روسی شہر کازان کے سکول پر حملہ، کم از کم سات بچے ہلاک، متعدد زخمی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


سکول کازان

Getty Images

روس کے شہر کازان کے ایک سکول میں فائرنگ کے ایک واقعے میں بچوں اور ایک استاد سمیت متعدد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اس حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹس ہلاکتوں کی مختلف تعداد بتائی جا رہی ہے تاہم روسی حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں کم از کم سات بچے بھی شامل ہیں۔

حکام کے مطابق سکول میں اندھا دھند فائرنگ کی گئی جس کے بعد ایک 19 سالہ نوجوان کو حراست میں لیا گیا ہے۔ جس شہر میں یہ واقعہ پیش آیا وہ روس کے دارالحکومت ماسکو سے 820 کلومیٹر دور ہے اور یہ مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔

پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے لیکن ابھی تک اس حملے کے پس پردہ مقاصد سے آگاہی نہیں مل سکی ہے۔

صدر ولادیمیر پوتن نے حملہ آور کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے بچوں کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے اور زخمی ہونے والوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بیسلان سکول محاصرہ، ’روس قتل عام روکنے میں ناکام رہا‘

روس میں 26 عمر رسیدہ خواتین کا قاتل کون؟

شام میں ’سکول پر فضائی حملہ، 26 ہلاک‘

اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی بڑی تعداد میں سکیورٹی فورسز نے سکول کی عمارت کو گھیرے میں لے لیا۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی تصویروں میں بچوں کو سکول کی کھڑکیوں سے چھلانگیں لگاتے اور زخمیوں کو باہر نکالتے دیکھا جا سکتا ہے۔

پولیس

Reuters

تاتارستان کے صدر رستم مننی خانوف نے اس حملے کو ’تباہی‘ اور ’سانحے‘ سے تعبیر کیا ہے۔

ابتدائی طور پر ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ حملہ آور دو تھے جن میں سے ایک ہلاک ہو گیا ہے تاہم بعد میں حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ مشتبہ حملہ آور اکیلا تھا۔

مسٹر مننی خانوف نے سکول کے باہر صحافیوں کو بتایا کہ ہلاکتوں کے علاوہ 12 بچے اور چار بالغ افراد زخمی ہیں اور وہ ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ‘دہشت گرد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وہ 19 سال کا ہے اور ہتھیار رکھنے کا رجسٹرڈ اہل ہے۔‘

https://twitter.com/MBKhMedia/status/1392023118080876546

کریملن کا کہنا ہے کہ صدر ولادیمیر پوتن نے سکول میں فائرنگ کے واقعے کے بعد روس میں اسلحہ سے متعلق قوانین کو سخت کرنے کا حکم دیا ہے۔

انٹرفیکس نیوز ایجنسی کے مطابق ترجمان دیمتری پیسکوف نے منگل کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’[نیشنل گارڈ کے چیف وکٹر] زولوتوف کو ایک علیحدہ حکم نامہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ وہ ہتھیاروں کی اقسام کے بارے میں فوری طور پر نئے قواعد کے بارے میں کام کرنا شروع کر دیں کہ کس قسم کا اسلحہ عوامی ملکیت ہو سکتا ہے۔‘

روس

Getty Images

انھوں نے کہا کہ ’بات یہ ہے کہ ایسے آتشیں اسلحے بعض ممالک میں اسالٹ اسلحے کے طور پر درج ہوتے ہیں اور بعض اوقات شکار کے ہتھیار کے طور پر رجسٹرڈ ہوتے ہیں۔‘

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں ایک نوعمر نوجوان کو زمین پر پڑے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس کو بظاہر عمارت کے باہر حراست میں لیا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19456 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp