سب کچھ پہلے جیسا رکھنے کے خواہاں لوگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس نے مجھ سے کہا، ”میں تو یہ سمجھا تھا کہ آپ ہمارے بندے ہیں“ ۔
” میں اللہ کا بندہ ہوں کسی اور کا بندہ نہیں ہو سکتا“ میں نے جواب دیا۔

” اللہ بھی تو ہمارا ہی ہے“ ۔ اس نے اللہ کو نعوذ باللہ اپنی اجارہ داری میں لے لیا۔ اللہ کو صرف ”ہمارا“ کہنا ایسے ہی ہے جیسے اسے ملکیت بنا لیا گیا ہو کیونکہ اللہ تو سبھی کا ہے۔

مفسرین قرآن اس پر متفق علیہ ہیں کہ جو لوگ دوسرے لوگوں کو اپنا بندہ بنانے پر تلے ہوتے ہیں وہ قرآن کی رو سے ”طاغوت“ کہے جانے کے زمرے میں آتے ہیں یعنی نعوذ باللہ الوہ بننے کے خواہاں غیر اللہ، جن کی اطاعت رب کی نگاہ میں شرک شمار ہوگی۔

”ہمارا بندہ“ کہنے کا یہ مطلب بھی لیا جا سکتا ہے کہ ”ہمارا حامی“ کیونکہ پنجابی زبان میں حامی کے لیے عرف عام ”بندہ“ ہی ہے، اس زبان میں بندہ انسان کو کہا جاتا ہے مگر درحقیقت ”بندے“ کا مطلب ”بندگی کرنے والا“ یا ”بند یا بندی (قیدی)“ ہی ہوتا ہے۔ حامی ہونے سے یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ حامی جس شخص، تنظیم یا ادارے کا حامی ہوگا اس کی کہی ہر بات پر عمل کرے گا اور اس کی ہی مانے گا۔

تنظیم کا اصول یہی ہے اور تنظیم ضابطوں کے تحت ہوا کرتی ہے۔ تنظیم کی اشکال ہو سکتی ہیں جیسے عسکری تنظیم فوج یا پولیس وغیرہ، خفیہ ایجنسیاں جن کا حصہ ہوتی ہیں۔ سیاسی تنظیمیں جس میں اپنی قیادت سے اختلاف کرنے کی جزوی یا مکمل آزادی ہوتی ہے البتہ فیصلہ قائد کا کا مانا جاتا ہے یا اجتماعی طور پر کیا گیا فیصلہ۔ جس سیاسی تنظیم میں قائد کا فیصلہ مانا جاتا ہے وہ یا تو نیم جمہوری ہوتی ہے یا مکمل طور پر غیر جمہوری اور جس میں اجتماعی فیصلہ مانا جاتا ہے وہ جمہوری تنظیم ہوتی ہے۔

اس کا اگلا اصول یہ ہوتا ہے کہ فیصلہ آپ کے موقف کے خلاف ہو گیا تو اب آپ کو اپنا اختلاف پس پشت ڈال کر اسی فیصلے پر کاربند رہنا ہوگا یا پھر آپ کو تنظیم سے علیحدگی اختیار کر لینی چاہیے۔ تنظیمیں سماجی بھی ہو سکتی ہیں، سرکاری اور غیر سرکاری بھی مگر بندے کو ”بندہ“ انہیں تنظیموں یا ڈھانچوں میں بنایا جاتا ہے جہاں بندہ بندہ نہیں رہتا یعنی انسان انسان نہیں رہتا وہ اس مشینری یعنی تنظیم کا حصہ بن جاتا ہے۔ ایسا کرنے کی وجوہات ہوتی ہیں۔ اہم ترین وجہ ”حاکمیت“ کے نظام کو برقرار رکھنا ہوتا ہے یعنی ”ریاست“ کو جس طرح کی وہ تشکیل پا چکی ہو ویسا ہی رکھنا ہوتا ہے۔

تمام ریاستوں کو ریاست رکھا جانا ضروری ہے اس سے قطع نظر کہ ”خاندان، ریاست اور ذاتی جائیداد کی ابتدا“ کیسے ہوئی ( اسی عنوان کے تحت معروف انسانیت پرست فریڈرک اینگلز کی کتاب ضرور پڑھیے جو ایک بار پھر سوویت روس کی بجائے ”بک ہوم، لاہور“ نے شائع کی تھی) ۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریاست کو جیسی کہ وہ ”ہے“ کو ”ویسا“ ہی رکھنے کے خواہاں لوگ کون ہوتے ہیں؟

لامحالہ وہ تو ہو نہیں سکتے جن کو اس خاص ریاست کے خاص ڈھانچے اور بنت سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا اور وہ بھی نہیں ہو سکتے جو ایسی ریاست کے ڈھانچے کے نقائص کے سبب مسلسل نقصان، سختیوں اور جبر کا شکار رہتے ہیں۔ پھر اس ریاست کو ویسا ہی رکھنے کے خواہاں وہی لوگ ہوں گے جن کو اس سے فائدہ پہنچتا ہے یعنی افسر شاہی، افواج، صنعتکار، بڑے کاروباری، بڑے زمیندار، مذہبی جماعتوں کے ٹھیکیدار وغیرہ وغیرہ۔ ایسے لوگوں کی تعداد یقین جانیں عام آبادی کے مقابلے میں بہت ہی کم ہوتی ہے مگر ان کا اثر و رسوخ، رعب و دبدبہ، کروفر اور اس نوع کے دیگر ”طاغوتی اوصاف“ اس لیے بہت زیادہ اور موثر ہوتے ہیں کیونکہ Gun یعنی طاقت بھی ان کی ہوتی ہے اور Gold یعنی وسائل بھی۔ انگریزی زبان میں کہا جاتا ہے کہ Gun and gold is equal to God مطلب جس کے پاس طاقت بھی ہے اور دولت بھی یوں سمجھو وہ زمین پر خدا ہو گیا بلکہ درست لفظوں میں ”طاغوت“ ہو گیا۔

کچھ عرصہ پہلے پاکستان کے ایک خوبصورت اور ادب پرور انسان دوست شخصیت اجمل کمال نے سوشل میڈیا پر ایک سوال کیا تھا Should we not feel ashamed as citizens of this unjust country؟ کیا ہمیں نا انصافی پر مبنی اس ملک کا شہری ہونے پر شرمندہ نہیں ہونا چاہیے؟ اپنے اپنے دل میں جھانکیے تو معلوم ہوگا کہ کون کہتا ہے ایسا نہیں ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ نا انصافی پر مبنی اس ملک کے شہری ہونے پر شرمسار ہونے والے محب وطن نہیں ہیں۔ وہ ان لوگوں سے کہیں زیادہ محب وطن ہیں جو حب الوطنی کا معاوضہ بڑی بڑی تنخواہوں، سہولتوں یا مفادات کی شکل میں لیتے ہیں۔ مگر یہی وہ لوگ ہیں جو ہم کم مایہ لوگوں سے حب الوطنی سے متعلق سوال بھی کرتے ہیں اور بضد ہیں کہ حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ بھی ان سے ہی پایا جائے۔

جی ہاں ایسا سن کر اتنا دکھ ہوتا ہے کہ انسان بے اختیار رونے لگ جاتا ہے۔ میرے ساتھ ایسا ہو چکا ہے، لمبی کہانی سنانے کی ضرورت نہیں بات کوئی چوبیس برس پرانی ہے جب رات کے پچھلے پہر مجھے ایک دوست کے ہمراہ زیرو پوائنٹ اسلام آباد سے پستول کی نوک پر اغوا کر لیا گیا تھا۔ ابتدائی بازپرس میں جب ایک ”بے وردی“ افسر نے میری حب الوطنی پر وار کیا تو میں بے اختیار رونے لگا تھا۔ وہ حیران ہو گیا تھا کہ نہ ڈانٹا نہ ڈرایا یہ ”ٹسوے کیوں بہانے لگا“ میں نے اس کا استعجاب بھانپ کر جذباتی لہجے میں اس کو کچھ کہا تھا، اس نے ”ٹھیک ہے، ٹھیک ہے“ کہہ کر بات ٹال دی تھی۔ وہ پوری رات اور اس سے اگلا دن پاکستان کی تین مختلف ایجنسیوں کے اہلکاروں کے ساتھ ”گفتگو“ میں صرف ہوئے تھے۔

بہر حال ریاست کے وجود سے وابستہ لوگ ہی ہوتے ہیں (یاد رہے ایجنسیاں تو ایک چھوٹا سا حصہ ہوتی ہیں جبکہ ریاست ایک بہت بڑی مشین ہے جس کے ادارے اور اہلکار سبھی ایک ہوتے ہیں ) جو جیسا ہے کو ویسا ہی برقرار رکھنے کے نہ صرف خواہاں ہیں بلکہ مستعدی کے ساتھ ایسا کرنے میں مصروف بھی رہتے ہیں۔

البتہ باقیوں کو کوشش کرتے رہنا چاہیے تاکہ تبدیلی واقع ہو۔ برطانیہ، امریکہ، فرانس اور دیگر ملک آسمان سے نہیں اترے بلکہ ان کی آبادیوں کے زیادہ حصوں نے اپنے عزم، ارادے اور سعی سے ریاست کے پرانے ڈھانچوں سے وابستہ اپنے سے بہت کم لوگوں کو نیچا دکھا کر ریاستوں کا ڈھانچہ بدلا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *