پاکستان میں ثقافتی پسماندگی کی وجوہات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ثقافت کسی قوم یا معاشرے کے طرز زندگی کا نام ہے۔ کسی بھی معاشرے کے رسوم و رواج اور اقدار جن پر تمام لوگ عمل کرتے ہیں۔ کسی بھی قوم یا معاشرے کی شناخت اس کی ثقافت سے ہوتی ہے۔ ہر قوم اپنے طریقے سے ثقافت کو پروان چڑھاتی ہے۔ ثقافت بنیادی طور پر زمین کی چیز ہے اور زمیں سے پیدا ہوئی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ثقافت میں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ پہلے سے موجود ثقافت میں اوپر سے آنے والی ثقافتیں پیوند لگاتی ہیں لیکن اس مراد یہ ہر گز نہیں کہ پہلے والی ثقافت ختم ہو جاتی ہے۔

اس پیوندکاری کی مثال ایسے ہی ہے جیسے لال رنگ میں بالکل تھوڑی مقدار میں مختلف رنگ شامل کیے جائیں باقی رنگ نظر تو آئیں گے لیکن زیادہ واضح رنگ لال ہو گا۔ پاکستانی ثقافت بھی کچھ ایسی ہی ہے اس خطے میں مختلف قومیں آئیں اور یہاں کی ثقافت میں اپنی ثقافت کے رنگ گھولتی رہیں۔ جب سے اس خطے کو الگ سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کا نام دیا گیا ہے ثقافت کے معاملے میں سب الجھ کے رہ گئے ہیں جو پہلے سے موجود رسوم و رواج ہیں ان کو لے کے چلا جائے یا اسلامی جمہوریہ ملک ہونے کی صورت میں ثقافت کے ان عناصر کو ختم کر دیا جائے جو پہلے پورے ہندوستان کی ثقافت کے عناصر تھے۔

کبھی لگتا ہے ثقافتی پسماندگی ورثے میں ملی ہے۔ عرب ثقافت کے خلاف نہیں ہیں وہ لبرل اور موسیقی کے دلدادہ ہیں۔ لیکن پاکستان میں موسیقی، مجسمہ سازی وغیرہ حرام ہے۔ ہم ترقی کی ہر صورت کو مشکل سے تب قبول کرتے ہیں جب ضرورت بن جاتی ہے۔ لیکن یہاں بوسیدہ خیالات۔ ماضی اور مذہبی تعصب سے باہر نکلنا ہی نہیں چاہتے۔ یہی بد قسمتی ہے نہ ترقی کر سکتے ہیں نا ترقی ہوتی دیکھ سکتے۔

ہمارا ملک چونکہ ترقی پذیر ممالک میں شامل ہے تو یہاں پر ثقافتی پسماندگی بہت ہے۔ اس کی بھی کچھ وجوہات ہیں۔

اگر بات کی جائے مذہب کی کہ مسلمانوں کی ثقافتی پسماندگی میں سب سے پہلا سبب یہی ہے۔ ہمارے مذیب میں فنون لطیفہ کی جگہ بہت محدود ہے۔ ماضی کے حکمرانوں نے اپنا سارے پیسے کا بے دریغ خرچ محلات، باغات اور مزاروں پر کیا یا پھر فن خطاطی پر۔

موسیقی میں فوک زندہ رہا۔ یہ زمین اور قوم سے جڑا رہا۔ یا پھر دف بجاتی لڑکیوں تک موسیقی کو محدود کر دیا گیا۔ فنون لطیفہ کو بت پرستی اور شرک کے کچھ اور نام دینے کی زحمت نہیں کی گئی۔ اس کا ثبوت اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔ یہاں کے فنکاروں پر ترس آتا ہے ان کی جمالیاتی حس کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ اس ثقافتی بانجھ پن اور بد ذوقی کو ختم کرنے کے لئے فنون لطیفہ کو مذہب سے الگ کر کے دیکھنا ہو گا۔

دوسرا سبب معاشی پسماندگی ہے۔ پاکستان ترقی یافتہ ممالک میں سے نہیں ہے اگر ہوتا تو معاشی پسماندگی کی وجہ سے ثقافتی ترقی نہ رکتی۔ معاشی ترقی ہو گی دال روٹی کے لالے نہیں ہوں گے تو زندگی کی خوشیوں سے راحت محسوس کر سکیں گے۔ غربت کے لیے حسن و عشق کیا معنی رکھیں۔ ملک کے وسائل کو وسیع کیا جائے ایلیٹ تک محدود نہ رہے۔ جاگیردارانہ نظام ختم کیا جائے عوام کی بہبود کے لئے کام کیا جائے تو ثقافتی پسماندگی کو ختم کیا جا سکتا ہے

ایک سبب ماضی سے لگاؤ ہے وہ قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی جو ماضی کو سینے سے لگا پھرے۔ ماضی کو سپنوں میں زندہ رکھیں گے ترقی کیسے ہو گی۔ ہر مسلے کا حل ماضی میں دیکھتے ہیں۔ ماضی کے حکمرانوں کا گیت گاتے ہیں ہرانے رسوم و رواج اور اقدار کو ترجیح دیتے ہیں اسی ماضی پرستی کی وجہ سے نہ تو سائنسی ایجادات ہوتی ہیں نہ کسی ترقی کو ایسی قوم تسلیم کرتی۔ ایسی قوموں پر زوال اپنا ڈیرہ جمائے رکھتا ہے۔ اس سے باہر نکلا جائے تو ثقافتی ترقی بحال ہوگی۔

پسماندہ قوموں کا ایک ایک مسئلہ یہ بھی ہے وہ نئی تہذیب و ثقافت میں سے کیڑے نکالنے لگ جاتی ہیں اور بس برائیوں کو دیکھتی ہیں۔ فرسودہ اقدار کے ساتھ لپٹے رہتے ہیں۔ لیکن اس زمانے میں نئی اقدار کو اپنا کر ہی ترقی کی جا سکتی ہے۔ اس کا مطلب مغرب کی اندھی تقلید ہر گز نہیں ہے۔ خود سے ان کا تجزیہ کر کر منفی اثرات سے بچ کر مثبت اثرات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ نئی اقدار سے فرار کا راستہ اختیار کرنا بے وقوفی ہے۔ ان کو اپنا کر ترقی کی جاسکے گی۔

اس سماج میں مردوں کا غلبہ ہے۔ یہ ثقافتی پسماندگی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے پاکستان میں پدرسری نظام کی جڑیں ابھی بھی موجود ہیں۔ عورت کو کم تر سمجھا جاتا ہے یا ذاتی ملکیت۔ وہ اپنی مرضی سے کچھ نہیں کر سکتی۔ عورت تو حسن کی علامت ہے۔ ایسے معاشرے میں لوگ کیا جانے جمالیات کیا ہے۔ ان کو پہچان ہی نہیں۔ اس سے معاشرے کی ذہنی اور روحانی ترقی رک جاتی ہے۔ جمالیاتی حس مر جاتی ہے۔ اگر کوئی عورت باہر نکلتی ہے وہ عدم تحفظ کا شکار ہوتی ہے۔ ایسا معاشرہ کیسے ثقافتی ترقی کر سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عطیہ سبحانی کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *