے پہلے کا زمانہ تھا۔ اب یہ دار المطالعہ بھی نہیں رہا۔ وہ فرصت کا زمانہ تھا اور وقت لوگوں کے پاس وافر۔ ہوٹل، قہوہ خانے، چوپال آباد تھے۔ لوگ اک دوسرے کے دکھ درد میں شریک رہتے۔ اسی زمانہ کی روئداد فیض کی زبانی سنیے۔

؂ تھے کتنے اچھے لوگ کہ جن کو اپنے غم سے فرصت تھی
سب پوچھیں تھے احوال جو کوئی غم کا مارا گزرے تھا

زمانہ کیا بدلا لفظوں کے معنی تک بدل گئے۔ اگر آج کا شاعر ”وال“ کا ذکر کرتا ہے تو یہ گھر کی دیوار کے علاوہ فیس بک والی وال بھی ہو سکتی ہے۔ اب اللہ جانے ظفر اقبال کیا چاہتے ہیں۔ شاید وہ اپنے محبوب کے گھر کی دیوار پر وال چاکنگ کا خطرناک ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کا شعر سنیے۔

؂ اس کی دیوار پہ لکھ آئیں غزل جا کے ظفرؔ
آج کل کچھ اسے رغبت نہیں اخبار سے

اب آپ کو اسی چٹیل میدان میں لئے چلتے ہیں جس کا ذکر کالم کے آغاز میں کیا گیا ہے۔ کالم نگار بھی اپنے تخیل کے سہارے وہیں پہنچ چکا ہے۔ اس میدان میں دوپہر ڈھلنے پر بندر ریچھ نچانے والے، سانپ کاٹے کا منتر جاننے والے اور طرح طرح کے امراض کی دوائیں بیچنے والے، اپنا اپنا مجمع لگا لیتے تھے۔ لڑکے بالے، جوان بوڑھے، اپنی اپنی پسند اور ضرورت کے مطابق کسی ایک مجمعے کا انتخاب کرتے اور پورے ذوق و شوق سے اس کا حصہ بن جاتے۔

بچے ایک نصف دائرے کی شکل میں بنے مجمع میں زمین پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ جاتے۔ بڑے ان بیٹھے ہوئے بچوں کے پیچھے کھڑے ہو جاتے۔ بیٹھنے والے تماشا کے اختتام تک بیٹھنے کے ارادے سے بیٹھتے۔ کھڑے آدمی، کھڑے کھڑے، ادھر ادھر پھرتے پھراتے سبھی معجموں کا مزا چکھتے رہتے۔ ایک سنیاسی بابا مجھے آج تک بھولا نہیں۔ اب بھی آنکھوں سامنے اس کی تصویر پھرتی ہے۔ اس کے پاس بیچنے کو صرف سرمہ ہوا کرتا تھا۔ یہ سرمہ آنکھوں کے ہر مرض کا علاج تھا۔ کالم نگار کے کانوں میں اب بھی اس کی آواز گونج رہی ہے۔ ”آنکھوں میں چٹا ہو۔ پھولا ہو۔ کالا سفید موتیا ہو۔ پانی بہتا ہو۔ ان سے کم دکھائی دیتا ہو۔ آپ نظر کی عینک سے نجات چاہتے ہو۔ تکلیف بیماری والی آنکھ میں دو وقت اللہ، رسول،

پنجتن پاک کا نام لے کراس سرمے کی دو سلائیاں ڈالیں۔ اللہ کے حکم سے مرض دور اور آنکھ نئی نکور ”۔ اس کے بعد اس نے نہایت عقیدت سے اپنے مرشد کا ذکر کیا۔ بتایا۔“ میں نے ہمالیہ کے دور دراز سنسان پہاڑوں پر اکیس برس اپنے مرشد کی خدمت کی پھر کہیں جا کر انہوں نے مجھے یہ نسخہ اس شرط پر دیا کہ میں اسے کمائی، روزی کا ذریعہ نہ بناؤں۔ صرف خدمت خلق میں مگن رہوں ”۔ اس کے بعد اس نے ایک اشتہار تقسیم کیا۔ اس پر پورا نسخہ موجود تھا۔

اب اس نے لوگوں کو زبانی بتانا اور سمجھانا شروع کر دیا کہ سرمہ کیسے تیار ہوگا۔ کہنے لگا۔ ”سرمہ کی ایک صاف شفاف شیشہ ڈلی لیں۔ اب آپ کہیں سے آٹھ دس فٹ لمبا صحتمند، جوان کوبرا سانپ کا بندوبست کریں۔ اس زندہ سانپ کی سری کاٹ کر الگ کر لیں۔ باقی سانپ ہمارے کام کا نہیں۔ سانپ کے منہ میں سرمہ کی ڈلی رکھ کر اسے دونوں اطراف سے سوئی دھاگہ سے سی لیں۔ اب اسے مٹی کی کجی (چھوٹا سا برتن) میں رکھ دیں۔ اس کجی پر ڈھکن رکھ کر اسے گیلی مٹی سے بند کر دیں۔

پھر اس کجی کو اس سے بڑی کجی میں اوپر ڈھکن رکھ کر اسی طرح گیلی مٹی سے بند کر لیں۔ یہ عمل مزید پانچ مرتبہ دہرائیں۔ اب سانپ کی سری جس میں سرمہ کی ڈلی موجود ہے ایک کے اندر دوسری کجی کی صورت میں سات کجیوں میں بند ہو گئی۔ اب انہیں اکیس روز گوبر کے اوپلوں کی آگ میں رکھیں۔ یہ اپلے گائے کے گوبر کے ہونے چاہئیں۔ اکیس روز بعد آگ بجھا دیں۔ آگ ٹھنڈی ہونے پر اک دوسرے کے اندر پڑی ہوئی ساتوں کجیاں باری باری توڑ کر سانپ کی سری باہر نکال لیں۔

سری میں پڑا سرمہ اب سفید گلاب کی طرح دکھائی دے گا۔ اسے جلی ہوئی سانپ کی سری سے الگ کر لیں۔ اس سرمہ میں اکیس جڑی بوٹیاں جن کے نام اشتہار میں موجود ہیں ڈال کر اکیس روز عرق گلاب میں کھرل کریں۔ اکیسویں روز سرمہ تیار ہو جائے گا۔ آپ اسے بے دھڑک استعمال میں لا سکتے ہیں۔ شفا میرے مولا کی جانب سے ہے۔ اگر کوئی میرا بھائی بزرگ اتنی محنت اور تردد نہیں کر سکتا تو وہ یہ شیشی مجھ سے لاگت کے مول لے سکتا ہے۔ اس نے تردد، محنت کے لئے پنجابی زبان کا لفظ ”کھیچل“ استعمال کیا۔

اس نے ایک شیشی کا ہدیہ دو آنے بتایا۔ یہ اعلان کرنا بھی ضروری سمجھا کہ ایک بندے کو صرف ایک شیشی ہی مل سکتی ہے۔ سبھی لوگ بڑھ چڑھ کر شیشیاں خریدنے لگے۔ ہم سبھی پاکستانی ہمیشہ کھیچل سے بچ کر کسی شارٹ کٹ کی تلاش میں رہتے ہیں۔ ہمیں ایسے حکیم کی تلاش رہتی ہے جو ایک ہی خوراک میں بندے کو شیر جوان اور ایسے درویش کی جو اک نظر میں چور سے قطب بنا دے۔ قومی زندگی میں بھی ہم ایسے ہی مسیحا کے منتظر رہتے ہیں جو پل بھر میں ہماری سیاست، معیشت اور معاشرت کے سبھی امراض دور کردے۔ یہی ہماری قومی تاریخ ہے اور یہی قومی مرض بھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *