الوداع الوداع ماہ صیام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں ابھی ابھی سوشل میڈیا پر دیکھ رہی تھی کہ پاکستان میں عید کی نماز کے اوقات جاری کر دیے گئے ہیں اور سوچ رہی تھی کہ وقت کس قدر تیزی سے گزرتا ہے۔ ابھی ابھی تو رمضان شریف شروع ہوا تھا اور اب مکمل ہونے کو ہے تو سوچا کہ رمضان شریف کو الوداع کیسے کیا جائے کہ یہ تو وہ مہمان ہے جس کو کوئی اپنے ہاں سے روانہ نہیں کرنا چاہتا مگر بس نہیں چلتا کہ جانے والوں کو کون روک سکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ہمیں اس مبارک مہینے سے کیا ملا۔ بھوک، پیاس اور عبادات کی یہ ٹریننگ ایک مہینہ دے کر باقی سال کے لئے اسے مثال بنایا گیا ہے اور ہمیں یقین ہونا چاہیے کہ ہم رمضان کے بعد بھی مسلمان ہی رہیں گے یا پھر یہ سوچنا چاہیے کہ کیا ہم ماہ صیام میں بھی مسلمان تھے یا نہیں۔

یاد رکھیں قرآن پاک میں جتنی بھی قوموں کی تباہی کا ذکر ہے ان میں ایک بھی قوم کی تباہی کی وجہ نماز، روزہ، حج و زکٰوۃ چھوڑنا نہیں تھی بلکہ کم تولنا، عدل نہ کرنا، کسی کا حق کھانا، ملاوٹ کرنا، ناحق قتل کرنا، زیادہ منافع، فحاشی و بے راہ روی تھی ’اگر سادہ الفاظ میں کہا جائے تو معاملہ حقوق العباد کا تھا، اعمال کا تھا، معاملات کا تھا۔ اللہ پاک نے ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا مال اور جان حرام قرار دی ہے۔ اور مسلمان اپنی زبان یا ہاتھ سے کسی کو ناحق تکلیف نہیں پہنچاتا۔ مسلمان کی جو خوبیاں ہم پڑھتے اور سنتے ہیں وہ ہم میں کیوں نظر نہیں آتیں۔ کیوں ہم اس قدر اخلاقی پستی میں گر گئے ہیں اور احساس بھی نہیں۔

میں ماہ صیام کو اس دعا کے ساتھ الوداع کرتی ہوں کہ اے ہمارے رب تو بابرکت و بلند ہے اس وقت ہمارا وطن معاشی پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے، ہم پر بے پناہ قرض ہے، کورونا نے الگ پریشان کر رکھا ہے اور دہشت گردی کا جن بھی کسی طور واپس بوتل میں بند نہیں ہو رہا۔ ہم ایک دوسرے کی جان کے در پہ ہیں۔ حال ہی میں ہماری پولیس فورس اور آرمی کے اہلکار شہید ہو گئے ہیں، ہمارے حفاظ کرام شہید ہوئے ہیں۔ ہم تجھ سے تیرا فضل مانگتے ہیں اور اپنے وطن کے لئے خیر اور خوشحالی چاہتے ہیں۔

اے اللہ ہم جانتے ہیں کہ ہ۔ ر مش۔ کل ک۔ ے س۔ اتھ آس۔ انی ہ۔ ے اور تو غموں کو خوشیوں اور اجالوں میں بدل دینے کی طاقت رکھتا ہے اور ہر مسلمان دعا کی طاقت سے بھی آگاہ ہے۔ دعا انسان کی پوشیدہ قوت کا نام ہے ’جس نے دعا کا فن سیکھ لیا اس سے بڑا خوش نصیب اور خوش قسمت اور کوئی نہیں، یہ پتھر سے چشمے بہا دے، آسمان سے من و سلوی نازل کروا دے، آگ کو گلزار بنا دے۔ اس لیے ہم تیرے حضور دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ ہمیں احسن عبادات کے ساتھ حقوق العباد صحیح اور احسن طریقے سے ادا کرنے کی توفیق عطا فرما۔

اے رب ذوالجلال ہمیں اپنی رحمتوں اور برکتوں کے ذریعے وہ فضل عطا فرما جو ہمیشہ جاری رہے، وہ راستہ دکھا جو تیری طرف جاتا ہو، وہ کامیابی عطا فرما جو تکبر سے پاک ہو، وہ رزق عطا کر جس میں برکت ہو اور ہمارے ہر کام کی ابتدا اپنی رضا سے اور خاتمہ بھی اپنی خوشنودی پر فرما۔ یا رب کریم ہمیں تمام روحانی اور جسمانی بیماریوں سے محفوظ فرما اور ہمیں آپس کی نفرتوں، بدگمانیوں، عیب گوئیوں، غیبتوں اور منافقتوں سے اپنی پناہ عطا فرما۔

یا اللہ ہمارے وطن پاکستان کو ایسی بہار عطا کر جس کے بعد خزاں نہ ہو، ایسی روشنی عطا کر جس کے بعد اندھیرا نہ ہو، ایسی آسانیاں اور راحتیں عطا کر جن کے بعد پریشانی نہ ہو ’ایسے سکھ عطا کر جن کے بعد دکھ نہ ہوں۔

اے تمام جہانوں کے رب ہمیں ایسی عزت عطا کر جس کے بعد رسوائی نہ ہو اور ایسی نعمتیں عطا کر جن کا زوال نہ ہو۔ تیری عظمت و بزرگی کے عجائب ختم ہونے والے نہیں پاک پروردگار، تو محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ و سلم پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اپنی رحمت کے پردوں میں چھپا کر کج اندیشوں سے محفوظ رکھ۔ ہماری گردنوں کو اپنے غضب و عذاب سے آزاد رکھ۔ ہمیں اپنے ہاں عزت عطا کر اور ہمیں اپنے سامنے رسوا نہ کرنا اور اپنی پیوستگی کے ذریعہ قطع تعلق کرنے والوں کی بے تعلقی و دوری کی تلافی کر دے تاکہ تیری بخشش و عطا کے ہوتے ہوئے کسی دوسرے کے سامنے دست سوال دراز نہ کریں۔

اے تمام جہانوں کے پالنے والے!
میری اس دعا کو ان ناموں کے صدقے قبول فرما جن کے ذکر سے تو نے باوا آدم ؏ کی توبہ قبول کی تھی۔
آمین ثمہ آمین یا رب العالمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *