دیسی مرد، ابھی تک دائیوں اور بائیوں کے خمار سے نہیں نکل سکا


مصنفہ: رابعہ الرباء

عزیزم تحریم، دوستم لبنی اور ثمر
یار آپ سب جس طرح اس تربیتی ورک شاپ کو لے کر چل رہے ہیں۔ چند کی زندگی تو اسے ضرور بدل جائے گی اور چند، بس باتوں کا چندہ اکٹھا کرتے رہے ہیں، کرتے رہیں گے۔

ثمر آپ نے میرے دل کی بات کی ہے۔ مسئلہ کا حل بیان کیا ہے۔ نئی نسل کی نئی تربیت کی طرف راہنمائی کی ہے۔ مگر پھر بھی تلخ کلامی سہنا پڑی ہے۔ ڈاکٹر لبنی کا تو حوصلہ داد کے قابل ہے، ایسے عجیب سوالوں کے جواب دے ڈالے ہیں۔ جو ہم پڑھ کے بھی چھوڑ آئے تھے۔

سوالوں کے انبار ہیں کہ لکھنے بیٹھوں تو ہر سوال کا جواب دیتے ایک کتاب مکمل ہو جائے۔ مگر خود غرضی اور من مانی نے ہی تو سماج سے برداشت ختم کی ہے۔ ہمیں یہ نہیں کرنا۔ اتنے مردوں کے سوالوں میں چند گولڈن بوائز کو نکال کر، سب کی باتوں اور خیالات سے اندازہ ہوا کہ دیسی مرد، ولائتی بھی ہو جائے، شہری ہو یا دیہاتی، جتنا مرضی پڑھ لے، کوئی بھی ڈگری حاصل کر لے، کسی بھی ادارے میں کام کر لے، پوری دنیا گھوم لے، نہ گھومے تب بھی رزلٹ ایک ہی ہے، اس میں سے دائیوں اور بائیوں کا خمار اور لطف نہیں نکلتا۔

اس کو منٹو بھی اس لئے پسند ہے کہ بائیوں کو شریف عورت سے بلند مقام دیتا ہے۔ ان کی مجبوری کا مرتبہ زیادہ ہے۔ (شاید شریف عورت کے پاس ایک خبیث مرد ہو تا ہے اس لئے۔ اب یہ شاید دل پہ لگانے والی بات تو ہے نہیں ) یہ عورتیں ان مردوں کو اس لئے عزیز ہیں کہ ان کی ذمہ داری ہوتی کوئی نہیں، چسکا مفت کا۔ جس نے سینکڑوں مرد بھگتائے ہوں، وہ مرد کی رگ رگ کو اچھے سے جانتی ہے۔ کیونکہ کاروبار کرنے کے لئے اس کے اصولوں سے واقفیت ضروری ہے۔ مگر یہ سب جانتے ہوئے بھی وہ بہت مظلوم عورت ہے یا بہت مشکوک عورت ہے یو نہی تاریخ کی چند حسین کتابوں میں لکھا رنجیت سنگھ کو قابو کرنے والی موراں بائی، جنرل رانی، مادام موسیقی، اور ان سب جیسی اور ہم عورتوں میں کوئی خاص فرق ان کو دکھائی نہیں دیتا۔ آہ

آج بات کرتے ہیں، ان کے تجربے اور اپنے لفظوں کی۔ سب سے پہلے تو یہی کہ ہم نے صرف دو کالم گولڈن گرلز کے لکھے ہیں۔ آخری لگتا ہے کچھ زور سے لگ گیا ہے۔ مگر وہ ایک مرد ڈاکٹر کا سوال تھا۔ جس کا جواب لکھا تھا۔ اس کا ہر گز مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم سب مردوں کو الزام دے رہے ہیں۔ یا سب مرد ایک سے ہی ہیں۔ بہت سے گولڈن بوائز بھی ہیں اور وہ ہمارے کالمز یا بلاگز نہیں ہمارے افسانے اور شاعری پڑھتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ صحافت اور ادب میں کیا فرق ہے۔ اور مصنف اگر ادیب ہے تو اس کا حساس انسان ادبی دنیا بنائے گا۔

جب کوئی پولیس کو دیکھ کر گھبرا جائے تو بہت امکان ہوتا ہے کہ اس نے کبھی کوئی چوری کی ہی ہو گی۔ تو اگر آپ کو گولڈن گرلز کی تحریروں سے اختلاف ہے۔ آپ اپنا وقت ضائع مت کریں۔ اگر آپ کو لگتا ہے یہ باتیں پہلے ہو چکی ہیں ہیں تو ہمیں کیوں کہہ رہے ہیں کہ مت لکھیں۔ اگر ہم لکھ رہے ہیں تو آپ ”ہم سب، کا سیاسی یا ادبی، یا غیر ملکی حصہ پڑھ سکتے ہیں۔ کسی نے مجبور نہیں کیا کہ دل جلانے کو گولڈن گرلز پڑھا جائے۔

ہم نے بہت موضوعات پہ لکھا ہے رومان، مزاح، نفسیات، اخلاقیات، سیاست۔ کبھی وہ بھی پڑھا ہو تا۔ خیر اگر ہم کہہ دیں بچے بہت پیدا ہو چکے، انسان بہت مر چکے اب یہ دونوں کام مت کریں۔ تو کافی غیر اخلاقی سی، غیر فطری سی بات ہو جائے گی۔

آپ پڑھی لکھی عورت، فیمنسٹ عورت اور اس عورت کو، جو آپ کے دفتر میں کسی مجبوری کے تحت کام کرتے ہوئے اپنے پورے وجود کو آپ کے حوالے کر دیتی ہے۔ ایک جیسا کیسے سمجھ سکتے ہیں؟ اپنی سوچ کو کلیئر کیجئے۔

پڑھی لکھی عورت دو طرح کی ہے ایک خاندانی پڑھی لکھی خواتین ہیں۔ جن کی نسلوں میں عورت کی تعلیم ہے۔ جب سکول بھی نہیں ہوا کرتے تھے ان کے گھروں میں انہیں پڑھایا جاتا تھا۔ جو اپنے دور کی شاعرات گزری ہیں۔ کسی دور میں شاعری لکھنوی رنگیلیت سے ماورا تہذیب و شائستگی کا حصہ ہوا کرتی تھی۔ اس کے بعد آتی ہیں وہ خواتین جن کی تعلیم کے لئے فیمینسٹ عورت نے اپنے جذبات و جسم پہ کھیل کر جنگ لڑی۔ انہیں گندی عورتوں کی وجہ سے آج آپ میں یہ شعور بیدار ہوا کہ لڑکیوں کو پڑھانا چاہیے۔ یہ ہمارے سماج میں دوسری اور کسی خاندان کی تیسری نسل کی کہانی ہے۔ اس لئے اپنے اذہان میں اس بات کو کلیر کیجئے کہ خاندانی پڑھی لکھی عورت اور سماج کی نئی پڑھی لکھی عورت میں فرق ہے۔ اسی طرح ان کے رویوں میں فرق ہے۔

ان دونوں عورتوں کے بعد وہ عورت ہے جو آپ کے اذہان کا خمار ہے۔ بائی، اب اس طبقے نے بھی تعلیم حاصل کر لی ہے۔ تو بہت معذرت کے ساتھ جب آپ بائیوں کی مثالیں دیں تو دیکھ لیا کیجئے کہ آپ کے سامنے کون سی عورت کھڑی ہے۔ پریکٹیکل بائیاں جن کی آپ بات کرتے ہیں کہ آپ کو بہکا دیتی ہیں۔ تو آپ تو بہکنے کے لئے ہر وقت تیار بیٹھے ہیں۔ اور جو بائی نما عورتیں آپ کے پاس ہیں، آپ ان کو بائی کی مثال کبھی نہیں دیں گے۔ کیونکہ یہ مثال شریف عورت کو دے کر آپ خود کو تسکین دے رہے ہوتے ہیں کہ گالی نہیں نکالی مگر کہہ بھی دیا۔ اور عورت کو اس کی اپنی نگاہ میں گرانا چاہتے ہیں۔ یہ خالص پدرسری رویہ ہے۔ جسے اخلاقیات کے باب میں دوسرے کی توہین کرنا کہتے ہیں۔

اب یہ کلیر کیجئے کہ یہ سب عورتیں جو پڑھ گئی ہیں۔ ان کا تقابل بائی موراں یا جنرل رانی یا کسی بھی منٹو کی کوٹھے والی سے نہیں ہے۔ شریف عورت اور ان مجبور یا اپنی مرضی سے اس پیشے میں رہنے والی عورت میں فرق ہے۔

آپ کو لگتا ہے کہ عورت آپ کو پھانستی ہے۔ تو وہ بھی تو آپ جیسی ہو گی۔

ہمارا موقف اتنا سا ہے آپ کو عورت سے جسمانی غلاظت چاہیے تو آپ جیسی میلی میلی عورتیں سماج میں موجود ہیں۔ ان کے پاس جائیے۔ شریف عورت کی طرف مت آئیے۔ آپ کو اپنی جیسوں کو اپنے عضو کی تصویر بھیجنے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔ انہیں سب کچھ خود ہی آ تا ہے۔ صاف ستھری بات ہے کہ اپنے جیسے کاموں کے لئے اپنی جیسی عورت کا انتخاب کیجئے۔ یہ الزام مت دیجئے کہ مرد کو عورت سے دوستی میں چاہیے کیا ہو تا ہے۔ صرف جسم، تو یہ ایک فطری سی بات ہے۔ اتنا فطری تو جانور بھی نہیں ہو تا کہ ہر مادہ کے ساتھ ہر وقت مصروف رہے۔

تحریم تمہارے ایجادی لفظ دیسی مرد کو سمجھنا اتنی مزے کی بات ہے۔ کالمز آتے رہے، میں خامشی سے سب دیکھ رہی تھی کہ جن مردوں کے نام نہیں بھی لئے گئے یہ پردہ نشین آئے اور کالم کے نیچے فخریہ لکھ کر چلے گئے کہ بھئی یہ بات تو ہم نے تم کو اپنا سمجھ کر ان باکس میں کی تھی۔

دوسری طرف تین تین شادیوں والے مرد جیسے عمران خان، ڈاکٹر عامر لیاقت حسین، اور ڈاکٹر مجاہد مرزا، کسی کے لفظ اور کسی کی حرکات ایک خاص دیسی باسی مہک دیتے رہے۔ اور ہم سوچتے رہے کہ ہمیں ابھی نہیں لکھنا۔ مگر، قلم کہنے لگا ”جانی بس کر دو، اور ہم نے انگلیوں کو بہت دن بعد لیپ ٹاپ کے سینے پہ رقص کر نے کے لئے آ زاد چھوڑ دیا۔

ڈاکٹر مجاہد مرزا صاحب نے ڈاکٹر طاہرہ کاظمی کے حوالے سے جو کچھ لکھا۔ ایک مردانہ سوچ اور تربیت کا عکاس تھا۔ ان لفظوں سے کسی حسد کی بو آ رہی ہے۔ ان جیسے کتنے ہی مرد فیمنسٹ ہیں جنہیں بنیادی باتوں کا ہی علم نہیں۔

سب سے پہلی ذہنی وسعت یہ ہے کہ آپ عورت کی سوچ کا احترام کریں۔ اس پہ اپنی مردانہ فیمینزم مسلط کرنے کی کوشش مت کریں۔ بعض جگہ تہذیبوں کے فرق سے ذہنی وسعتوں اور فقدانوں کے سمندر بھی حائل ہوتے ہیں۔ ان کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

عورت کی سوچ و فکر کو قبول کرنا شروع کریں۔ وہ سوچ بھی سکتی ہے، بول بھی سکتی ہے اور اس کا اپنا نظریہ بھی ہو سکتا ہے۔ آپ حاکم بن کر اپنے نکتہ نظر کو اس کی سوچ پہ فوقیت دینے کے کوشش مت کریں۔ نادرہ کے ڈیٹا پہ یقین مت کریں کہ آپ کا شناختی کارڈ بتا رہا ہے کہ آپ مرد اور بالغ ہیں۔

تحریم تم نے پوچھا کہ ایسی کوئی سچی محبت میرے حصے میں آئی یا نہیں۔ تو میری جان پہلی بات یہ کہ ہم بھی اسی منافق سماج کا حصہ ہیں، جہاں عورت جسم ہی جسم ہے۔ تو گوشت کی بو ہمیں پسند نہیں۔ محبت تو ہمارے نصیب میں اتنی آئی کہ زندگی کھو گئی۔ جس محبت کی تم بات کرتی ہو۔ اس کے لئے، جہاں ہم رہتے ہیں وہاں ”گائے، ہو نا ضروری ہے۔ اور مجھے بیل بھی پسند نہیں ہیں۔

جذبات کا بے جا استعمال توانائیاں ضائع کرنے والی بات ہے۔ سو کبھی یہ شعر پڑھنے کی نوبت ہی نہیں آئی۔
عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے
اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے
تمام گولڈن گرلز اینڈ بوائز عید مبارک

گولڈن گرلز - رابعہ الربا اور تحریم عظیم
اس سیریز کے دیگر حصےلڑکے روتے نہیں ہیں، تم لڑکی ہو کیا؟ مرد بنوگولڈن گرلز: شریف عورت کون ہوتی ہے؟

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

گولڈن گرلز - رابعہ الربا اور تحریم عظیم

گولڈن گرلز کے عنوان کے تحت رابعہ الربا اور تحریم عظیم بتا رہی ہیں کہ ایک عورت اصل میں کیا چاہتی ہے، مرد اسے کیا سمجھتا ہے، معاشرہ اس کی راہ میں کیسے رکاوٹیں کھڑا کرتا ہے اور وہ عورت کیسے ان مصائب کا سامنا کر کے سونا بنتی ہے۔ ایسا سونا جس کی پہچان صرف سنار کو ہوتی ہے۔

golden-girls has 28 posts and counting.See all posts by golden-girls

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments