سب سے پہلے
ہم انسانوں کی زندگی میں کچھ ناں کچھ، کوئی ناں کوئی سب سے پہلے، سب سے مقدم اور سب سے اہم ضرور ہوتا ہے۔ ہم اپنی چھوٹی بڑی خوشیوں کے موقع پر کسی ناں کسی کو یاد کرتے ہیں جیسے ایک خدا کا ماننے والا کسی نعمت کے ملنے پر اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے۔ ایسے ہی جیسے ایک ماں پہلا نوالہ لینے سے قبل اپنے بچوں کو یاد کرتی ہے یا کسی امتحان میں فرسٹ آنے والا ہونہار بیٹا اپنے باپ کو سب سے فون کر کے کہتا ہے ابا میں پہلے نمبر پر آیا ہوں یا ایک شوہر جو نئی گاڑی خرید کر اپنی بیوی کو سب سے پہلے فون کر تا ہے یا کوئی عاشق جو نیا لباس پہن کر سب سے پہلے سلفی بنا کر اپنی محبوبہ کو بھیجتا ہے یا پھر ایک بیٹی جو سب سے پہلے یہ خبر اپنی ماں کو دیتی ہے کہ وہ بھی ایک ماں بننے والی ہے۔
ہم اپنی زندگی میں سب سے پہلے کس کو سمجھتے ہیں اس کا تعلق مادی جڑت سے زیادہ قلبی لگاؤ سے ہوتا ہے۔ ویسے تو ایک ماتحت اپنی اعلی کارکردگی کی رپورٹ سب سے پہلے اپنے باس کو دینا پسند کر تا ہے لیکن اس میں کسی حقیقی خوشی سے زیادہ اپنے نمبر بنانے یا خوشامد کر نے کا عمل دخل زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح تنخواہ میں اضافے یا ملازمت میں ترقی پانے کی اطلاع سب سے پہلے اپنی بیوی کو دینے میں بھی مادیت نظر آتی ہے۔ بھلا کوئی کسی کی نوکری یا ملازمت کر کے کب خوش رہ سکتا ہے چاہے وہ گوگل جیسی بڑی کمپنی کا سی۔ ای۔ او ہی کیوں نہ بن جائے۔
ہم میں سے اکثر لوگوں کا دعوی ہو تا ہے کہ ہمارا ایمان یا اپنی ریاست سے ہماری غیر مشروط وفا داری ہمارے لیے سب سے مقدم ہے۔ ہمارے اس دعوے کی کلی اس وقت کھل جاتی جب ہمیں معلوم ہو کہ کوئی ہمیں دیکھ نہیں رہا یا کسی کو ہمارے اعمال کی خبر نہیں ہو گی یا ہم کسی کو اپنے عمل کے لیے جواب دہ نہیں ہیں۔ لیکن پھر بھی ہم میں سے کچھ ایسے انسان بھی ہیں جو حقیقتاً اپنے دعوے میں سچے ہوتے ہیں اور وقت آنے پر اپنے ایمان کو بچانے کے لیے بڑی سی بڑی تکلیف بھی برداشت کر لیتے ہیں اور ملک و قوم کی خاطر اپنی جان کی بازی بھی لگا دیتے ہیں۔
مسافر خان بھی ایک ایسا ہی انسان ہے جو ہر خوشی کے موقع پر سب سے پہلے باپ کو یاد کر تا ہے۔ وہ باپ جس سے اس نے کبھی کھل اپنی محبت کا اظہار نہیں کیا، جسے کبھی اس نے اف تک نہیں کہا۔ عمر بھر باپ اور بیٹے کے درمیان محبت سے زیادہ احترام کا رشتہ قائم رہا۔ جب سے خان پردیس گیا وہ ہر عید کے موقع پر سب سے پہلے اپنے باپ کو فون کرتا اور اسے عید کی مبارک باد دیتا لیکن اب کے بار عید آئی تو اس نے سب سے پہلے اپنی ماں کو فون کیا تو ماں بولی بیٹا میں نے عمر بھر اس گھڑی کا انتظار کیا کب تو مجھے سب سے پہلے عید کی مبارک باد دے گا۔ ماں بولی بیٹا شکر ہے اب کی بار تجھے میرا خیال آ ہی گیا۔ مسافر خان اپنی ماں کی حسرت بھری بات سن کر خاموش رہا اور دل ہی دل میں رونے لگا کیونکہ اس کا باپ مر چکا تھا۔


