اختلاف ،انسان اور تضاد


ایک بار انسان نام ور، با اثر اور شہرت یافتہ لوگوں میں شمار ہو جائے پھر اس کے کسی بھی قول سے اختلاف کرنا گناہ عظیم اور جرم سنگین مانا جاتا ہے۔ اگر اختلاف کرنے والا مشہور و معروف نہیں پھر اس کے دلائل کو ہی مسترد نہیں کیا جاتا بلکہ اسے طنز و تمسخر کا نشانہ بنا کر بدنامی کے اس مقام تک لایا جاتا ہے جہاں اس کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں رہتا کہ وہ عزت نفس کے خاطر چلو بھر پانی میں ڈوب کر مر جائے۔ ہر انسان کے خیالات جدا اور نظریات الگ ہوتے ہیں۔

کوئی بھی شخص یہ اعتراف نہیں کرتا کہ وہ جو کچھ سوچ اور کر رہا ہے وہ غلط ہے۔ اپنی ہر ہر بات کو صحیح تر گردانا انسان کی فطرت میں ہے۔ یہ پرکھنے اور جانچنے والے تک ہے کہ وہ کسی شخص کے خیالات و نظریات کی جانچ پڑتال کر کے حد فاصل مقرر کرے اور غیر جانبدار رہ کر مناسب صراحت کے بعد وضاحت کر دے کہ اس کے خیالات درست ہے یا نہیں۔ اس عمل کے دوران وہ کسی بھی شخصیت سے اختلاف کر سکتا ہے اور علمی جواز پیش کر سکتا ہے۔ نہ صرف اختلاف کے لیے بلکہ اگر وہ اس کے خیالات سے متفق ہے تب بھی واضح دلائل اور شواہد سے بات کو مکمل کر کے یہ پہیلی سلجھاتا ہے کہ میں اس سے متفق کیوں ہوں۔

کسی بھی شخص کے نظریات سے علمی اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ دو لوگ کی شکل و صورت، عادات و اطوار، گفتار و کردار ہی الگ نہیں ہوتے بلکہ ان کے نظریات، خیالات اور سوچنے سمجھنے کے زاویے الگ اور جدا جدا ہوتے ہیں۔ ایک بات کسی فرد کی نظر میں بری ہو سکتی ہے اور وہ اسے ثبوت اور شہادتوں کی روشنی میں بری ثابت کرتا ہے لیکن وہی بات کسی دوسرے فرد کی نظر میں سود مند ثابت ہو سکتی ہے اور وہ اپنے دلائل سے اسے سود مند ثابت کرتا ہے۔

اتنا ہی نہیں ایک فرد کے نزدیک کسی کی شخصیت معتبر ہو سکتی ہے اور وہ اس سے ازحد متاثر ہو سکتا ہے۔ وہی شخصیت کسی اور فرد کے لیے غیر معتبر اور ناقابل اعتبار ہو سکتی ہے۔ وہ اس کی خامیاں کی طرف توجہ دلا سکتا ہے۔ ایک ہی فرد کسی کے لیے مسیح اور فرشتہ ہو سکتا ہے اور کسی کے لیے شیطان۔ اس تضاد کے کئی پہلو اور وجوہات ہوسکتے ہیں۔ ایک فرد کسی کی بھلائی کے لیے تن من دھن لگا دیتا ہے۔ اس کی مدد کے لیے میدان میں کود پڑتا ہے۔

اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ جس پر وہ احسان کرتا ہے اس کی نظر میں وہ یقیناً فرشتہ اور دنیا کی سب سے معتبر شخصیت ہے۔ وہی شخص دوسرے کے لیے رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے۔ اس کو اذیت اور تکلیف میں مبتلا کر دیتا ہے۔ مختلف طریقوں سے اسے ستاتا ہے۔ وہ جس کے لیے آزار کا سبب بنتا ہے اس کی نظر میں وہ سب سے کم ظرف اور بد خو انسان ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ایک ہی شخص ایک کے لیے سہولت اور دوسرے کے لیے آزار کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کا جواب اثبات میں ہے۔ ایک شخص مختلف اور متضاد رویوں کا مالک ہوتا ہے وہ بیک وقت فرشتہ خصلت بھی ہو سکتا ہے اور شیطان صفت بھی۔ انسان کے سبھاؤ اور مزاج میں بدلاؤ اور تبدیلی ہی ضعیف انسان کی نشانی ہے۔

گویا کسی بھی شخص کے خیالات و نظریات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ اس انسان میں جو خوبیاں اور خامیاں ہیں ان کا بیان کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ ہر شخص اپنے طور صحیح ہوتا ہے۔ وہ جو کچھ کرتا اور سمجھتا ہے اس کی نظر میں وہی بہتر ہوتا ہے۔ اگر اس سے ذرا بھی شبہ ہو کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں وہ کسی طور سے بھی نادرست ہے تو یقیناً وہ اس کام سے باز رہے گا۔ کوئی بھی انسان اپنا پہلا پارکھ ہوتا ہے۔ وہ جو بھی کام کرتا ہے پہلے اس کو خود جانچتا ہے۔ جب اس سے یقین کامل ہوجاتا ہے کہ وہ صحیح کر رہا ہے تب ہی وہ اس کام کو انجام دیتا ہے۔ لیکن انسان عجیب مخلوق ہے۔ اپنے فائدے کے لیے ہر وہ کام کر گزرتا ہے جو اس کے نزدیک بھی غلط ہوتا ہے۔ منفعت دیکھ کر وہ یہ بھول جاتا ہے کہ وہ جس کام کو انجام دے رہا ہے اس سے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

کسی کے بارے میں رائے اور حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے اس کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کا جانا از حد ضروری ہے۔ دنیا میں اختلاف کر کے کسی بھی شخص کو غیر جانبداری سے پرکھنے والے بھی موجود ہیں اور متفق ہو کر جانبدار اور شخصیت پرستی کی سوچ کے انسان بھی۔ نہ مخالفت کرنے والے افراد کو روکا جا سکتا ہے اور نہ ہی موافقت میں جو اشخاص ہیں ان کو ٹوکا جا سکتا ہے۔ دونوں فریقین دلائل پیش کرتے ہیں اور دونوں کا استدلال حق بجانب ہوتا ہے۔ تضادات سے پر اور متضاد اشخاص پر بھروسا بھی کیا جاسکتا ہے اور نہیں بھی کیا جا سکتا۔ سوچوں کا اختلاف اور نظریات کا بگاڑ ہر جگہ ہے اور ان ہی اختلافات سے دنیا کی رونق ہے جو متضاد انسانوں کے درمیان ہیں۔

Facebook Comments HS