آپ کا بیٹا ذہین ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گاؤں میں ہمارے گھر کے بالکل سامنے ایک ہائی سکول ہے جس میں لگ بھگ ساڑھے پانچ سو سے زیادہ طالب علم پڑھتے ہیں۔ گاؤں کے طالب علم کا حال بھی ذرا جان لیجیے۔ بے ڈھنگا لباس، پڑھائی میں ماٹھو، مستقبل کا کوئی خاص منصوبہ بھی اکا دکا ہی کسی کا۔ یعنی اگر کوئی طالب علم آپ کے سامنے سے گزرے تو آپ کو دماغ پر زور ڈال کر یہ نتیجہ نکالنا ہوگا کہ سامنے سے گزرنے والا طالب علم ہی ہے۔ ایک عرصے سے جب بھی گاؤں کے سکول کے سامنے سے گزرتا ہوں تو یہی خیال آتا ہے کہ اتنے بڑے ہجوم میں کون لوگ ایسے ہیں جو اس ملک کو اپنی ذہانت کے ذریعے منجھدار سے نکال کر خوشحالی کے کنارے پہ لا چھوڑیں گے۔ ان میں سے لگ بھگ پانچ سے دس لوگ ہی ایسے ہیں جو اعلیٰ ثانوی تعلیم تک پہنچ پاتے ہیں۔ باقیوں کو پڑھائی کا مطلب و مقصد ہی نہیں پتہ ہوتا۔

تو پھر کیا ہم یہ کہہ لیں کہ بقیہ سارے بچے بے معنی و کند ذہن ہیں جو مستقبل میں کامیابی کی کسی بھی صف میں نہیں آئیں گے؟ اس کا جواب ہاورڈ گارڈنز سے لیتے ہیں جس نے کثیر العناصر ذہانت کی تھیوری ( Howard Gardner ’s Multiple intelligence theory) پیش کی۔ ہاورڈ گارڈنز نے ہمیں یہ بتایا کہ ذہانت کا معیار صرف سمجھ بوجھ یا یادداشت پر نہیں بلکہ اور بہت سی چیزوں پر بھی ہے۔ اس نے ذہانت کو آٹھ مختلف شکلوں میں پیش کیا۔

پہلے درجے پر وہ لوگ جو لسانی فہم زیادہ رکھتے ہیں یا پھر کہہ لیں کہ زبان میں الفاظ کا استعمال عمدہ طریقے سے کرتے ہیں ذہین ہوتے ہیں، پھر حساب کتاب کے معاملے میں مہارت رکھنے والے لوگ بھی ذہانت کے زمرے میں آتے ہیں۔ موسیقی کی سمجھ بوجھ رکھنے والے، فطرت سے لگاؤ رکھنے والے، کھیلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے، ماحول کے بارے میں گہرا مشاہدہ رکھنے والے، اپنے بارے میں زیادہ جاننے والے اور وہ لوگ جو دوسرے لوگوں کے احساس اور جذبات زیادہ جلدی اور آسانی سے سمجھ لیتے ہیں ذہین ہوتے ہیں۔

ان آٹھ خواص میں سے کوئی ایک یا اس سے زیادہ خواص ہر عام و خاص میں پائے جاتے ہیں۔ لہٰذا یہ عقدہ تو کھل گیا کہ آپ کا بیٹا بھی ذہین ہے۔ آپ اپنے معاشرے کے سیاست دانوں، لکھاریوں، اداکاروں اور ان جیسے ماحول میں مثبت شراکت رکھنے والے کامیاب لوگوں میں ایسی خوبیاں دیکھ سکتے ہیں۔

اب بات کرتے ہیں ذہانت کے بعد کامیابی کی۔ کامیابی کے لیے ذہین ہونا ہی کافی نہیں۔ ذہین دماغ کو کامیاب بنانے کے لیے آپ کو اپنے بیٹے کے پہلے بارہ تعلیمی سال خوب محنت کرنا ہوگی۔ ان سالوں میں زیادہ ذمہ داری آپ پر ہے۔ آپ نے کچھ زیادہ تو نہیں کرنا، بس اپنے بچے کو بہتر تعلیمی ماحول دینا ہے، وقت کی پابندی سکھانی ہے اور آزادی دینی ہے۔ پڑھائی کا ماحول عمدہ رکھیں گے تو آپ کے بیٹے کو وقت کے ساتھ چلنے اور اچھا فیصلہ لینے میں آسانی ہو گی، وقت کی پابندی سے شخصیت میں نکھار آئے گا لیکن جو شے سب سے ضروری ہے وہ ہے آزادی۔

تخلیق آزادی کی طالب ہے۔ اور یہ بھی جان لیں کہ ہر کوئی فطرتاً کسی نا کسی شعبے میں تخلیقی ضرور ہوتا ہے مگر اس خاص شعبے کی پہچان کسی کسی کو ہی ہو پاتی ہے۔ آپ کا بچہ جب آزادی سے اپنا کام کرے گا تو وہ نئی نئی باتیں سیکھے گا، اپنی پسند نا پسند کا اندازہ لگا پائے گا۔ اسے یہ بھی سمجھ آ جائے گی کہ کون سا کام ایسا ہے جسے کرنے میں اسے زیادہ بوجھ محسوس نہیں ہوتا بلکہ خوشی ہوتی ہے، یہی اس کی دلچسپی ہے اور یہی اس کی تخلیق۔ چاہے وہ کام آرٹ سے منسلک ہے یا پھر کھیلوں سے۔

میرا یہ ذاتی مشاہدہ ہے میٹرک تک طالب علم بالکل بھیڑ بکریوں کی طرح ویسے ہی چلتے چلے جاتے ہیں ہیں جیسے انہیں چلایا جاتا ہے، لیکن جب دور آتا ہے انٹر کا تو ذہن کھلنا شروع ہوتا ہے۔ معصوم ذہنوں پر ایک نئی سوچ کی بوچھاڑ ہوتی ہے، نئے خیالات اور سخت سوالات جنم لیتے ہیں۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ انہیں اپنی بات سامنے رکھنے کی ہمت بھی آ جاتی ہے۔ یہ مرحلہ فیصلہ کن ہوتا ہے۔ آپ نے اس وقت اپنے اندر سے یہ شوخا پن نکالنا ہو گا کہ آپ ہی اپنے بیٹے کے لیے بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں۔

یہ غلط بات ہے، یقین جانیے آپ کا بیٹا آپ جیسے درجنوں لوگوں سے سیکھ رہا ہوتا ہے، لہٰذا وہ آپ سے زیادہ جانتا ہے، البتہ تجربہ ناقص ضرور ہو سکتا ہے۔ اس دور میں کبھی کبھار نوجوان جذبات میں آ کر غلط فیصلہ بھی لے لیتے ہیں لیکن آپ نے اس وقت تگڑے دلائل کے ساتھ ان کی بات کا جواب دینا ہوگا اور ان کا فیصلہ لینے میں ان کی مدد کرنا ہوگی۔

اکثر حالات کے مارے والدین اپنے بچوں کی شخصیت کو نہیں دیکھتے۔ ان کا طریقہ کار یا زاویہ نہیں پہچان پاتے۔ انہیں ان میں صرف وہی نظر آتا ہے جو وہ اپنی کمزور نظروں سے دیکھ پاتے ہیں اور اس کا نتیجہ پوری عمر کی ناکامی میں نکلتا ہے۔ والدین کا رشتہ مقدس سہی لیکن یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ بچوں کو سب سے زیادہ ذہنی دباؤ دینے والے خود والدین ہی ہوتے ہیں۔

اصل تخلیقی سمت و اچھا فیصلہ آپ کی بیٹے کی کامیابی کا ضامن بنتا ہے۔ اگر آپ کا بیٹا اپنا فیصلہ خود نہیں لے سکتا تو آپ اٹھتے بیٹھتے بین کرتے جائیے کہ آپ نے اپنے بیٹے کو ایک تخلیق کار کی بجائے مشین بنا دیا ہے۔ آپ نے اس اتنی آزادی ہی نہیں دی کہ وہ خود سے کچھ سوچ سکے۔ آپ کا اثاثہ آپ کے گھر میں ہے اس پر سرمایہ کاری کیجیے، اپنے بیٹے میں اپنا عکس دیکھنا چھوڑیں بلکہ جیسے وہ خود کو دیکھنا چاہتا ہے اسے ویسے ہی بنانے کی کوشش اور مدد کریں۔ مذکورہ بالا تمام باتیں لڑکیوں پر بھی عین صادق ہیں جو کہ بیٹوں کی طرح آپ کا بازو بن سکتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *