حوریا امیری: ’یہ پانی پینے تو کیا ہاتھ دھونے کے قابل بھی نہیں‘

ریاض سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، حیدر آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


حوریا امیری

BBC

’میں خود پیٹ کے کیڑوں کے مرض میں مبتلا رہی ہوں۔ میں جانتی ہوں کہ اس کا درد کیا ہوتا ہے۔‘

یہ کہنا ہے 17 سالہ حوریا امیری کا جنھوں نے کہانی سنانے کے ایک عالمی مقابلے میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ اس مقابلے کا مقصد این ٹی ڈی (نگلیکٹڈ ٹراپیکل ڈیزیز) بیماریوں کے اسباب اور سدباب کے بارے میں آگاہی دینا تھا، جن میں پیٹ کے کیڑوں کا مرض بھی شامل ہے۔

حوریا امیری کا تعلق حیدر آباد سے ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ بعض علاقوں میں یہ مرض چار سے 14 سال کے بچوں میں عام ہے۔

’میں تقریباً بارہ سال کی تھی جب پیٹ میں درد کی شکایت ہوئی اور پیٹ کے کیڑوں کی تشخیص ہوئی، جس کے باعث پیٹ میں شدید درد رہتا ہے۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ اس بیماری میں اکثر قے آتی ہے اور وزن کم ہوجاتا ہے۔ مگر اس علاج ادویات اور صفائی برقرار رکھنے سے کیا جاسکتا ہے۔

‘یہ پانی پینے تو کیا ہاتھ دھونے کے قابل بھی نہیں’

17 سالہ حوریا امیری کالج کی طالبہ ہیں اور انھیں اپنے شہر حیدر آباد کی حالت پر تشویش ہے۔

بقول ان کے حیدر آباد کی صورتحال سنگین ہوتی جارہی ہے۔ شہر میں کچرا بڑھتا چلا جارہا ہے اور ہر جگہ کچرے کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے غلاظت پھیلتی ہے اور بدبو رہتی ہے۔

حیدر آباد سندھ کا دوسرا بڑا اور پاکستان کا چھٹا بڑا شہر ہے۔ مہران یونیورسٹی آف انجینیئرنگ کے ریسرچ جنرل میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق حیدر آباد شہر میں سالیڈ ویسٹ اٹھانے سے لے کر اسے ٹھکانے لگانے تک کوئی منظم و مربوط نظام موجود نہیں، جس کی وجہ سے لوگ گلیوں محلوں میں کچرا پہینک دیتے ہیں اور یہ نکاسی آب کے نظام کو متاثر کرتا ہے۔

اس سے گلی گلی پانی کے تالاب بن جاتے ہیں جو مچھروں اور مکھیوں کی افزائش کا سبب بنتے ہیں اور اس طرح مختلف انفیکشنز پھیلنے کا خدشہ رہتا ہے۔

ریسرچ کے مطابق حیدر آباد دو لاکھ پچیس ہزار کیوبک مائع کچرے کی نکاسی کرتا ہے اسی طرح 1600 ٹن یومیہ ٹھوس کچرا پیدا ہوتا ہے۔

حوریا امیری کہتی ہیں کہ شہر میں کئی کچی بستیاں ہیں جو کچرے کے ڈھیروں کے قریب بنی ہوئی ہیں جہاں لوگوں کو پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں۔ ’کچی آبادیوں میں لوگ جو پینے کا پانی استعمال کر رہے ہیں وہ پینے تو کیا ہاتھ دھونے کے بھی قابل نہیں۔ بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث ہزاروں چھوٹے بچے این ٹی ڈی امراض میں مبتلا ہیں۔‘

این ٹی ڈی بیماریاں کیا ہیں؟

صحت کے عالمی ادارے ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا کے لاکھوں لوگوں کو پینے کے لیے صاف پانی اور نکاسی کا نظام دستیاب نہیں جس وجہ سے یہ لوگ متعدی امراض کا آسانی سے شکار بن جاتے ہیں۔

’دنیا کے 149 ممالک کے ایک ارب لوگ این ٹی ڈیز کا شکار ہوتے ہیں۔ ٹائیفائیڈ، ڈائریا، ملیریا، ڈینگی، لیشمانیا، چکن گونیا، ریبیز، یلو فیور اور پیٹ کے کیڑوں کے امراض سمیت 20 بیماریاں اس فہرست میں شامل ہیں۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ این ٹی ڈی بیماریاں لوگوں میں مچھروں، مکھیوں، جوؤں اور گھونگھوں سے منتقل ہوتی ہیں جو انسان میں بیکٹیریا، وائرس اور پیراسائٹ منتقل کرتے ہیں جبکہ ان میں سے کچھ بیماریاں آلودہ پانی اور کھانے سے وابستہ ہیں۔

عام اندازوں کے مطابق پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد تک حصہ دیہات میں رہتا ہے جہاں سہولیات کی کمی کی وجہ سے این ٹی ڈی بیماریاں پھیلنے کے امکان زیادہ ہوتے ہیں۔

عالمی مقابلہ جس میں حوریا کی کہانی کامیاب ہوئی

این ٹی ڈی امراض کے خلاف اتحاد، افریقن یونین، دولت مشترکہ یوتھ نیٹ ورک سمیت صحت اور نوجوانوں کی عالمی تنظیموں کے تعاون سے پہلا گلوبل یوتھ این ٹی ڈی سٹوری ٹیلنگ مقابلہ منعقد کیا گیا جس میں 39 ممالک سے 400 نوجوانوں نے حصہ لیا تھا۔

یہ مقابلہ پانچ کیٹیگریز میں تھا جن میں ڈیجیٹل، میوزک، ویڈیو، آڈیو اور ٹیکسٹ میں کہانیاں شامل تھیں۔

حوریا امیری کے مطابق انھوں نے پہلے راؤنڈ میں چالیس بہترین نوجوانوں میں کوالیفائی کیا اور اس کے بعد ویڈیو کے ذریعے کہانی سنانے میں پہلا انعام حاصل کیا۔

’والد کی مکمل سپورٹ رہی‘

حوریا نے اپنی اس کہانی میں حیدر آباد کی کچی بستیوں، سیوریج لائن کے ساتھ گزرتی پانی کی لائینوں، نہروں میں گرتے ہوئے سیوریج کے پانی کے علاوہ یہاں این ٹی ڈی امراض کے بڑھتے خطرے کو بھی اپنی کہانی کا حصہ بنایا۔

حوریا کے مطابق انھوں نے پہلے اس موضوع پر معلومات اکٹھی کیں، اس کے بعد معلوم کیا کہ یہ لوگ کہاں کہاں رہتے ہیں۔ پھر پیپر ورک شروع کیا، شوٹنگ، ایڈیٹنگ اور سکرپٹ رائیٹنگ کی۔

ان کا یہ پہلا تجربہ تھا اور انھیں اپنے والد کی مکمل سپورٹ حاصل تھی۔ یاد رہے کہ حوریا امیری کے والد ویڈیو پروڈکشن کے شعبے سے وابستہ ہیں اور والدہ درس و تدریس سے منسلک ہیں۔

این ٹی ڈی کا علاج ’اپنے ہاتھوں میں‘

ڈبلیو ایچ او این ٹی ڈی ایس کی بیماریوں کے علاج معالجے کی ادویات اور صحت کے شعبے سے مسنلک لوگوں کی صلاحیت بڑھانے میں حکومت پاکستان کو مدد فراہم کرتا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ایک حالیہ سروے کے مطابق کووڈ کی وجہ سے صحت کے شعبے میں این ٹی ڈی ایس کی علاج اور آگاہی کی سروس متاثر ہوئی ہیں جس سے بیماری اور اموات کا بوجھ بڑہ سکتا ہے۔

حوریا امیری کہتی ہیں کہ یہ تمام بیماریاں قابل علاج ہیں اگر انسان خود احتیاط کرے تو اس کا سدباب ممکن ہے۔ ’کس طرح سینیٹیشن کا خیال کرنا ہے، آس پاس کا ماحول صاف رکھنا ہے، پانی ابال کر پینا ہے، ہاتھ دھونے ہیں اس طرح ان بیماریوں پر قابو پاسکتے ہیں۔‘

’مجھے ڈاکٹر بننا ہے‘

وہ خود مستقبل میں ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں لیکن ساتھ میں وہ لوگوں کی فلاح و بہبود اور آگاہی کا سلسلہ بھی جاری رکھنا چاہتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’نوجوانوں زیادہ تر معاشرے کی فلاح بہود میں حصہ نہیں ڈالتے، وہ اپنے کیریئر پر نگاہ رکھتے ہیں لیکن انھیں سوشل ویلفیئر میں بھی حصہ لینا چاہیے۔

’اس سے سماج کے ساتھ شخصیت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19428 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp