اردو ترجمے کی روایت کا آغاز و ارتقا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اردو ترجمے کی روایت کا آغاز مغلیہ دور حکومت سے ہوتا ہے۔ جب مغل ہندوستان آئے تو ان کو لوگوں سے روابط بنانا پڑے۔ نظام سلطنت کو چلانے کے لیے حکومتی احکامات کو رعایا تک پہنچانا اور ان کا ردعمل جاننا از حد ضروری تھا۔ سرکاری ضرورت کے تحت فارسی زبان کے تراجم دیگر علاقائی زبانوں میں اور علاقائی زبانوں کے تراجم فارسی زبان میں کیے گئے۔ مغل بادشاہوں نے ہندوستان کے علاقائی ادب کی طرف بھی توجہ کی۔ اکبر بادشاہ کے زمانہ میں ایسے ہندو کثیر تعداد میں تھے جو فارسی کا بخوبی علم جانتے تھے۔

اکبر بادشاہ کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اسے سنسکرت زبان سے خاص شغف تھا۔ ریاضی، الجبرا، فلسفہ، شاعری کہ بہت سی کتابوں کے فارسی میں تراجم کیے گئے۔ اس سلسلہ میں ملا عبدالقادر بدایونی کا ترجمہ 1574 ء میں ہوا۔ سنگھا سن بتیسی کا ترجمہ خرد افروز کے نام سے کیا گیا تھا۔ 1575 ء میں بہاون نامی پنڈت نے ”اتھروید“ کا ترجمہ کرنا شروع کیا تھا مگر یہ تکمیلی مراحل طے نہ کر سکا۔ بہاون کے بعد فیضی اور حاجی ابراہیم تھانیسری نے بھی اپنی سی کوششیں کی لیکن یہ ہفت خواں ان سے بھی تہ نہ ہوا۔ 1586 ء میں ایک ترجمہ ”تاریخ کشمیر“ کے نام سے ملا عبدالقادر بدایونی نے فارسی میں کیا تھا۔ 1591 ء میں اکبر کے عہد میں ہی علما نے ”مہا بھارت“ کا ترجمہ فارسی میں کیا۔ ”لیلاوتی“ ، ”نل دمن“ ، ”تاجگ“ اور ”ہری ہنس“ کے تراجم بھی ہوئے۔

تراجم کا یہ کام اکناف و عالم میں پھیلا ہوا ہے۔ ہندوستانیوں کے تعلقات دوسری قوموں کے ساتھ بھی مستحکم تھے۔ 770 ء میں ایک پنڈت کا ذکر کیا جاتا ہے جو ہیئت اور ریاضی کے علم کا ماہر تھا۔ جب وہ خلیفہ منصور عباسی کے دربار میں گیا تو اپنے ساتھ ہیئت کی ایک مشہور کتاب ”سدھاونت“ لے گیا۔ خلیفہ کو جب اس کتاب اور اس کے مندرجات کا علم ہوا تو اس نے اس کتاب کا ترجمہ عربی میں کروایا۔ ماہر ہیئت فرازی اور یعقوب بن طارق اس پنڈت کے بعد میں شاگرد ہوئے اور بہت نام کمایا۔

”پنچ تنتر“ کا ترجمہ ”کلیلہ و دمنہ“ کی شکل میں سامنے آیا۔ ڈاکٹر سید عبداللہ اس سلسلے میں ایک اور کتاب ”بو ذاسف و بلوہر“ کا ذکر کرتے ہیں۔ یہ گوتم بدھ کے حالات زندگی پر مشتمل ہے۔ بدھ کی تعلیمات کو تمثیلی پیرایہ میں لکھا گیا ہے۔ ان کتابوں کے علاوہ سنسکرت کے قصے کہانیوں، جادو منتر، کیمیا، حکومت کرنے کے طریقے اور لڑائی کے فن کی بہت سی کتب عربی اور فارسی سے اردو میں ترجمہ ہوئیں۔

اردو زبان کی ابتدا کے وقت بہت سے تراجم ہوئے۔ کوئی زبان بھی جب اپنے قدموں پہ چلنا سیکھتی ہے تو اسے اپنے آپ کو وسیع بنانے کے لیے دوسری زبانوں کے الفاظ مستعار لینے پڑتے ہیں۔ دوسری زبانوں کے الفاظ کا انجذاب کرنا ہوتا ہے۔ اردو نے بھی کیا۔ سترہویں صدی سے اردو کا آغاز ہوتا ہے۔ اردو میں نثری اور شعری ادب پیدا ہونا شروع ہوتا ہے۔ چونکہ اس وقت سرکاری زبان فارسی تھی جو بولی اور سمجھی جا رہی تھی۔ فارسی زبان میں نظام حکومت چلایا جا رہا تھا۔

اس لیے لوگ اسے سیکھتے تھے اور سمجھتے بھی تھے۔ اردو کے ابتدائی سرمائے پر فارسی کے گہرے اثرات ہیں۔ فارسی زبان میں مستعمل تشبیہات، استعارات، تلمیحات، الفاظ اور فارسی کی اصناف سخن کا جوں کا توں استعمال کیا گیا۔ اور بعض دفعہ اپنی تحریر میں ندرت پیدا کرنے کے لیے مصنفین اس میں جدت بھی پیدا کر لیتے تھے۔ چونکہ فارسی بنیاد تھی اور اردو اس کے زیر سایہ پرورش پا رہی تھی اس لیے کثیر تعداد میں الفاظ اردو زبان میں در آئے۔

اور پھر بعد میں جب اصلاح زبان کی تحریک چلائی گئی تو سنسکرت کے الفاظ کو نکال باہر کر کے فارسی کو خاص اہمیت عطا کر دی گئی۔ اس طرح فارسی کے الفاظ کثیر تعداد میں زبان کے سرمائے میں شامل ہو گئے۔ اگرچہ اصلاح زبان کی تحریک نے اردو زبان کو فارسی الفاظ سے مزین کر دیا لیکن سنسکرت کے کو ملتا الفاظ کو نکال باہر کرنا بھی قرین انصاف نہ تھا۔ اردو کے ابتدائی دور میں فارسی، عربی اور سنسکرت سے بہت سے تراجم کیے گئے۔ تراجم کے موضوعات متنوع تھے۔

مذہب، تصوف، شاعری، داستان، ہیئت، فلسفہ کی مختلف النوع کتابوں کے تراجم اردو میں کیے گئے۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اردو زبان میں پہلا ترجمہ کون سا ہے۔ ”تہمہیدات ہمدانی“ کا ترجمہ عربی سے اردو میں کیا گیا۔ اس کتاب کے عربی زبان کے مصنف ابو الفضائل عبداللہ بن محمد عین القضاۃ ہمدانی ہیں۔ اس کتاب کو اردو کے پیکر میں شاہ میراں جی شمس العشاق نے ڈھالا۔ اس کتاب تمہیدات ہمدانی کو اردو کا پہلا ترجمہ تسلیم کیا جاتا ہے۔

لیکن کچھ لوگ اس سے سے اختلاف بھی کرتے ہیں۔ بعضے لوگوں کے نزدیک یہ ترجمہ پہلا ترجمہ نہیں ہے۔ ”دستور عشاق“ یہ کتاب فارسی زبان میں لکھی گئی ہے۔ اس کا اردو میں ترجمہ ”سب رس“ کے نام سے کیا گیا۔ دستور عشاق ابوالفتاحی نیشا پوری کی کتاب ہے۔ اس کو اردو جامہ ملا وجہی نے پہنایا۔ اس سب رس کو اردو کا پہلا ترجمہ مانا گیا ہے۔ 1704 ء میں ”معرفت السلوک“ جو کہ فارسی تصنیف ہے اس کا اردو میں ترجمہ کیا گیا۔ معرفت السلوک شیخ محمود کی کتاب ہے اور اسے اردو میں شاہ ولی اللہ قادری نے ترجمہ کیا تھا۔

”طوطی نامہ“ یہ فارسی کی کتاب ہے۔ اسے سید محمد قادری نے تصنیف کیا تھا۔ اس کا اٹھارہویں صدی میں اردو میں ترجمہ کیا گیا۔ اور اس زمانہ کے اندر کربل کتھا بھی ترجمہ کی صورت سامنے آئی۔ ”کربل کتھا“ یہ اردو ترجمہ ہے۔ یہ ترجمہ ملا فضل علی فضلی نے کیا تھا۔ یہ کتاب در حقیقیت ”سید الشہداء“ کا ترجمہ ہے جو کہ ملا حسین واعظ کاشفی کی کتاب ہے۔ اگرچہ یہ تراجم آج کے تراجم کے بنیادی اصولوں پر پورا نہیں اترتے۔ یہ آزاد تراجم کی صورت تھی۔ بعض اوقات اصل کتاب کی تلخیص ہوتی۔ سائنسی بنیادوں پر تراجم کے اصولوں کی پاسداری کی اس وقت توقع رکھنا عبث ہے۔ اس وقت یہی کافی تھا کہ ایک زبان کا علم و ادب، شعور و ادراک، جذبات و احساسات اردو زبان میں منتقل ہو رہے تھے۔

علاوہ اس کے عیسائی تاجر تجارت کی غرض سے جب ہندوستان میں وارد ہوئے اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے سائے تلے ہندوستان کے وسائل کو لوٹنے کا اک بہانہ کیا۔ اب ان کو تبلیغی و تجارتی مقاصد کے لیے زبان کو سیکھنا تھا۔ اپنی زبان کو دوسروں کو سکھانا اور ان کی زبان سے واقفیت ضروری تھی۔ انھوں نے اپنی مذہبی کتابوں کے تراجم اردو میں کیے۔ اس سلسلہ میں جو ترجمہ ہمارے سامنے آتا ہے وہ ہے ”کتاب پیدائش کے پہلے چار بابوں کا ترجمہ ہندوستانی“ جس کا ترجمہ بنجمن شولٹز نے کیا تھا۔ ”کتاب دانیال“ کا ترجمہ بھی شولٹز نے کیا۔ ”ہندوستان کا لسانیاتی جائزہ“ گریرسن کی اس کتاب میں ان تراجم کی تفاصیل موجود ہیں

قرآن مقدس کے بھی اردو زبان میں تراجم کیے گئے۔ اس سلسلہ میں پہلا ترجمہ لفظی ہے۔ یہ ترجمہ شاہ رفیع الدین نے کیا۔ اس میں قرآن کے ہر لفظ کا ترجمہ کیا گیا۔ اس انداز و اسلوب میں کیے گئے ترجمے میں کوئی ربط نہ رہا۔ جملوں کی ساخت میں تبدیلی سے مفہوم کے ترسیل میں بہت سی مشکلات پیدا ہو گئیں۔ سلاست اور روانی بھی متاثر ہوئی۔ شاہ رفیع الدین کا یہ ترجمہ پہلی مرتبہ 1776 ء میں سامنے آیا۔ 1795 ء میں ایک اور ترجمہ قرآن سامنے آیا۔

یہ ترجمہ شاہ عبدالقادر نے کیا تھا۔ شاہ عبدالقادر شاہ رفیع الدین کے چھوٹے بھائی تھے۔ یہ با محاورہ ترجمہ تھا۔ اس میں سلاست اور روانی بھی قائم رہی۔ ترجمے کو پڑھنا اور سمجھنا آسان تھا۔ شگفتگی اور تازگی بھی تھی۔ ان تراجم کے بعد فورٹ ولیم کالج، دہلی کالج اور دار الترجمہ عثمانیہ کالج کے تراجم سامنے آئے اور اردو کی صحیح معنوں میں آبیاری کی۔ ان کالجوں کے تراجم سے اردو زبان نے بہت وسعت اختیار کرلی۔ اردو زبان ہر طرح کے مفہوم کی ادائیگی کے قابل ہو گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *