گنگا ندی میں لاشوں کے ڈھیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا میں گنگا ندی ہندووں کا مذہبی مقام ہے جہاں ہندو اشنان (نہاتے ) اور پوجا کرتے ہیں۔ دو روز قبل انڈیا میں بہار کے بکسر ضلع میں حسب معمول ہندو صبح کو گنگا ندی اشنان کرنے کے لئے گئے تو ایک عجیب اور خوفناک منظر دیکھ کر حواس باختہ رہ گئے۔ گنگا ندی میں ہر طرف انسانی لاشیں تیر رہی تھیں۔ یہ خبر پورے شہر میں پھیل گئی اور ہر طرف افراتفری مچ گئی۔ پولیس اور ریسکیو ٹیمیں وہاں پہنچ گئیں اور گنگا ندی میں تیرتی لاشیں نکالنے لگے۔

کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ ندی میں کتنی لاشیں ہیں اور کہاں سے آئی ہیں؟ ریسکیو ٹیم لاشیں نکالتی جا رہی تھی اور لوگ تماشائی بنے لاشیں گنتے جا رہے تھے لیکن ندی میں تیرتی لاشیں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں چنانچہ مزید ریسکیو ٹیموں کو طلب کیا گیا۔ ریسکیو ٹیموں نے لاشیں نکال کر جب گنتی کی تو شہر بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ گنگا ندی میں سے تقریباً پچاس لاشیں برآمد ہو چکی تھیں جبکہ مزید لاشیں نکالی جا رہی تھیں۔

لاشیں پھول چکی تھیں اور ابھی تک یہ بات معمہ بنی ہوئی تھی کی لاشیں کن کی ہیں؟ کس نے ان کو مارا ہے اور یہ کہاں سے آئی ہیں؟ ریسکیو ٹیموں کا کہنا تھا کہ ندی میں مزید پچاس لاشیں ہو سکتی ہیں جو تیرتی ہوئی آگے چلی گئی ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ یہ لاشیں ان بدقسمت انسانوں کی تھیں جنھیں کسی نے قتل نہیں کیا تھا بلکہ یہ وہ کورونا مریض تھے جو اپنی لاپرواہی اور بے احتیاطی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے تھے اور پھر اپنی آخری رسومات سے بھی محروم ہو گئے۔

انڈیا میں اس وقت روزانہ ہزاروں کی تعداد میں لوگ کورونا سے ہلاک ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے شمشان گھاٹ میں ہندو مردوں کو جلانے کے لئے جگہ تک نہیں مل رہی اسی لئے شاید ان مردوں کی آخری رسومات ادا کیے بغیر ہی انھیں گنگا ندی میں بہایا جا رہا ہے لیکن اس عمل سے کورونا وائرس مزید پھیلنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے کیونکہ گنگا ندی انڈیا میں بہت دور تک بہتی ہے اس طرح کورونا میں مبتلا افراد کی لاشیں گنگا ندی میں جہاں جہاں سے تیرتی ہوئی گزریں گی وہاں کورونا پھیلتا جائے گا۔

ادھر انڈین سیاست دانوں اور اداروں کی بے حسی دیکھئے، مردوں کی بے حرمتی اور اس پر سیاست کرنے سے بھی باز نہیں آئے۔ گنگا ندی میں بہائی جانے والی لاشوں کو مسلمان قرار دیا جا رہا ہے۔ جب مقامی انتظامیہ کو معلوم ہوا کہ لاشیں کورونا مریضوں کی ہو سکتی ہیں تو انھوں نے لاشیں خود اٹھانے کی بجائے اعلان کر دیا کہ جو بھی ان لاشوں کو ٹھکانے لگائے گا اسے پانچ سو روپے معاوضہ دیا جائے گا۔ بے حس مودی سرکار جو انڈیا اور مقبوضہ کشمیر میں زندہ انسانوں کو بے رحمی سے موت کے منہ میں پہنچا رہی ہے اسے بھلا مردوں کی بے حرمتی کا کیا احساس ہوگا۔

انڈیا میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے ساڑھے تین لاکھ سے زائد کیسز درج ہوچکے ہیں جبکہ ساڑھے تین ہزار سے زائد کورونا مریضوں کی موت ہو چکی ہے۔ بڑھتی ہوئی اموات اور شمشان گھاٹ کی کمی کی وجہ سے مرنے والوں کی لاشیں ندیوں، دریاوں میں بہائی جا رہی ہیں جس کی وجہ سے ان ممالک میں بھی کورونا کی خطرناک قسم پھیلنے کا خدشہ ہے جہاں انڈیا سے دریا بہہ کر آتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی حالیہ رپورٹ کے مطابق انڈیا میں کورونا وائرس کی نئی لہر انتہائی خطرناک اور تیزی سے منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اس وائرس کی درجہ بندی ”آف کنسرن“ کرتے ہوئے اسے عالمی سطح پر تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کورونا کی یہ نئی قسم ”B۔ 1.617“ ہے جو ایک انسان سے دوسرے انسان میں بہت تیزی اور آسانی سے پھیل سکتی ہے یہی وجہ ہے کہ انڈیا میں کورونا کی یہ نئی قسم روزانہ ہزاروں افراد کو موت کے منہ میں پہنچا رہی ہے۔ پوری دنیا میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 15.89 کروڑ سے زائد ہو چکی ہے جبکہ 33.04 لاکھ کورونا مریض ہلاک ہوچکے ہیں۔

امریکہ کی جان ہائپکنز یونیورسٹی کے سینٹر فار سائنس اینڈ انجنیئرنگ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے 192 ممالک اور خطوں میں متاثرہ افراد کی تعداد 15.98 کروڑ سے زائد ہو چکی ہے۔ کورونا سے نمٹنے کے لئے حکومت پاکستان نے جو اقدامات کیے ہیں ان کی عالمی سطح پر تعریف کی جا رہی ہے لیکن عوام ابھی بھی کورونا کو سیریس نہیں لے رہی۔ گلیوں، بازاروں، محلوں میں لوگ بغیر ماسک کے گھومتے رہتے ہیں۔ کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے کے لئے پولیس کو جگہ جگہ گشت کرنا پڑتا ہے، جہاں کہیں پولیس نظر آ جائے تو شہری وقتی طور پر ماسک پہن لیتے ہیں۔

ایک طرف ہم جذبہ انسانیت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو دوسری جانب لاپرواہی اور بے احتیاطی کر کے نہ صرف اس جذبہ کو بلکہ قیمتی انسانی جانوں کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ کورونا وائرس کی وجہ سے تعلیم، صحت، معیشت، روزگار کو پہلے ہی ناقابل تلافی نقصان پہنچ چکا ہے اب اگر ہم نے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت نہ دیا تو خدانخواستہ کورونا وائرس خطرناک حد تک پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ اس سنگین صورتحال سے بچنے کے لئے ہر شہری کو کورونا ایس او پیز پر ازخود سختی سے عمل کرنا ہوگا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments