بھارت میں کرونا وبا سے بچنے کے لیے گائے کے گوبر کا ’اشنان‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ریاست گجرات میں شہریوں کی بڑی تعداد جانوروں کے باڑوں میں ہفتے میں ایک بار جا کر اپنے پورے جسم پر گائے کا گوبر اور پیشاب لگا رہے ہیں۔ ان افراد کا ماننا ہے کہ اس سے ان افراد کی قوتِ مدافعت میں اضافہ ہوگا اور وہ کرونا وائرس سے محفوظ رہیں گے۔
ویب ڈیسک — بھارت ایک جانب جہاں کرونا وائرس سے شدید متاثر ہے۔ وہیں مختلف اعتقاد کے افراد اس سے بچنے کے لیے طرح طرح کے طریقے اپنا رہے ہیں جن میں سے بعض کو طبی ماہرین مضرِ صحت یا مزید بیماریوں کا سبب قرار دے رہے ہیں۔

ہندو مذہب میں گائے کو مقدس سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں بہت سے افراد گائے کے فضلے یعنی گوبر کو اپنے پورے جسم پر لگا کر اسے تحفظ کا ذریعہ مان رہے ہیں۔ البتہ طبی ماہرین نے کہا ہے کہ ایسے کوئی بھی سائنسی شواہد موجود نہیں ہے کہ گائے کا گوبر انسان کو وبا سے محفوظ رکھتا ہو۔ البتہ اس کو جسم پر لگانے سے مزید کئی بیماریاں پھیلنے کا اندیشہ ہے۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق بھارت میں کرونا وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اور اب تک دو کروڑ 26 لاکھ سے زائد افراد اس سے متاثر ہو چکے ہیں جب کہ لگ بھگ دو لاکھ 45 ہزار اموات ہوئی ہیں۔ دوسری جانب ماہرین یہ اندیشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ بھارت میں کرونا کے اصل اعداد و شمار پیش کیے جانے والے نمبروں سے کئی گنا زیادہ ہو سکتے ہیں۔

بھارت کی زیادہ متاثرہ ریاستوں میں کرونا متاثرین کی تعداد کے باعث اسپتالوں میں جگہ ختم ہو چکی ہے۔ جب کہ آکسیجن اور ادویات کی قلت کے باعث متاثرہ افراد علاج سے قبل کی ہلاک ہونے کی رپورٹس بھی سامنے آ رہی ہیں۔

مغربی بھارت میں ریاست گجرات میں شہریوں کی بڑی تعداد جانوروں کے باڑوں میں ہفتے میں ایک بار جا کر اپنے پورے جسم پر گائے کا گوبر اور پیشاب لگا رہے ہیں۔ ان افراد کا ماننا ہے کہ اس سے ان افراد کی قوتِ مدافعت میں اضافہ ہوگا اور وہ کرونا وائرس سے محفوظ رہیں گے۔ اور اگر وہ وبا سے متاثر ہیں تو اس عمل سے صحت یاب ہو جائیں گے۔

خیال رہے کہ ہندو مذہب میں گائے کو اہم مقام حاصل ہونے کے باعث بہت ہندو گھروں کی صفائی میں بھی گوبر کا استعمال کرتے ہیں۔ جب کہ اس کے فضلے کو جراثیم کش تصور کیا جاتا ہے۔

ایک دوا ساز کمپنی میں ایسوسی ایٹ منیجر گوتم منی لال بورسیا کا دعویٰ ہے کہ گائے کے گوبر سے وہ کرونا سے شفایاب ہوئے۔ وہ تسلسل کے ساتھ احمد آباد میں ہندو سادھوؤں کے ایک ادارے میں اس مقصد کے لیے آتے ہیں۔

گوتم منی لال بورسیا نے ’رائٹرز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اوقات ڈاکٹرز بھی یہاں آتے ہیں۔ اور اس عمل کو تھراپی سمجھتے ہیں۔ جب کہ اس بات پر بھی یقین رکھتے ہیں کہ اس عمل سے ان کی قوتِ مدافعت بہتر ہو گی۔ اس طرح وہ اپنے مریضوں کا علاج بغیر کیس خوف کے کر سکیں گئے۔

ہندو سادھوؤں کے اس ادارے میں آنے والے افراد گائے کا فضلہ جسم پر لگا کر اس کے خشک ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔ بعد ازاں وہ دودھ سے اپنے جسم کو دھو لیتے ہیں۔

بھارت سمیت دنیا بھر میں ڈاکٹر اور سائنس دان متنبہ کرتے رہے ہیں کہ کرونا وائرس کے متبادل علاج کے لیے کیے جانے والے ٹوٹکوں سے خود کو جھوٹی تسلی تو دی جا سکتی ہے۔ البتہ اس سے صحت کے شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

بھارت کی میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر جے اے جیالال کا کہنا تھا کہ ایسے سائنسی شواہد موجود نہیں ہیں کہ گائے کے گوبر یا پیشاب سے قوتِ مدافعت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ سب کچھ عقائد کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس میں یہ خطرات بھی موجود ہیں کہ صحت خراب ہونے کے ساتھ ساتھ جانوروں سے انسانوں میں دیگر مرض منتقل ہو جائیں۔

واضح رہے کہ یہ خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں ایسے عمل کو انجام دینے کے لیے زیادہ لوگوں کے جمع ہونے سے وائرس مزید تیزی سے پھیل سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2265 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *