عبادت کب تک؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رمضان کی رونقیں، اعتکاف کی برکتیں، مساجد میں عبادت کے لیے آنے والے بچوں، بزرگوں اور نوجوانوں کا ایک پرکشش ہجوم رہا، جسے دیکھ کر ایک ناقابل بیان خوشی محسوس ہوتی رہی۔ جس سے یہ بات واضح ہوئی کہ ایمانی جذبہ آج بھی مسلمانوں کے سینوں میں موج زن ہے۔ اب جبکہ رمضان کی بابرکت ساعتیں سمٹنے کو ہیں، آخری عشرہ تکمیل کے مراحل تک تقریباً پہنچ چکا ہے، مہمان نے رخت سفر باندھ لیا ہے، میزبان آداب و سلامتی سے رخصت کرتے نظر آرہے ہیں، کچھ باتیں ایسی ہیں جن پر ہمیں فکرمند ہونے کی ضرورت ہے۔

رمضان میں تو شہروں کی مساجد میں چوبیس گھنٹے عبادت گزاروں کا آنا جانا لگا رہا، قیام اللیل صوم النھار کی نورانیت ہر سو پھیلی رہی۔ کوئی قرآن پڑھ رہا ہے، کوئی سن رہا ہے، کوئی لیلۃ القدر کی تلاش میں ہے، تو کوئی ختم القرآن کی محفل میں، غرض یہ کے ایمانی حرارت عروج پر ہوتی ہے۔ ہر مؤمن کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ رمضان میں زیادہ سے زیادہ عبادت کر کے رب کائنات کو منایا جائے۔ اور اپنے طویل رستوں اور ابدی منزل کی جانب بڑھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ زاد راہ جمع کر لیا جائے۔ لیکن جب رمضان اپنے اختتام کو پہنچتا ہے تو مساجد کی بہاروں میں واضح کمی محسوس ہوتی ہے۔ ایک چاند کو دیکھ کر مساجد کی رونق بننے والے دوسرا چاند دیکھ کر مساجد کی ویرانی کا سبب بن جاتے ہیں، اور جمعہ کے علاوہ بہت کم ہی مساجد کی رونقیں دیکھنے کو نصیب ہوتی ہیں۔ جس سے کچھ معصومانہ سوالات جنم لیتے ہیں۔

کیا ایسا تو نہیں کہ ہمارے رب نے صرف رمضان میں ہمیں کھلایا ہو؟ اور رمضان گزر جانے کے بعد وہ ہمیں بھوکا رکھتا ہے۔ کیا ہمارے رب نے ہمیں صرف رمضان میں لباس پہنایا ہے۔ ؟ کیا ہماری عبادتیں صرف رمضان میں قبول ہوتی ہیں۔ ؟ کیا ہماری پریشانیاں صرف رمضان میں حل ہوتی ہیں۔ ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمارے رب نے ہمارے روزگار کا بندوبست صرف رمضان میں کیا ہے۔ ؟ کہیں رمضان کے علاوہ عبادت سے روگردانی کرنے کا حکم کسی کتاب میں تو نہیں آیا؟ ہو سکتا ہے کہ ہم رمضان میں عبادت صرف اس لیے کرتے ہوں کہ ہم اللہ کی نعمتوں سے فائدہ صرف رمضان میں اٹھاتے ہیں۔ ؟

ان تمام سوالات کے جوابات کا سوچ کر سر شرم سے جھک جانا چاہیے۔ کہ ہمارے رحیم و کریم رب نے ہمیں کس چیز سے نہیں نوازا، ہم تو 24 گھنٹے اس کی نعمتوں اور رحمتوں میں رہتے ہیں۔ ہم اگر چند لمحے اس فکر پر خرچ کرنے کی زحمت کریں، تو ہمیں احساس ہوگا کہ ہمارے بدن کا ہر عضو ایسا ہے کہ جس کی عطا پر ہم ساری زندگی شکر ادا کرنا چاہیں تو نہ کر سکیں۔

میں زیادہ دور نہیں جانا چاہتا، سر دست صرف ایک ایسی نعمت کا تذکرہ کرنا مناسب ہو گا جس کی طرف ہم نے بہت کم توجہ کی ہو گی۔ وہ لعاب دھن (تھوک) کی نعمت ہے۔ جسے ہم اکثر نفرت سے پھینکتے ہیں۔ ذرا تصور کی وادی میں قدم رکھیں، اور سوچیں کہ اگر ہم اس نعمت سے محروم ہو جائیں تو ہم دنیا کے کسی ذائقے کا مزہ حاصل کرنے کے قابل نہ رہیں۔ اور مزید یہ کہ ہمیں ہر لقمے کے ساتھ پانی کا گھونٹ بھی لینا پڑے گا، تب جا کر خوراک کو نگلا جا سکے گا، اور یوں ہم اس چیز کے اصلی ذائقے سے لطف اندوز ہونے سے محروم ہو جائیں گے، اور نہ ہی ہم ہر قسم کی خوراک کھا نے کے قابل رہیں گے۔ یہ اس اللہ ہی کی عطا ہے جس کی عبادت ہم اپنی ہی مرضی سے کرتے ہیں، جبکہ اس نے ہمیں بغیر کسی معاوضے کہ اپنی بے شمار عظیم نعمتوں سے نواز رکھا ہے۔

اگر ہم جس طرح رمضان میں قرآن کی تلاوت و ترجمہ کی طرف راغب ہوتے ہیں، یونہی گر ہم فرصت کے لمحات میں مصحف قرآن کو اٹھانے کی زحمت کرنا گوارا کرتے رہیں تو ہماری زندگی کی بہت سی الجھنیں، سلجھنوں میں بدل سکتی ہیں۔

قرآن ہی کے مطالعے سے ہمیں معلوم ہو تا ہے کہ ہمارے رب نے ہمیں کیوں پیدا کیا۔ اس لئے کہ قرآن میں ہماری تخلیق کا مقصد کچھ ان الفاظ سے بیان کیا گیا ہے :

(اور میں نے جن و انس کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ س: 56۔ آیۃ: 51 )

اب ہم نے عبادت کب تک کرنی ہے، اس کا بھی قرآن نے ہمیں واضح الفاظ میں بتایا ہے اس کے لیے کوئی مہینہ، دن یا رات مخصوص نہیں ہے (اگرچہ فضیلت ہے ) کہ ہم صرف رمضان میں یا اس کے علاوہ جمعہ یا کسی اور خاص دن یا رات میں تو عبادت کریں، لیکن باقی دنوں میں ہم غفلت کا مظاہرہ کریں۔

قرآن میں اللہ نے اپنے محبوب پیغمبرﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
(آپ بندگی کیجیئے اپنے رب کی یہاں تک کہ آپ کے پاس یقینی بات (موت) آ جائے۔ س: 16، آیۃ 99 )
جس معاملے میں پیارے نبیﷺ کو یہ ارشاد ہے تو اس میں ہم سستی کریں تو یہ کہاں کا انصاف ہے۔

لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نے جس طرح رمضان میں بدنی و مالی عبادت میں خود کو مشغول رکھا اسی طرح غیر رمضان میں بھی خود کو نیک کاموں کی جانب متوجہ کرتے رہنا چاہیے، اور اپنے مقصد تخلیق کو کبھی بھی نظر انداز کرنے کی کوشش نہ کریں، جس طرح رمضان میں بھوک پیاس نے ہمیں، بھوکوں اور پیاسوں کی یاد دلائی یونہی غیر رمضان میں بھی ان کے احساس کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھیں، جب تک سانسیں چل رہی ہیں کوشش یہ ہونی چاہیے کہ منعم ذات کی نا شکری نہ کریں، اور اس معاملے میں اللہ سے توفیق کی دعا بھی کریں۔ اللہ تعالیٰ تمام امت مسلمہ کو عبادات و دیگر اعمال صالحہ میں استقامت نصیب فرمائیں۔ آمین!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *