کیا آپ کو پیپلز پارٹی کے اس نعرے کی سمجھ آتی ہے؟ (سیاسی افسانچہ)۔
”مجھے تو کبھی اس نعرے کی سمجھ نہیں آئی۔“
”یہ کون سی بڑی بات ہے، میں سمجھاتا ہوں۔“
”مجھے تو کبھی اس نعرے کی سمجھ نہیں آئی۔“
”یہ کون سی بڑی بات ہے، میں سمجھاتا ہوں۔“
”اکبر خان کیا لائے ہو؟“ وزیراعظم نے پرنسپل سیکرٹری سے استفسار کیا۔
”سر آپ کا حکم تھا کہ حکومت کی تین سالہ کارکردگی پر آپ کو بریف کروں۔“
”ہاں بولو۔“
”میں چاہتا تو برطانیہ میں شہزادوں کی سی زندگی بسر کر سکتا تھا“ خان صاحب نے اپنی گفتگو کا آغاز کیا۔
”بالکل، بالکل“ کابینہ کے اراکین کورس کی شکل میں بولے۔
”لیکن میں نے پاکستان آ کر عوام کی خدمت کا فیصلہ کیا“ انہوں نے گفتگوجاری رکھی۔
” کام نہ کرنے والے افسروں کو گھر بھجوا دوں گا” جسٹس صاحب پہلے کیس میں دھاڑے۔ "درست تفتیش نہ کرنے والوں کی پیٹیاں اتروا دوں گا” دوسرے کیس میں پولیس والوں کو دھمکی لگی۔ "کسی کو ملکی خزانہ لوٹنے نہیں دوں گا” نیب کے ایک ریفرینس میں نامزدسیاستدانوں کی شامت آئی۔ "بی بی تم کیوں کھڑی ہو؟” جسٹس صاحب نے عدالت کے کونے میں کھڑی بوڑھی عورت سے استفسار کیا۔ ” میرے سے اب اور پیشیاں نہیں بھگتی جاتیں”
Read more”اکبر خان کیا لائے ہو؟“ وزیراعظم گویا ہوئے۔
”سر یہ تین کیس ہیں، آپ کی منظوری چاہیے“ پرنسپل سیکرٹری نے جواب دیا۔
”میاں صاحب، ہمارا انداز سیاست کچھ ٹھیک نہیں“ سینیئر پارٹی رہنما آج شکوے کے موڈ میں نظر آ رہے تھے۔
”کبھی ہم ایسی جارحانہ سیاست کرتے ہیں کہ لگتا ہے ہم سے بڑا کوئی انقلابی نہیں“ ۔
”اور کبھی ایسے خاموش ہو جاتے ہیں جیسے کبھی وجود ہی نہ رکھتے ہوں“ ۔
اوکاڑہ میں عورت کی لاش کی بے حرمتی کے واقعے نے پریس کانفرنس کا ماحول خا صا سنجیدہ بنا رکھا تھا۔
”ہم اس شرمناک واقعے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں“ وزیر اطلاعات نے گفتگو کا آغا ز کیا۔
”آپ کل اسمبلی کے فلور پر غلیظ گالیاں دے رہے تھے؟“ شیخ صاحب کو پارلیمنٹ کے احاطے میں داخل ہوتے ہی صحافیوں نے گھیر لیا۔
Read moreپارٹی کا اجلاس جاری تھا۔ اراکین سے اسمبلی کے اجلاس کا حساب کتاب لیا جا رہا تھا۔ تصاویر اور ویڈیو کلپ لئے اراکین قطار میں لگے اپنی اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ لیڈر نے ایک روز قبل اس حوالہ سے خود ہدایات جاری کی تھیں اور اب خود ہی جوابدہی کر رہے تھے۔
Read more”سر، وزیر با تدبیر حکومت کے لئے بوجھ بنتی چلی جا رہی ہیں۔“
”کیوں کیا ہوا؟“
تو جناب جمہوری بندوبست میں لوگ اس کے ذریعہ سے اپنے لئے حکومت منتخب کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں وہ اپنا حق حکمرانی ایک شخص یا جماعت کو تفویض کر دیتے ہیں اور اپنے معاملات اس کے سپرد کر دیتے ہیں۔ اس ووٹ کے صحیح استعمال کی ذمہ داری ووٹ ڈالنے والوں پر عائد ہوتی ہے اور نتائج بھی انہی کو بھگتنا پڑتے ہیں۔ اور پھر انہی نتائج کی بنیاد پر وہ آئندہ انتخابات میں بھی کسی کی حمایت یا مخالفت کا فیصلہ کرتے ہیں۔
Read more