سعودی شاہی دربار میں پاکستانی قیادت کی حاضری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی ہے اور سعودی عرب کی سالمیت اور حرمین شریفین کی حفاظت کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ یادش بخیر پاکستانی قیادت کو ایسے عاجزانہ بیانات اس وقت ارزاں کرنے پڑتے ہیں جب سعودی عرب جیسے امیر ’برادر‘ ملک سے غیر معمولی اقتصادی تعاون کی امید کی جا رہی ہو۔

وزیر اعظم عمران خان آج رات سہ روزہ دورہ پر سعودی عرب پہنچ رہے ہیں۔ دورہ پر روانہ ہونے سے پہلے انہوں نے ’عرب نیوز پاکستان‘ میں لکھے گئے ایک مضمون میں سعودی قیادت اور پاک سعودی تعلقات کی بڑھ چڑھ کر تعریف کی ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان مساوی تعلقات میں دن دونی رات چوگنی ترقی ہوگی۔ گو کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں مساوات کے سوا ہر عنصر موجود ہے۔ معاشی امداد سے لے کر سفارتی سطح تک پاکستان سعودی عرب سے تعاون و امداد کا محتاج رہا ہے۔ گزشتہ سال کے دوران جب شاہ محمود قریشی کے ذریعے اسی ’مساوی‘ تعلق کے زعم میں کشمیر کے مسئلے اسلامی تعاون تنظیم میں سعودی تعاون کی درخواست کی گئی تھی تو اس کے جواب میں قرض پر ملنے والے تیل سے محروم ہونا پڑا۔ اور ساتھ ہی خصوصی طور سے عبوری قرض کے طور پر دیے گئے دو ارب ڈالر بھی فوری طور سے واپس مانگ لئے گئے تھے۔

اس ناگہانی صورت حال میں پاکستان کو چین سے مہنگے سود پر قرض لے کر سعودی ڈالر واپس کرنا پڑے تھے اور پاکستانی وزیر اور سفارت کار یہ وضاحتیں دیتے رہے تھے کہ سعودی عرب کو بھی کورونا وائرس اور تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے مالی مشکلات درپیش ہوں گی۔ دو ملکوں کے درمیان قرض واپس طلب کرلینا معمول کی بات ہے۔ تاہم پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی نوعیت کے پیش نظر یہ ہرگز معمول کی بات نہیں تھی کیوں کہ عام طور سے سعودی عرب پاکستان کو جو قرض دیتا ہے، نہ صرف اس کی مدت میں توسیع کردی جاتی ہے بلکہ اکثر صورتوں میں اسے گرانٹ میں تبدیل کر کے ’معاف‘ بھی کر دیا جاتا ہے۔ اسی قسم کی سہولت گزشتہ دنوں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے متحدہ عرب امارات سے بھی حاصل کی ہے جس نے پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے کے لئے تین ارب ڈالر فراہم کیے ہوئے ہیں اور اب اس مدت میں توسیع پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ اور عمران خان ایک ایسے وقت میں سعودی عرب کا دورہ کر رہے ہیں جب پاکستان کو دو شعبوں میں سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ سب سے پہلے تو پاک فوج بھارت کے ساتھ امن قائم رکھنے اور بات چیت کے ذریعے معاملات آگے بڑھانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ پاک فوج کے سربراہ صحافیوں سے ملاقاتوں میں بھارت کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی اہمیت کو واضح کرچکے ہیں۔ دوسری طرف عمران خان اور ان کی کابینہ تک یا تو فوج کا یہ پیغام پوری طرح پہنچ نہیں پایا یا وفاقی حکومت بھی ماضی کی سیاسی حکومتوں کی طرح کشمیر کے معاملہ پر کوئی ڈرامائی اقدام کرتے ہوئے شش و پنج کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کے ساتھ محدود تجارت بحال کرنے کا اعلان کرنے کے بعد کابینہ کے اجلاس میں گرما گرم بحث کے بعد اسے تبدیل کر دیا گیا۔ اس فیصلہ سے عمران حکومت کے طریقہ کار کے بارے میں بھی سوال سامنے آئے اور عالمی سفارتی حلقوں میں بھی پاکستانی پالیسیوں کے حوالے سے بے یقینی محسوس کی گئی۔

عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف کی حکومت کو دشمن تو دور کی بات ہے خود عمران خان ’ایک پیج‘ کی حکومت قرار دیتے ہیں یعنی وہ اعتراف کرتے ہیں کہ ان کی حکومت ہر معاملہ پر فوج کی مشاورت سے ہی اقدام کرتی ہے اور ملک کے دو فیصلہ ساز اداروں یعنی وفاقی حکومت اور فوج کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ تاہم اس اعلان شدہ حکمت عملی کے باوجود جب آرمی چیف کے موقف کے برعکس وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزرا بھارت کے بارے میں تند و تیز تقاریر کریں اور بھارت کے ساتھ مفاہمت کے سفر میں وقتی رکاوٹ کا سبب بنیں تو اندرون و بیرون ملک شبہات سر اٹھانے لگتے ہیں۔ لہذا یہ کلیدی سوال نئی دہلی کے علاوہ ان تمام دارالحکومتوں میں گردش کرتا رہا ہے کہ پاک فوج کس حد تک خارجہ اور سلامتی امور پر فیصلوں میں حرف آخر کی حیثیت رکھتی ہے۔ اور کیا فوج کشمیر کے مسئلہ پر میز پر لائے گئے تازہ فارمولے پر یک آواز ہے یا اس کی صفوں میں بھی اس معاملہ پر اتفاق رائے نہیں ہے۔

قیادت کے درمیان عدم اتفاق کے شبہ کو دور کرنے کے لئے ہی عمران خان کے دورہ سعودی عرب سے پہلے جنرل قمر جاوید باجوہ خود ریاض پہنچے ہیں اور اعلیٰ سعودی قیادت سے بات چیت کی ہے۔ یہ بات چیت محض آئی ایس پی آر کے اعلامیہ کی ضرورت پوری کرنے کے لئے سعودی عرب کی سالمیت اور حرمین شریفین کی حفاظت کے لئے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کے اعلان تک محدود نہیں ہو سکتی۔ بلکہ ان مذاکرات میں وضاحت کی گئی ہوگی کہ پاکستان کے وعدوں پر کسی حد اعتبار کیا جاسکتا ہے اور فوج کو معاملات پر کہاں تک اختیار اور کنٹرول حاصل ہے۔ جنرل باجوہ اس سے پہلے بھی سعودی عرب اور عمران حکومت کے درمیان ’ضامن‘ کا کردار ادا کرچکے ہیں۔ اس لئے عمران خان کے اہم دورہ سے قبل ان کا سعودی عرب پہنچنا معنی خیز اور قابل غور ہے۔ ورنہ کسی وزیر اعظم کے دورہ کے دوران یا پہلے اس ملک کے فوجی سربراہ کا کسی دوسرے ملک کا دورہ کرنا غیر ضروری ہوتا ہے۔ تاہم پاکستان اس معاملہ میں انوکھا ملک ہے۔ یہاں جمہوریت پھل پھول رہی ہے لیکن جمہوری حکومت کو اپنی بقا اور فیصلہ سازی میں فوجی قیادت کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔

ماضی میں سیاسی حکومت اور عسکری قیادت کے درمیان کسی اختلاف کی صورت میں ملکی آئین اور منتخب حکومت کی بلی چڑھانے کا رواج رہا ہے۔ پاک فوج نے یوں کئی دہائیوں کے دوران معاملات پر اپنے مکمل تسلط کی یقین دہانی کروائی ہے۔ اس کا اثر ملکی رائے عامہ بلکہ رائے بنانے والے اداروں، مبصرین اور تجزیہ نگاروں کے رویوں میں دیکھا جاتا ہے اور بیرون ملک بھی حکومتیں جانتی ہیں کہ پاکستان کے ساتھ معاملات طے کرنے کا سب سے بہتر، موثر اور تیر بہدف طریقہ کون سا ہے۔ اسی لئے کشمیر اور بھارت کے سوال پر پاکستانی حکمت عملی میں کابینہ کی مداخلت سے بے چینی پیدا ہونا قابل فہم ہے۔ یہ بے چینی فوجی قیادت میں بھی ضرور ہوگی کیوں کہ عام طور سے سمجھا جاتا ہے کہ پاک فوج ماضی کی طرح اب ملک میں آئین معطل کر کے فوجی حکومت نافذ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس کی جزوی وجہ فوج کا اپنا پاور اسٹرکچر اور پالیسی سازی کے طریقے ہیں اور دوسری اہم ترین وجہ یہ ہے کہ فوج کے پاس کسی حکومت کی ’بغاوت‘ سے نمٹنے کے لئے متعدد ’آئینی‘ طریقے موجود ہیں۔ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کی اٹھان اور پھر جھاگ کی طرح بیٹھ جانا ان طریقوں کا صرف ایک معمولی سا نمونہ ہے۔

معاملات پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ ایک بات ہے لیکن عملی طور سے فیصلہ سازی میں اگر کوئی دراڑ دیکھنے میں آئے جیسا کہ کشمیر کے سوال پر اس وقت عسکری و سول قیادت کے درمیان دکھائی دیتی ہے تو پریشانی اور بے چینی پیدا ہونا فطری ہے۔ پاک فوج کی سیاسی معاملات پر دسترس کا تعلق صرف پاک بھارت تعلقات سے ہی نہیں ہے بلکہ افغانستان میں امن اور مستقبل کی حکومت سازی کے حوالے سے بھی اس رسوخ کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ افغانستان کے علاوہ بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات میں بہتری سے سعودی عرب کے مفادات بھی وابستہ ہیں۔ بھارت کے ساتھ اسٹریجک تعلقات استوار کرتے ہوئے امریکہ نے پاکستان کو دھتکارا تھا لیکن اب سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ذریعے اسے چین اور ایران سے فاصلے پر رکھنے اور ترکی جیسا خود مختار ہونے سے روکنا اس وقت عالمی سفارت کاری کے اہم ترین اہداف میں شامل ہے۔ افغانستان سے اتحادی افواج کے انخلا کے بعد امریکہ اور سعودی عرب افغان سرزمین پر ایرانی و چینی اثر و رسوخ کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ اس حوالے سے پاکستان اور اس کی افواج اہمیت رکھتی ہیں۔

دوسری طرف پاکستانی حکومت کو اگلے ماہ بجٹ پیش کرنے سے قبل مالی ضمانتوں کی ضرورت ہے۔ آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے کے مطابق بعض محاصل میں اضافہ ضروری ہے تاکہ سرکاری آمدنی کے اہداف حاصل ہو سکیں۔ وزیر خزانہ اس معاہدے پر عمل درآمد کو سیاسی طور سے تباہ کن اور ناقابل قبول قرار دے چکے ہیں۔ سعودی دورہ کی ایک اہمیت ان مالی ضمانتوں کے حوالے سے بھی ہے جو پاکستان عرب دوست ملک سے حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ بجٹ میں توازن قائم کرتے ہوئے آئی ایم ایف سے مراعات لی جاسکیں۔ ملکی مالیات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ پاک فوج بدستور تیسرے مالی سال میں دفاعی بجٹ میں کمی قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ تاہم اس اضافہ کے لئے قومی آمدنی میں اضافہ ضروری ہے۔ اس کے لئے رعایتی قرضے اور مالی سہولتیں ہی معاون ہو سکتی ہیں کیوں کہ قومی پیداواری صلاحیت میں فوری اضافہ کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔

وزیر اعظم نے سعودی سرزمین پر قدم رکھنے سے پہلے جو مضمون ’عرب نیوز پاکستان‘ میں لکھا ہے اسے پرانے زمانے کی قصیدہ گوئی کے مماثل سمجھا جاسکتا ہے۔ اس مضمون میں سعودی شاہی خاندان کی عظمت اور پاک سعودی تعلقات میں اسلامی اخوت کے روشن پہلوؤں کی شان میں قلابے ملانے کے سوا کوئی خاص قابل ذکر بات نہیں ہے۔ کشمیر کو عمران خان پاکستان کی زندگی اور موت کا مسئلہ قرار دیتے ہیں لیکن ایک اہم علاقائی ملک کے دورہ کے موقع پر انہوں نے اپنے مضمون میں کشمیر کا ذکر کرنا یا مقبوضہ کشمیر کے علاوہ بھارت میں مسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزی کا حوالہ دینا مناسب نہیں سمجھا۔ پاکستانی عوام کی سیاسی تشفی کے لئے اسلاموفوبیا اور یورپ میں حرمت رسولﷺ کے احترام کا ذکر ضرور کیا گیا ہے۔ اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ سعودی قیادت اس معاملے پر وزیر اعظم عمران خان کے سیاسی ایجنڈے کا حصہ بنے گی۔

جنرل باجوہ اور وزیر اعظم عمران خان اپنے اپنے طور پر سعودی شاہی حکمرانوں کا دل نرم کرنے کی کوشش کریں گے۔ باد شاہوں کو خوش کرنے کے لئے خوشامدانہ لہجہ تاریخی طور سے تیر بہدف نسخہ ہے۔ آنے والے دنوں میں پتہ چل سکے گا کی ہماری عسکری و سیاسی قیادت کی کاوشیں کس حد تک رنگ لاتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1879 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *