شہباز شریف: مسلم لیگ (ن) کے صدر کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا، ملک سے باہر نہیں جا سکیں گے

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


شہباز شریف

Getty Images

پاکستان کی حکومت نے سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کی منظوری دے دی ہے۔

بدھ کے روز وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے ایگزٹ کنٹرول لسٹ نے اُن کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی منظوری دی تھی جس کے بعد یہ معاملہ وفاقی کابینہ کو بھیجا گیا تھا۔

جمعرات کو عید الفطر کے روز وفاقی کابینہ نے ذیلی کمیٹی کی سفارش کی توثیق کی جس کے بعد اُن کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے۔

وزارتِ داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی کو اس امر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس ضمن میں باقاعدہ نوٹیفیکیشن جمعے کو جاری کیا جائے گا۔

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ وہ اس حوالے سے پیر کو عید الفطر کی چھٹیوں کے خاتمے کے بعد عدالت میں درخواست دائر کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

عاصمہ شیرازی کا کالم: شہباز شریف کو عزت دو

حدیبیہ کیس ہے کیا اور حکومت اس کی دوبارہ تفتیش کیوں چاہتی ہے؟

شہباز شریف کو بیرون ملک جانے سے روک دیا گیا، حکومتی موقف کہ ’فیصلے سے متعلق درخواست نہیں ملی‘

شہباز شریف پر پابندی کا پس منظر

شہباز شریف پر نیب نے ستمبر 2020 میں آمدن سے زیادہ اثاثوں اور منی لانڈرنگ کا مقدمہ بنایا تھا اور اُنھیں گذشتہ ماہ احتساب عدالت نے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے اُن کا نام ایف آئی اے کے زیرِ انتظام بلیک لسٹ سے نکالنے کا حکم جاری کیا تھا۔

دورانِ سماعت جسٹس علی باقر نجفی کے ملک سے باہر سفر کی وجہ پوچھنے پر شہباز شریف نے بتایا تھا کہ وہ کینسر کے مریض رہے ہیں اور مرض کا علاج نیو یارک اور لندن میں ہوا ہے جبکہ وہ باقاعدگی سے چیک اپ کرواتے رہے ہیں مگر جیل میں قید ہونے کے باعث ان کے علاج میں تعطل آیا تھا۔

شہباز شریف نے کہا کہ جیل میں ہونے والے میڈیکل ٹیسٹ کی رپورٹ کی روشنی میں انھیں فوری علاج کی ضرورت ہے۔

عدالت نے جب شہباز شریف سے استفسار کیا کہ آپ کا وطن واپس آنے کا کب تک کا ارادہ ہے تو انھوں نے کہا کہ ’جیسے ہی ڈاکٹرز نے علاج کے بعد جانے کا کہا میں فوراً واپس آجاؤں گا، میں پہلے بھی عدالت سے نہیں بھاگا تھا۔‘

آٹھ مئی کو وہ لاہور سے لندن روانگی کے لیے ایئرپورٹ پہنچے تو اُنھیں ملک سے باہر نہیں جانے دیا گیا۔

پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما عطا اللہ تارڑ کے مطابق سنیچر کی صبح چار بجے کے قریب ایئرپورٹ پہنچنے پر حکام نے شہباز شریف کو آگاہ کیا کہ سسٹم میں ان کا نام تاحال بلیک لسٹ میں ہے اس لیے انھیں سفر کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

تاہم امیگریشن حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ کیونکہ ان کے سسٹم کو اب تک اس فیصلے کے مطابق اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا ہے اس لیے شہباز شریف کو آف لوڈ کیا جا رہا ہے۔ شہباز شریف جہاز کی روانگی تک ایئرپورٹ پر موجود رہے جس کے بعد جب انھیں تحریری طور پر آف لوڈ فارم فراہم کیا گیا تو وہ اپنی رہائش گاہ کے لیے روانہ ہو گئے۔

سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شہباز شریف کی جانب سے حکام کو لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی دکھایا جا رہا ہے اور وہ کہہ رہے ہیں کہ ’میں آپ سے بحث نہیں کر رہا، لیکن عدالت نے مجھے بیرونِ ملک جانے کی (مشروط) اجازت دی ہے۔‘

شہباز شریف

Getty Images

اس کے بعد بدھ کو وفاقی وزیرِ قانون فروغ نسیم، وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کے مشیر برائے داخلہ و احتساب مرزا شہزاد اکبر اور وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید پر مشتمل کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے ای سی ایل کا اجلاس ہوا۔

اس اجلاس میں شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری دی گئی، تاہم قواعد کے مطابق اس کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ نے دینی تھی۔

اب جمعرات کو وفاقی کابینہ نے سرکولیشن سمری کی منظوری دیتے ہوئے اُن کا نام ای سی ایل میں شامل کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ شہباز شریف کا نام پہلی مرتبہ فروری سنہ 2019 میں ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا اور مارچ 2019 میں لاہور ہائی کورٹ نے ان کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ دیا تھا۔

تاہم حکومت کی جانب سے کچھ عرصے بعد شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ میں رکھ دیا گیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19395 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp