کیا میری عمر بھر کی محنت میری غلطی ہے؟


سولہ سترہ سال کی بچی تھی، کانچ کی چوڑیاں پہنے پھر رہی تھی کہ کلائی کہیں لگنے سے کچھ چوڑیاں ٹوٹ کر کلائی میں لگ گئیں۔ میں افطاری کے بعد کھانا کھانے لگا تھا، ابھی پہلا نوالہ بھی نہیں توڑا تھا کہ اسے ہسپتال لے آئے۔ کھانا وہیں چھوڑا اور بددعائیں دیتی آنتوں کو۔ نظر انداز کرتا اسے دیکھنے لگ گیا۔ چیک کیا تو بازو کے اندر گہرائی میں کوئی چوڑی کا ٹکڑا ٹوٹ کر رہ گیا ہوا تھا۔

انھیں صورت حال سمجھائی اور ایمرجنسی روم میں ایک فیمیل نرس کے ساتھ بچی کی کلائی سے چوڑی کا ٹکڑا نکالنے لگا۔ زخم چھوٹا سا تھا جبکہ کانچ کا ٹکڑا گہرائی میں دھنسا ہوا تھا اس لیے بہت دھیان اور نفاست سے کوشش کرنی پڑ رہی تھی تاکہ زخم بھی نہ بڑھے اور کانچ کا ٹکڑا بھی نکل آئے۔ لڑکی کی والدہ ساتھ کھڑی تھیں جبکہ ان کے ساتھ آئے باقی دو مردوں کو باہر بیٹھنے کا کہا تھا۔ لیکن وہ بار بار سر پہ آ کر کھڑے ہو جاتے تھے۔

اب ایسے میں فطری طور پہ یکسوئی میں خلل پڑتا تھا تو انھیں دو تین دفعہ بڑی شائستگی سے کہا کہ آپ پلیز باہر بیٹھ جائیں۔ لیکن ان میں سے ایک کو ایسا کہنا ناگوار گزر گیا تو وہ دو تین دفعہ کہنے کے باوجود بھی وہیں دروازے میں جما رہا۔ میں نے بھی پھر اس کے بجائے دھیان اپنے کام پہ ہی رکھنے کی کوشش کی۔ تھوڑی محنت سے کام بہت خوبی سے انجام تک پہنچ گیا۔ پٹی اور دوا کے نسخہ جات کے بعد میں باہر آ کر ایک ورکر سے باتیں کر رہا تھا کہ وہ بندہ جسے میرا شائستگی سے کچھ کہنا بھی برا لگ گیا تھا، میرے پاس آ پہنچا اور غصے سے چلانے لگا کہ

”تمھیں بات کرنے کی تمیز نہیں ہے، تمھیں میں ابھی تمیز سکھاتا ہوں۔ تم ہوتے کون ہو مجھے ایمرجنسی روم سے باہر بیٹھنے کا کہنے والے“

میں جو اتنی خوبی سے اپنا کام مکمل کرنے پہ خوش تھا اور ان لوگوں سے شکرگزاری کی توقع کر رہا تھا اس رویے پہ ہکا بکا رہ گیا۔

سانگلہ ہل اور پنڈی بھٹیاں کے درمیان بنا یہ ٹرسٹ ہسپتال بالکل دیہاتی علاقے پہ مشتمل ہے جس کی ذمہ داری آج کل مجھے سونپی گئی ہے۔ میرے چوبیس گھنٹے یہیں ہسپتال میں ہی گزرتے ہیں۔ جس طرح کانچ کا ٹکڑا اندر دھنسا ہوا تھا، اس طرح کے کیسز کو عموماً یہاں اپنے سر لینے کے بجائے آگے ریفر کر دیا جاتا ہے۔ اس لیے میں ان سے شکرگزاری متوقع کر رہا تھا مگر وہاں کچھ اور ہی معاملہ پیش آ رہا تھا۔ میں نے اس آدمی کو اپنی بات کی وجہ سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ بھڑکتا ہی چلا گیا اور بالکل ہی بدتہذیبی پہ اتر کر چلانے لگا

”تو ڈاکٹر ہو گا مگر مجھے تیرے جیسوں کو سیدھا کرنا آتا ہے۔ تو دیکھ میں ابھی سرمہ بناتا ہوں تیرا“

میں آپ آپ کر رہا تھا مگر وہ تو تڑاک پہ اتر کر گالم گلوچ پہ پہنچا ہوا تھا۔ وہ ساتھ والے گاؤں کا رہائشی تھا، جہاں برادری سسٹم چلتا ہے۔ اس نے بچی اور اس کی والدہ کو گھر بھجوایا، دو تین لوگوں کو فون کیے اور کچھ ہی دیر میں ان کی برادری کے پندرہ بیس لوگ گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پہ آستینیں چڑھائے ہسپتال آ پہنچے۔ آتے ہی گالیاں دے دے کر دھاڑنے لگے۔ ہسپتال کے عملے کے تین چار لوگ موجود تھے، انھوں نے مجھے زبردستی اندر بھیجا اور آنے والے مسٹنڈوں کی منت ترلے کر کے انھیں ٹھنڈا کرنے لگے۔

آدھے گھنٹے تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ہسپتال کے ورکرز نے ان کی برادری کے کسی سمجھدار بندے کو فون کر کے بلایا تھا۔ اس نے آ کر معاملہ ختم کرنے کی کوشش کی اور ان سب کو واپس بھیج دیا۔ وہ لوگ تو چلے گئے مگر مجھے یہ افسوس دے گئے کہ میری ساری عمر کی پڑھائی اور محنت کی اوقات تو کچھ بھی نہیں۔ میں جتنی بھی محنت اور ایمانداری سے کام کر لوں جس مریض کا دل چاہے وہ غنڈہ گردی کرنے پہ اتر آتا ہے۔ جس کا دل چاہے گالم گلوچ پہ اتر آتا ہے۔

مجھے افسوس ہوا اپنی ساری عمر کی محنت پہ جس کا حاصل یہ ذلت ہے۔ مجھے لگا کہ اس ملک میں رہنے کے لیے مجھے ڈاکٹر نہیں بننا چاہیے تھا، بیوروکریٹ بنتا یا فوجی افسر۔

اس ملک میں طاقت اور پیسے کے علاوہ کسی چیز کی عزت نہیں ہے۔ مجھے بھی اپنی زندگی ان میں سے کسی شے کے حصول کے لیے وقف کرنی چاہیے تھی۔ ساری زندگی غلط سائیڈ پہ محنت کرتے ہوئے رول دی۔ اب یا تو یہ ملک چھوڑ دینا چاہیے (جس پہ دل نہیں مانتا) یا پھر بے حس ہو کر مفت کی ذلت بھی سہنے کی ہمت رکھنی چاہیے۔

اور زندگی کا کیا ہے، جتنی مرضی ایمانداری اور محنت سے کام کر لوں شاید کسی روز ایسے ہی کسی غنڈوں کے گروہ کے ہاتھوں کٹی پھٹی ملے گی۔ کیوں کہ یہاں لاقانونیت ہی اتنی ہے کہ آپ جتنے مرضی حق پہ ہوں کسی بھی جاہلوں کے گروہ کے سامنے آپ کی جان مال کی کوئی وقعت ہی نہیں رہتی۔ حق پہ ہونے کے ساتھ ساتھ یا تو آپ کو صاحب اختیار ہونا چاہیے یا صاحب دولت۔ ورنہ نہ تو آپ کی قابلیت و مقام کی کوئی اہمیت رہ جاتی ہے نہ ہی آپ کی زندگی کی۔

Facebook Comments HS

One thought on “کیا میری عمر بھر کی محنت میری غلطی ہے؟

  • 15/05/2021 at 9:27 صبح
    Permalink

    نوجوان پُر عزم ڈاکٹر کے ساتھ جو کچھ بھی ہؤا وہ قابل افسوس تو ہے مگر غیر معمولی نہیں ۔ جاہل عوام نے تو کورونا کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں تک کو نہیں بخشا انہیں اپنی جہالت کا نشانہ بنایا ۔ باقی بچی کے بازو میں پیوست ہونے والے چوڑی کے ٹکڑے کی جو نقشہ کشی کی گئی ہے وہ بعید از فہم ہے خود اپنے آپ سے ایسی چوٹ لگنا بظاہر تو ممکن نہیں ہے ۔ پس پردہ کچھ اور ہی معاملہ نظر آتا ہے اسی وجہ سے وہ دو اشخاص ڈاکٹر کے سر پر مسلط تھے اور وہاں سے ٹلنے پر آمادہ نہیں تھے مبادا وہ کچھ پوچھ لے اور بچی کے منہ سے صحیح بات نکل جائے ۔ بہر حال ڈاکٹر کو اتنا دلبرداشتہ اور مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے اتنے طویل تعلیمی سفر اور زندگی کے راستے میں تو بہت کچھ برا بھلا نظر سے گزرا ہی ہوگا اور اتنا تو اندازہ ہو گا کہ یہاں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اور نہ ہی اس کے کوئی آثار ہیں ۔ اس قسم کے جاہلوں سے جیتنا تو ویسے بھی آسان نہیں بس ذرا ان کو فیس کرنے کا بھی گُر سیکھ لیں تو بچت ممکن ہے ۔
    (رعنا تبسم پاشا)

Comments are closed.