ہیرو کون؟ جسٹس فائز عیسیٰ کے والد یا چھپن انچ کے سینے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیر اعظم ٹھیک فرماتے ہیں کہ ملک میں صنعتی ترقی کا دور شروع ہو رہا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک میں خواب آور گولیوں کی صنعت خوب ترقی کر رہی ہے۔ کیونکہ جب سے جسٹس فائز عیسیٰ صاحب کے خلاف صدارتی ریفرنس سپریم کورٹ میں ناکام ہوا اور پھر نظر ثانی کی اپیل میں بھی حکومت کو ناکامی ہوئی بہت سے لوگوں نیندیں حرام ہو گئی ہیں۔ ان لوگوں کی نیندیں تو حرام ہو چکی ہیں لیکن ان کی خواہش ہے کہ ملک میں کسی اور کو بھی نیند نہ آئے۔ حکومت کو جتنا زور لگانا تھا سپریم کورٹ میں لگا لیتی۔ اب لکیر کو پیٹنے اور ناحق پوری قوم کی سمع خراشی کرنے کا کیا فائدہ؟

اب کیا ہو رہا ہے؟ سوشل میڈیا پر ایک ٹیم سرگرم ہے۔ آپ کو اس موضوع سے کوئی دلچسپی ہو یا نہ ہو روزانہ ٹویٹر پر اور واٹس اپ پر اور سوشل میڈیا پر آپ کو کافی کچھ پڑھنے کو مل جاتا ہے کہ تمہیں کچھ ہوش ہے کہ اگر جسٹس فائز عیسیٰ صاحب پاکستان کے چیف جسٹس بن گئے تو کیا قیامت آ جائے گی۔ اس وقت وہی منظر نظر آ رہا ہے جو کہ جوش ملیح آبادی نے پاکستان میں اپنی آمد پر ہونے والے رد عمل کا کھینچا تھا۔ جوش صاحب ’یادوں کی برات‘ میں اس بارے میں لکھتے ہیں

” میرا پاکستان آنا ایسا معلوم ہوا گویا کوئی زبردست ڈاکو قارون کے خزانے پر ٹوٹ پڑا ہے یا ابرہہ نے کعبہ کا محاصرہ کر لیا ہے۔ یا کام دیو اچھوتیوں کے محل میں کود پڑا ہے اور تمام کنواری کنیاں، ہائے اللہ، ہائے اللہ کے نعرے لگا کر بھاگ رہی ہیں۔“

آج ہی مجھے ایک ویڈیو ملی۔ یہ ویڈیو اس ذکر سے شروع ہوتی ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ پاکستان کے نظام عدل کو جس دہانے پر لے آئے ہیں اس کے کانٹے چنتے چنتے شاید کئی دہائیاں گزر جائیں گی [جیسے پہلے سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا]۔ اس کے بعد اس ویڈیو میں یہ قصہ سنایا جاتا ہے کہ یونانی شہنشاہ Levandus کے زمانے میں ایک جج نے بد عنوانی کی تو اس شہنشاہ نے اس جج کی کھال اتروا کر اس میں بھس بھروا کر اس کی کھال شہر میں لٹکوا دی تھی۔ [ ویڈیو میں ایک لاش قلعے کی دیوار سے گرتی ہوئی دکھائی جاتی ہے۔ ] کہتے ہیں کہ پھر سو سال تک کسی جج نے بد عنوانی نہیں کی۔

یہ میری لاعلمی تھی کہ میں اس شہنشاہ کے نام سے واقف نہیں تھا۔ میں نے انٹرنیٹ پر جائزہ لیا تو اس نام کا کوئی یونانی یا رومی شہنشاہ نہیں ملا۔ ورنہ میں اس کھال کھینچنے والے شہنشاہ کی بربریت کا مطالعہ کر لیتا۔ اگر ایسا کوئی بادشاہ تھا تو بہر حال اس کے اس فیصلے کو مشعل راہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

کل خاکسار کو ایک مضمون موصول ہوا۔ اس کا عنوان تھا ”سانپ کی اولاد سانپ ہی ہو سکتی ہے۔“ ذرا تصور فرمائیں کہ یہ کن کی طرف اشارہ تھا؟ یہ لکھتے ہوئے سر شرم سے جھک جاتا ہے کہ یہ مضمون محترم جسٹس فائز عیسیٰ صاحب اور ان کے محترم والد گرامی محترم قاضی محمد عیسیٰ صاحب کے بارے میں تھا۔ اگر کسی گروہ کا جسٹس فائز عیسیٰ صاحب سے اختلاف تھا تو اس اختلاف کو ان کی ذات تک محدود رکھتے۔ پہلے ایسے حالات پیدا کیے کہ ان کی بیگم صاحبہ کو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑا۔

اور کچھ ثابت بھی نہیں ہوا۔ اگر کچھ ثابت ہوا تو یہ ہوا کہ ان کے خلاف صدارتی ریفرنس بد نیتی سے بنایا گیا تھا۔ اور اب ان کے مرحوم والد پر کیچڑ اچھال کر اپنی اخلاقی حالت زار کا اشتہار دیا جا رہا ہے۔ اور یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ قاضی محمد عیسیٰ صاحب نے یہ سازش کی تھی کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ نہ بنے۔

سوشل میڈیا پر سرگرم یہ احباب تاریخ بیان کرنے کی بجائے تاریخ ایجاد کر رہے ہیں۔ مناب ہوگا کہ جسٹس فائز عیسیٰ صاحب کے والد قاضی محمد عیسیٰ صاحب کے مختصر حالات بیان کیے جائیں۔ آپ نے 1936 میں مڈل ٹمپل ان سے بار ایٹ لا کا امتحان پاس کیا اور کچھ عرصہ لندن بار میں پریکٹس کی اور ایک سال بعد ہندوستان آ کر بمبئی میں پریکٹس شروع کر دی اور یہیں پر قائد اعظم اور آپ کی دوستی کا آغاز ہوا۔

اس وقت بلوچستان میں مسلم لیگ کی کوئی شاخ نہیں تھی۔ قائد اعظم نے قاضی محمد عیسیٰ صاحب کو بلوچستان مسلم لیگ کا صدر مقرر کر کے، ان کے سپرد یہ کام کیا کہ وہ بلوچستان میں مسلم لیگ کی شاخ قائم کریں۔ انہوں نے اس غرض کے لئے 1939 میں بلوچستان کا دورہ کیا اور مسلم لیگ کے سیکریٹری لیاقت علی خان صاحب کو رپورٹ بھجوائی کہ بلوچستان میں اس تحریک کا بہت اچھا رد عمل سامنے آیا ہے۔ اور ہر جگہ پر ہزاروں لوگوں نے ان کا خیر مقدم کیا ہے۔ اور مئی کی ایک رپورٹ میں انہوں نے لکھا کہ بلوچستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لئے کانگرس مجلس احرار کے قائد عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب کو استعمال کر رہی ہے تاکہ مسلم لیگ کامیاب نہ ہو۔

اگست میں قاضی محمد عیسیٰ صاحب نے بلوچستان میں مسلم لیگ کی بنیاد رکھی اور اگلے مہینے میں بلوچستان مسلم لیگ باقاعدہ طور پر آل انڈیا مسلم لیگ کی ایک شاخ بن گئی۔ 1940 میں جب علیحدہ ملک کے قیام کے لئے قرار داد لاہور منظور کی گئی تو اس کو پیش کرنے والے تیرہ احباب میں ایک نام قاضی محمد عیسیٰ صاحب کا بھی تھا۔ اور 1943 میں بلوچستان مسلم لیگ کا اجلاس قاضی محمد عیسیٰ صاحب کی زیر صدارت ہوا اور اس میں قائد اعظم بھی شریک ہوئے۔

قاضی عیسیٰ صاحب نے نہ صرف بلوچستان میں مسلم لیگ قائم کی بلکہ پاکستان کی تحریک چلانے کے لئے یہاں سے رضاکار دوسرے صوبوں میں بھی بھجوائے۔ جب بہار میں مسلم کش فسادات ہوئے تو بلوچستان سے رضا کار اور مالی مدد بہار بھجوائی گئی۔ 1946 میں جب کوئٹہ میونسپل کے انتخابات ہوئے تو اس میں مسلم لیگ نے پانچ اور کانگرس نے چار نشستیں حاصل کیں۔ ایک پارسی ممبر منتخب ہوئے تھے جو مسلم لیگ سے مل گئے۔ قاضی صاحب کی تحریک کا یہ اثر تھا کہ کوئٹہ کے سکھوں نے بھی مسلم لیگ کی حمایت شروع کردی۔ اور جب پنجاب میں خضر حیات صاحب کی وزارت کے خلاف مسلم لیگ تحریک چلا رہی تھی تو آپ نے اس تحریک کے حق میں کوئٹہ میں بھی کامیاب ہڑتال کرائی۔

آزادی کے وقت وائسرائے نے یہ فیصلہ کیا کہ شاہی جرگہ اور کوئٹہ میونسپل کے منتخب اراکین مل کر فیصلہ کریں گے کہ بلوچستان نے پاکستان کا حصہ بننا ہے یا ہندوستان کا۔ جب رائے شماری ہوئی تو کوئٹہ میں پاکستان کے حق میں لوگوں کا جھکاؤ اتنا ہو چکا تھا کہ متفقہ طور پر سب نے پاکستان میں شامل ہونے کے حق میں رائے دی۔

( Journal of the Research Society of Pakistan, Volume No. 56, Issue No. 2 (July. December, 2019 )

یہ تھے قاضی محمد عیسیٰ صاحب۔ وہ پاکستان بنانے کے لئے اس وقت مختلف صوبوں میں جد و جہد کر رہے تھے، جب جنرل ایوب اور جنرل ضیاء یونین جیک کے سائے تلے برما میں جاپانیوں سے جنگ لڑ رہے تھے۔ اور جنرل آغا محمد یحییٰ خان برطانوی فوج میں بھرتی ہو کر شمالی افریقہ میں تاج برطانیہ کی خدمت کر رہے تھے۔ چھپن انچ کے ان سینوں نے پاکستان بنانے میں کیا کردار ادا کیا تھا؟

آج جسٹس فائز عیسیٰ کی دشمنی میں سوشل میڈیا پر مہم چلانے والے ان کے والد کو غدار، سانپ اور نہ جانے کیا کچھ کہہ رہے ہیں۔ مجھے علم نہیں کہ سوشل میڈیا پر یہ اوٹ پٹانگ مہم کون نیم خواندہ چلا رہا ہے اور کون اس کی پشت پناہی کر رہا ہے؟ لیکن اگر ان کا تعلق پاکستان سے ہے تو انہیں تحریک پاکستان کے ایک ہیرو کے بارے میں ایسی گھٹیا زبان استعمال کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *