کیا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ملنا چاہیے؟
اپنی رائے دینے سے پہلے چلیں آپ سے سن لیتے ہیں۔ اور اس سے بھی پہلے اس امر کا تعین کر لیتے ہیں کہ ووٹ دیا کیوں جاتا ہے۔
تو جناب جمہوری بندوبست میں لوگ اس کے ذریعہ سے اپنے لئے حکومت منتخب کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ اپنا حق حکمرانی ایک شخص یا جماعت کو تفویض کر دیتے ہیں اور اپنے معاملات اس کے سپرد کر دیتے ہیں۔ اس ووٹ کے صحیح استعمال کی ذمہ داری ووٹ ڈالنے والوں پر عائد ہوتی ہے اور نتائج بھی انہی کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ اور پھر انہی نتائج کی بنیاد پر وہ آئندہ انتخابات میں بھی کسی کی حمایت یا مخالفت کا فیصلہ کرتے ہیں۔
جو لوگ بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے مخالف ہیں، ان کا بنیادی موقف یہ ہے کہ ووٹ کے استعمال کا اصل مقصد اپنے لئے نمائندہ حکومت منتخب کرنا ہے نہ کہ دوسروں کے لئے۔ اگر بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دے دیا جائے تو اس کا عملی نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ پاکستان میں ایک ایسی حکومت بننے کے عمل پر اثر انداز ہو سکیں گے جس کے زیر سایہ ان کو نہیں بلکہ دوسروں کو رہنا پڑے گا۔ اب یہ حکومت اچھی بھی ہو سکتی ہے اور بری بھی۔ اور اگر یہ حکومت بری ثابت ہوتی ہے تو بیرون ملک رہنے والے پاکستانی اس سے براہ راست متاثر نہیں ہوتے، ہاں پاکستان میں رہنے والوں کو اس کو بھگتنا پڑے گا۔ گویا کرے کوئی، بھرے کوئی!
حق رائے دہی دینے کے مخالفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بیرون ملک بسنے والے پاکستانیوں کو اگر پاکستان میں ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈالنے اور حکومتیں منتخب کرنے میں کردار ادا کرنے کی خواہش ہے تو پھر اخلاقی طور پر انہیں منتخب شدہ حکومتوں کے زیر سایہ پاکستان میں سکونت بھی اختیار کرنی چاہیے۔
مخالفین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ بیرون ملک بسنے والے پاکستانی دعویٰ کر سکتے ہیں کہ میڈیا اور انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بسنے والے ان کے رشتہ داروں اور دوستوں کی وساطت سے وہ پاکستان کے حالات سے مکمل طور پر با خبر رہتے ہیں اور اس کی بدولت، سیاست کے حوالہ سے اچھے اور برے میں تمیز کر سکتے ہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ کسی امر کا مشاہدہ کرنا یا اس کی بابت علم رکھنا، اس میں سے گزرنے کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ جس تن لاگے، سو تن جانے۔
یار لوگ تو یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ بیرون ملک بسنے والے پاکستانیوں میں سے بہت سوں نے تو اس ملک کی شہریت اختیار کر رکھی ہوتی ہے اور اس کی وفاداری کا حلف بھی اٹھا رکھا ہوتا ہے۔ اب کیسے اطمینان کیا جائے کہ یہ لوگ ووٹ ڈالتے ہوئے اس ملک کا نہیں بلکہ پاکستان کا بھلا سوچیں گے، خاص طور پر ان مواقعوں پر جب دونوں ملکوں کے مفادات باہم متصادم ہوں گے ؟
اور اگر وہ ایسے موقعوں پر پاکستان کے مفاد کو ملحوظ خاطر رکھیں گے تو کیا وہ دوسرے ملک کے حوالہ سے اپنے حلف کی خلاف ورزی کریں گے؟
اپنے حلف کا پاس نہ رکھنے والوں پر اب کیسے اعتبار کیا جائے کہ وہ اپنے دیگر معاملات، بشمول ووٹ ڈالنے، میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے؟
دوسری طرف بیرون ملک پاکستانیوں کو حق رائے دہی دینے کے حامیوں کے دلائل میں بھی کچھ کم وزن نہیں۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ ان میں سے بہت سوں نے تو اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ پاکستان میں گزارہ ہوتا ہے اور وہ ملکی معاملات سے پوری طرح آگاہ ہوتے ہیں۔ کوئی کمی بیشی رشتہ داروں اور دوستوں سے ملنے والی معلومات سے پوری ہو جاتی ہے۔ انٹرنیٹ اور میڈیا جیسے معلومات کے دیگر ذرائع اس کے علاوہ ہیں۔ نتیجتاً پاکستان کی سیاست کو نہ سمجھنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، نہ ہی اس بنیاد پر ووٹ کے غلط استعمال کا احتمال ہے۔
ان کا یہ بھی اصرار ہے کہ ملک سے دوری کے سبب بیرون ملک پاکستانیوں کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں، وہ اس کے معاملات میں بڑے حساس ہوتے ہیں، ہر قسم کی شخصی یا گروہی وابستگی سے قطع نظر محض ملکی مفاد کا سوچتے ہیں اور ووٹ ڈالتے ہوئے بھی اسی کو ملحوظ خاطر رکھیں گے۔
بعض دوست تو یہ بھی کہیں گے کہ بیرون ملک اور خاص طور پر ترقی یافتہ ملکوں میں بسنے کے سبب ان کے شعور اور آگہی کا معیار پاکستان میں بسنے والوں کی اکثریت سے بہتر ہو تا ہے، سو وہ ووٹ کا استعمال بھی آخر الذکر سے بہتر کر سکتے ہیں جو آج تک شخصیت پرستی کے چنگل سے ہی نہیں نکل سکے۔
رائے دہندگان کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کی مشروط اجازت دینے کا حامی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیرون ملک مستقل سکونت اختیار کرنے والوں کو تو ایسی اجازت نہیں ملنی چاہیے، البتہ ایسے لوگوں کی بابت سوچا جا سکتا ہے جو دونوں جگہوں پر آتے جاتے رہتے ہوں۔ اس کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ان لوگوں کو ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے جو امیگریشن کے ریکارڈ کے مطابق گزشتہ سال میں کم از کم چھ ماہ پاکستان میں مقیم رہے ہوں۔
بیرون ملک پاکستانیوں کو حق رائے دہی دینے کے معاملے میں آپ کی کچھ بھی رائے ہو سکتی ہے لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کہ یہ معاملہ اتنا سیدھا ہے نہ اتنا سادہ۔ اس کی اہمیت اور نزاکت کے پیش نظر ضرورت اس امر کی تھی کہ کسی بھی فیصلے پر پہنچنے سے قبل، قومی سطح پر ایک سیر حاصل بحث کی جاتی۔ بدقسمتی سے ارباب اختیار کسی ایسی بحث کو برپا کرنے میں دلچسپی لیتے نظر نہیں آتے۔ اور جو تھوڑی بہت بحث اور مشاورت پارلیمان میں ہو سکتی تھی، آرڈینینس لا کر اس کے امکان بھی معدوم کر دیے گئے ہیں۔ اب اگر عام پاکستانی اس معاملے میں رائے زنی کرنا چاہے تو کیا کرے؟
اور تو کچھ ہمیں سوجھا نہیں، سوچا اس معاملے کو عوامی مکالمے اور مباحثے کے لئے ’ہم سب‘ کے پلیٹ فارم پہ لئے چلتے ہیں تو آپ بھی بسم اللہ کیجئے!


