آپ کا بیٹا ذہین ہے

گاؤں میں ہمارے گھر کے بالکل سامنے ایک ہائی سکول ہے جس میں لگ بھگ ساڑھے پانچ سو سے زیادہ طالب علم پڑھتے ہیں۔ گاؤں کے طالب علم کا حال بھی ذرا جان لیجیے۔ بے ڈھنگا لباس، پڑھائی میں ماٹھو، مستقبل کا کوئی خاص منصوبہ بھی اکا دکا ہی کسی کا۔ یعنی اگر کوئی طالب علم آپ کے سامنے سے گزرے تو آپ کو دماغ پر زور ڈال کر یہ نتیجہ نکالنا ہوگا کہ سامنے سے گزرنے والا طالب علم

Read more

جامعہ نمل کی پگڈنڈیوں پر علم کی خوشبو

انٹر کے پیپر دینے کے بعد ، ایک سال کے دورانیے میں گھر والوں سے درجنوں جھگڑے ہوئے، ان کے لیے کبھی میں مستقبل کا ڈاکٹر تھا تو کبھی فزیسٹ، جب کہ میں رہا لٹریچر کا شیدائی۔ پانچ جامعات کی تردید، کبھی من پسند فیلڈ نہ ملی تو کبھی یونیورسٹی اور گھر کے درمیان فاصلہ انکار کا موجب بنا۔ آخر کار لٹریچر کا خواب لیے دیوانے کو جامعہ نمل نے پناہ دے ہی دی۔ یہ درست ہے کہ جب انسان

Read more

یونیورسٹی میں داخلہ وبال جان

انٹر کرنے کے بعد کسی طالب علم پر سب سے مشکل مرحلہ کسی یونیورسٹی میں داخلہ لینا ہوتا ہے۔ اس دوران تقریباً سب ہی بچے پریشان ہوتے ہیں۔ ان پریشانیوں میں سر فہرست یونیورسٹی کا ایڈمشن سسٹم ہے جو کہ طالب علموں کے حق میں نظر نہیں آتا۔ راقم التحریر جب یونیورسٹی کے ایڈمشن سسٹم سے گزرا تو اسے جن مشکلات کا سامنا ہوا، منجملہ تحریر اسی سے متعلق ہے۔

Read more