مسجد اقصٰی: اسرائیلی پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں 300 سے زائد فلسطینی زخمی

مسجد اقصی میں ایک بار پھر فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی پولیس کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔ جھڑپوں میں اسرائیل کی پولیس نے ربڑ کی گولیوں اور اسٹن گرینیڈز کا استعمال کیا ہے جب کہ فلسطینی مظاہرین کی جانب سے پتھراؤ کیا گیا۔

فلسطینی ہلالِ احمر سوسائٹی کے مطابق جھڑپوں میں اب تک 305 سے زائد فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں جن میں 228 کو اسپتال منتقل کیا گیا جب کہ متعدد فلسطینیوں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

چھڑپوں میں اسرائیلی پولیس کے 21اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔

رمضان کے دوران یروشلم، جسے مسلمان القدس کہتے ہیں، اور مغربی کنارے میں جاری کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ شیخ جراح کے علاقوں سے فلسطینی خاندانوں کی بے دخلی ہے جس کے دعوے دار یہودی آباد کار قرار دیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ فلسطینی یروشلم کو بیت المقدس کہتے ہیں اور یہ شہر مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں تینوں مذاہب کے ماننے والوں کے لیے مقدس شہر ہے۔

اسرائیل کی سپریم کورٹ میں شیخ جراح سے بے دخل کیے جانے والے فلسطینیوں سے متعلق کیس کی سماعت آج ہونا تھی جسے مؤخر کردیا گیا ہے۔

تاہم ہر سال10مئی کو اسرائیلی 1967 کی مشرق وسطیٰ کی جنگ کے بعد مشرقی یروشلم حاصل کرنے کی یاد میں ‘یروشلم ڈے’ مناتے ہیں۔ آج ہونے والی جھڑپیں اسی دن کے مناسبت سے ہونے والی پریڈ سے چند گھنٹے قبل شروع ہوئیں۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ صورت حال پر قابو پانے کے لیے مسجد اقصی کے احاطے میں قائم یہودی مقدس مقامات پر یروشلم ڈے کی مناسبت سے حاضری دینے والے اسرائیلی شہریوں کو روک دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ پولیس یروشلم ڈے پر ہونے والی پریڈ کا راستہ تبدیل کرنے پر بھی غور کررہی ہے۔ اس پریڈ میں ہزاروں نوجوان اسرائیلی شریک ہوتے ہیں اور قدیم شہر کے دمشق دروازے اور مسلمان آبادی والے علاقوں سے گزرتے ہیں۔

اپنے ایک بیان میں اسرائیلی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیل یروشلم میں ’’سب کے لیے یکساں عبادت کی آزادی اور برداشت کے ساتھ‘‘ نفاذِ قانون کے لیے پُر عزم ہے۔

دوسری جانب فلسطین کے صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے اسرائیل پر مسجد اقصی پر ’بے رحمانہ چڑھائی‘ کا الزام عائد کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے مسجدِ اقصی میں پیش آنے والے واقعات سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کے لیے پیر کو بند کمرہ اجلاس طلب کرلیا ہے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ نے اسرائیل پر مشرقی یروشلم سے فلسطنیوں کی بے دخلی روکنے کے لیے زور دیا ہے۔

اتوار کو امریکی صدر کے مشیر برائے قومی سلامتی جیک سلیوان نے اسرائیلی ہم منصب میئر بن شبات سے رابطہ کیا اور یروشلم میں جاری صورت حال اور فلسطینی خاندانوں کی ممکنہ بے دخلی سے متعلق امریکہ کے تحفظات سے انہیں آگاہ کیا۔

وائٹ ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق جیک سلیوان نے کہا کہ اسرائیل کی سلامتی اور مشرقِ وسطی میں امن و استحکام کے لیے امریکہ پر عزم ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words