اندرا گاندھی کو جنسی بے راہ روی سے روکنے کے لئے نہرو سیاستدان کو مدعو کرتے تھے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارت کے سب سے بڑے سیاسی خاندان نہرو سے تعلق رکھنے والی سابق وزیر اعظم آنجہانی اندرا گاندھی کی ذاتی زندگی کے بارے میں کئی تحقیق کار انکشاف کر چکے ہیں کہ اندرا گاندھی اپنی سرکش جوانی کے ہاتھوں مجبور تھیں۔ بااثر مسلمان نوجوانوں کے علاوہ ان کے کئی نوجوان سیاستدانوں سے بھی جنسی تعلقات استوار رہے اور وہ اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتی تھیں کہ ان کے بارے کون کیا کہتا ہے۔

بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے اپنی بیٹی کی پردہ پوشی کی کوشش کی لیکن جب اس میں ناکامی ہوئی تو انہوں نے اپنے قابل اعتماد ملازم پریم نارائن کو اندرا کا ذاتی محافظ بنا دیا تاکہ وہ اس کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اس کو برے کاموں سے روک سکے۔ پریم نارائن دس سال سے نہرو خاندان کا نمک خوار تھا اور اس نے گریجویشن کر رکھی تھی۔ پریم نارائن اندرا گاندھی کے مردوں سے تعلقات کی ساری سرگرمیوں سے آگاہ رہتا اور اپنے کیمرے سے اسکی خفیہ تصاویر بھی بناتا رہتا تھا۔ نہرو خاندان سے تعلقات بگڑنے کے بعد پریم نارائن نے اندرا گاندھی کی خفیہ جنسی زندگی پر ’’جب اندرا جوان تھی‘‘ کے نام سے ایک تہلکہ خیز کتاب لکھ ڈالی جس کی پاداش میں اس کو جیل میں ڈال دیا گیا جہاں وہ گمنامی کی موت مر گیا۔ پنڈت نہرو نے اس کتاب کی کاپیاں جلا ڈالیں لیکن اس میں سے پھر بھی چند کاپیاں بچ گئی تھیں۔

پریم نارائن نے کتاب میں اندرا گاندھی کے ہوشربا جنسی معاملات کو آشکار کرتے ہوئے ایسا واقعہ بھی لکھا ہے جب اندرا گاندھی نے اپنا رشتہ دیکھنے کے لئے آنے والے سیاستدان کو پہلے ’’چیک‘‘ کیا تھا۔ پریم نارائن نے لکھا ہے کہ جب پنڈت جی کو بھی اندرا کی شرمناک مصروفیات کی بھنک پڑی تو انہوں نے کملا دیوی (اندرا کی ماں )سے مشورہ کیا اور یہ فیصلہ ہوا کہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے اندرا کی شادی کردی جائے۔

مختلف لڑکوں کو زیرِ بحث لایا گیا۔ کملا دیوی کا خیال تھا کہ اندرا کی شادی ڈاکٹر کھارے سابق وزیر اعلیٰ صوبہ سی پی سے کر دی جائے۔ جبکہ پنڈت جی فیروز گاندھی کو اپنا داماد بنانا چاہتے تھے۔ اندرا سے رائے طلب کی گئی تو اس نے ڈاکٹر کھارے کے حق میں رائے دی۔ واضح رہے کہ ڈاکٹرنارائن باسکرکھارے نے لاہور کے کنگ ایڈروڈ کالج سے ایم بی بی ایس کیا تھا۔ بعد ازاں متحدہ ہندوستان کی سیاست میں انتہائی سرگرمی سے کردار ادا کیا اور کئی وزارتوں پر فائز بھی رہے۔ قد آور اور مضبوط ڈیل ڈول کے انسان تھے۔

پنڈت جی نے کھارے کو الٰہ آباد آنے کی دعوت دی مگر مقصد نہ بتایا۔ صرف اتنا لکھ بھیجا کہ آپ سے کچھ ضروری امور پر تبادلہ خیال کرنا ہے چند دنوں کے لیے آئیں۔ اتفاق سے جس روز ڈاکٹر کی آمد کا تار آیا، اسی روز پنڈت جی کو گاندھی جی نے دہلی طلب کر لیا اور یہ کھارے کی آمد سے ایک روز پہلے دہلی چلے گئے۔ دوسرے روز جب ہم کملا دیوی کی معیت میں سٹیشن پر ڈاکٹر کھارے کو لینے گئے تو اندرا ہلکے گلابی رنگ کی ساڑھی میں ملبوس تھی۔ جس میں اس کا حُسن کچھ اور نکھر آیا تھا۔

ساڑھے گیارہ بجے گاڑی آئی۔ ڈاکٹر کھارے فرسٹ کلاس کے گیٹ میں کھڑے پلیٹ فارم پر نگاہیں دوڑا رہے تھے۔ کملا دیوی نے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ تو انہوں نے ہمیں دیکھ لیا۔ کھارے ایک وجہیہ ، پرکشش اور صحت مند نوجوان تھے۔ آتے ہی کملا دیوی کے قدموں کو چھوا اور ہم لوگ ہنستے مسکراتے گھر آگئے۔ چائے وغیرہ سے فارغ ہو کر کملا دیوی کسی کام سے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ اور اندرا ڈاکٹر سے کہنے لگی۔

’’آئیے آپ کو آپ کا کمرہ دکھا دوں۔‘‘

’’مگر ایک شرط ہے۔ ‘‘ کھارے مسکرا کر کہنے لگے۔

’’وہ کیا ؟‘‘ اندرا نے پوچھا ‘‘

’’آپ اپنا کمرہ بھی دکھائیں گی۔ ‘‘

اندرا شرمانے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے اٹھی اور کہنے لگی ’’یہ بھلا کیسی شرط ہوئی کہیے تو سارا راشٹرپتی بھون دکھلا دوں‘

’’ضرور ، ضرور‘‘

اندر ڈاکٹر کھارے کو لے کر انہیں بھون دکھلانے لے گئی۔

’’بھئی بہت خوبصورت بنا ہوا ہے‘‘ کھارے دوسری کاریڈور میں مڑتے ہوئے بولے ‘‘ اسے بنے ہوئے کتنا عرصہ گزر چکا ہے۔ ؟‘‘

اندرا نے بتایا کہ یہ بھون پہلے محمود ولا کے نام سے بنا تھا۔ سرسید احمد خاں کے بیٹے جسٹس محمود نے اسے تعمیر کرایا۔ ان سے راجہ کنور پر مانند ڈسٹرکٹ جج شاہجہاں پور رئیس اعظم مراد آباد نے خریدا اور پھر جب پتا جی گیارہ سال کے تھے تو مرحوم دادا جان (موتی لال نہرو) نے اُن سے خرید لیا۔ ‘‘

اندر جب اپنے کمرے کے سامنے پہنچی تو بولتے بولتے ایک دم خاموش ہو گئی۔ میں ان دونوں کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ میں نے محسوس کیا کہ اندرا میری وجہ سے خاموش ہوگئی ہے۔ میں اندرا سے اجازت لے کر باہر نکل آیا۔ اور اندرا ڈاکٹر کو لے کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔ پندرہ بیس منٹ کے بعد کسی کام سے کملا دیوی نے مجھے بلا بھیجا۔ میں قصداً اندر کے کمرے کی طرف سے گزرا تو اندرا کہہ رہی تھی۔

’’نہیں بھئی ایسے نہیں۔ لائیے میں خود دکھاتی ہوں‘‘

کھارے کی آواز آئی ’’ آخر اس البم میں کونسی ایسی چیز ہے جسے آپ چھپانا چاہ رہی ہیں‘‘

میں فوراً زینوں کے ذریعے چھت پر پہنچا اور اندر کے کمرے کے روشندان میں سے جھانک کر دیکھا۔ کھارے البم پکڑے کمرے میں گھومتے جاتے اور دیکھتے جاتے۔ اندرا ان کے پیچھے پیچھے لپکتی رہی۔ میں یہ دیکھ کر نیچے آگیا۔ اس لئے کہ کملا دیوی میرا انتظار کر رہی تھیں۔

رات تقریباً دو بجے ہوں گے۔ میری آنکھ کھل گئی۔ ذہن چھینا جھپٹی کی طرف چلا گیا۔ جو البم حاصل کرنے کے لئے ہو رہی تھیں۔ بلا مقصد اٹھ کر برآمدے میں آ گیا۔ دیکھا تو اندر کے کمرے میں روشنی جل رہی تھی۔ مگر کھڑکیوں سے دبیز پردے ہونے کی وجہ سے میرا تجسس مجھے پھر ایک بار روشندان تک لے گیا تو میں نے ڈاکٹر کھارے کو ایک وحشی کی طرح اندرا کو بھنجوڑتے دیکھا۔ ۔۔۔۔۔۔ شاید اس نے کچھ پی بھی رکھی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔ اندرا کی حرکات اس وقت عاجزانہ دکھائی دے رہی تھیں۔ میں زیادہ دیر وہاں کھڑا نہ رہ سکا اور واپس اپنے کمرے میں آگیا۔

صبح ناشتے کی میز پر کملا دیوی دونوں کا انتظار کرتے کرتے تھک گئیں۔ میں اُدھر سے گزرا تو مجھے کہا دیکھو پہلے تو کبھی اندرا اتنی دیر تک نہیں سوئی۔

جی میں آیا کہ کملا دیوی کو سب کچھ بتا دوں۔ مگر پھر سوچا کہ اوّل تو یہ ماں ہے۔ بیٹی پر الزام برداشت نہیں کرے گی۔ دوم میرے نوکری کا معاملہ ہے اور تیسرا یہ کہ ان کے ذاتی افعال میں میرا مخل ہونا کچھ زیب نہیں دیتا۔ میں گیا تو اندرا باتھ روم سے نکل رہی تھی۔ مجھے دیکھ کر کہنے لگی۔

’’کیا بات ہے؟‘‘

’’ ڈاکٹر کھارے نے آپ کے مزاح پوچھے ہیں ‘‘ میں نے مسکرا کر کہا۔ اندرا نے سمجھا شائد ڈاکٹر کھارے نے بھی مجھے اپنا ہمراز بنا لیا ہے۔ کہنے لگی ’’نرائن ! کھارے واقعی ایک مرد ہے‘‘۔

’’تجربہ ہو گیا ہے کیا؟‘‘

اندرا آئینے کے سامنے جا کر بیٹھ گئی ’’ہاں‘‘

اور میں حیران تھا کہ اندرا اپنے منہ سے اقرار کر رہی ہے۔ لیکن گذشتہ واقعات کو دیکھتے ہوئے میری یہ حیرانی برقرار نہ رہ سکی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •