سابق پولیس چیف غلام نبی میمن کا تبادلہ اور عمران یعقوب منہاس کی تعیناتی: کٹھن فیصلہ؟
کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن سابق کراچی پولیس چیف ہو گئے۔ یہ تقریباً پونے دو سال کراچی پولیس کے سربراہ تعینات رہے۔ ڈاکٹر امیر شیخ کی طرح غلام نبی میمن کا دور بھی ایک متحرک دور تھا، ڈاکٹر امیر شیخ اور غلام نبی میمن یہ قدر مشترک ہے دونوں وژنری پولیس افسر ہیں۔ دونوں افسران سزا سے زیادہ جزا پر یقین رکھتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کراچی پولیس کی بہتری اور تبدیلی کا دور تین سال پر محیط ہے اس میں ڈاکٹر امیر شیخ کا ایک سال اور غلام نبی میمن کے دو سال شامل ہیں۔
غلام نبی میمن نے کراچی پولیس کو جدید بنانے کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے یہ بزنس کمیونٹی کاروباری افراد، اور صنعت کاروں سے ملاقاتیں کرتے ان کے مسائل سنتے اور ان کو شہر کی بہتری کے لیے کردار ادا کرنے کے لیے موٹیویٹ کرتے اس کا نتیجہ شہر میں 29 ہزار سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کی صورت نکلا جس سے پولیس کو کیسز کے حل اور ملزمان کی شناخت اور گرفتاری میں مدد ملی ان کیمروں کی تنصیب مین بزنس کمیونٹی اور سول سوسائٹی کا بڑا حصہ ہے غلام نبی میمن نے کراچی میں صاف ستھرے اور پڑھے لکھے تھانیدار تعینات کرنے کی کوشش کی۔
جس کے لیے یہ ٹیسٹ اور انٹرویو کا نظام لے کر آئے انہوں نے ماڈل تھانے کا تصور متعارف کرایا۔ جس میں ایس ایچ او کو مالی اخراجات اور بجٹ کے حوالے سے با اختیار بنایا گیا۔ انہوں نے جرائم کے ریکارڈ اعداد و شمار بڑھنے کی پروا کیے بغیر مقدمہ کا اندراج آسان اور سہل کر دیا۔ کراچی پولیس کے شعبہ تفتیش پر توجہ دی تفتیشی افسران کو عرصے سے رکے ہوئے فنڈز جاری کیے گئے۔ انہوں نے مقدمات کے حوالے سے مختص رقم میں اضافہ کیا اور اس کا اجراء آسان بنایا۔
انہوں نے پولیس کی فرانزک لیب اور ٹیکنیکل شواہد، جدید انویسٹی گیشن پر کام تیز کیا۔ انہوں نے پولیس اہلکاروں علاج معالجے پر توجہ دی اس حوالے سے نئے معاہدے کیے پولیس اسپتال سمیت دس کے قریب اسپتالوں میں پولیس اہلکاروں کی سہولت کے لئے ڈیسک قائم کیں۔ ان کے دور میں پولیس میں محکمہ جاتی اور آرگنائز کرائم کم ہوا کراچی پولیس چیف کی حیثیت سے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے غلام نبی میمن آخری چند مہینوں میں نظام سے دلبرداشتہ دکھائی دیے غلام نبی میمن کی سروس کا خاصہ ہے سر اٹھا کر ملازمت کی کبھی عہدے یا رتبے کے لیے خلاف ضابطہ اور خلاف قانون اقدامات کا حصہ نہیں بنے اسی خصوصیت نے شاید انہیں ایڈیشنل آئی جی کراچی کے عہدے سے دلبرداشتہ کر دیا تھا۔
یہ بات میں نے کراچی پولیس چیف سے ہونے والی آخری تین ملاقاتوں میں محسوس کی میں نے ہر ملاقات میں ایک سوال کیا کہ چند با اثر حلقے بشمول سندھ حکومت چاہتی ہے آپ رکیں اور کام جاری رکھیں آپ کا کیا فیصلہ ان کا ایک جواب ہوتا تھا۔ میں سمجھتا ہوں مجھے اب چلے جانا چاہیے اور میں جانا چاہتا ہوں۔ میں کل کسی شخصی ٹوٹ پھوٹ یا کردار کشی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ کراچی پولیس چیف کو بہترین پرفارمنس کے باوجود کون ڈیمج کر رہا تھا۔ انہیں من چاہی ٹیم کیوں فراہم نہیں کی جا رہی تھی ان کی مرضی کے خلاف تعیناتیوں نے انہیں مایوس کیا یا صوبے اور وفاق کی حکمراں جماعتوں کے درمیان جاری مخالفت نے ان کو دوراہے پر لا کھڑا کیا تھا؟ کیپٹن صفدر معاملے کے بعد پولیس اس وقت دباو کا شکار نظر آئی جب ضمنی انتخاب میں پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی تصادم ہوا اس سارے اییسوڈ میں پولیس سینڈوچ بن کر رہے گئی تھی ایڈیشنل آئی جی معاملے کو قانون اور ضابطے کے مطابق لے کر چلنا چاہتے تھے ذرائع کے مطابق وفاق اور صوبہ اپنے اپنے سیاسی مفادات کے لیے دباو بڑھاتا رہا انہوں بیشتر جگہوں پر دباو قبول نہیں کیا جس کا نتیجہ وفاق اور صوبے دونوں کی ناراضگی کی صورت نکلا دونوں حکومتیں ایڈیشنل آئی جی سے ناراض رہیں وفاق کی جانب سے رد عمل بھی آیا لیکن یہ خاموش رہے یہ کہیں صفائی دینے نہیں گئے اور خاموشی سے اپنے فرائض ادا کرتے رہے۔
آخر کار چار روز قبل یہ تبدیل کر دیے گئے سندھ حکومت نے عمران یعقوب منہاس کو نیا کراچی پولیس چیف تعینات کر دیا یہ بھی اچھی شہرت کے افسر ہیں یہ غلام نبی میمن اور امیر شیخ کی بہترین سروس کا اثر تھا کہ سندھ حکومت کراچی میں اوسط درجے کا پولیس چیف بھی تعینات کرنے سے گریزاں رہی۔ عمران یعقوب منہاس کی تعیناتی شاید آگے چل کے سندھ حکومت کے لیے ایک کٹھن فیصلہ ثابت ہو۔ عمران یعقوب منہاس ایماندار ہونے کے ساتھ سخت گیر افسر کی شہرت رکھتے ہیں۔
یہ اصولوں اور ضابطوں پر سمجھوتا نہیں کرتے۔ یہ غلط کو غلط اور صحیح کو صحیح کہنے کے عادی ہیں۔ یہ اپنی پہلی پوسٹنگ سے ہی خلاف ضابطہ حکم دینے والوں کو نو کہتے آرہے ہیں یہ ڈی پی او بہاولنگر تھے۔ یہ بطور ڈی پی او ان کی پہلی تقرری بھی تھی ان سے ایک با اثر شخصیت نے خلاف ضابطہ تعیناتی کا کہا انہوں نے انکار کیا اور چارج چھوڑنے کیے لیے تیار ہو گئے۔ ایک سیاسی حکومت کے لیے ایسا پولیس چیف موزوں ہے، میں نہیں مانتا۔



