اقوام متحدہ کا اسرائیل فلسطینی لڑائی بند کرنے پر زور، بائیڈن کا مصالحتی کوششیں جاری رکھنے کا عندیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

غزی کی پٹی میں ایک رہائشی عمارت پر ہونے والے فضائی حملے کے بعد دیوار میں پڑنے والے شگاف سے اندر کا منظر دیکھا جا سکتا ہے ۔ چودہ مئی دو ہزار اکیس

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹیرس نے اسرائیل اور فلسطین تنازعے کے دونوں فریقوں سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ جبکہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ فلسطینی، اسرائیلی اور خطے کے دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر خطے میں پائیدار امن کی کوششیں جاری رکھے گی۔

یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں، جب جمعے کے روز بھی غزہ میں حماس کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملے جب کہ غزہ پر اسرائیلی توپوں سے گولہ باری اور فضائی کارروائیاں جاری رہیں۔

‘متاثرہ خطے میں ہنگامی انسانی امداد درکار ہے’

​اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹیرس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کئی دنوں سے جاری عسکری کارروائیوں کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان اور بڑے پیمانے پر املاک کو نقصان پہنچا ہے۔

عالمی ادارے کے سربراہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انتونیو گٹیرس نے انسانوں کے جانی نقصان پر سخت افسوس کا اظہار کیا ہے، جس کا دردناک پہلو یہ ہے کہ اس میں متعدد بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر لڑائی کو نہ روکا گیا تو اس کے نتیجے میں سیکیورٹی کی صورت حال قابو سے باہر ہو جائے گی اور انسانی بحران گھمبیر صورت اختیار کر لے گا۔ اس کی وجہ سے شدت پسندی کے جذبات مزید بھڑک اٹھیں گے اور اس کے اثرات نہ صرف فلسطینیوں کے علاقے تک اور اسرائیل تک پھیلیں گے، بلکہ یہ تنازع دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔

مصالحتی کوششوں کے حوالے سے گٹیرس نے کہا کہ اقوام متحدہ مصالحت کی کوششیں کر رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر متاثرین کی فوری مدد کی اشد ضرورت ہے اور انہیں ضروری امداد فراہم کرنے کا کام جلد شروع کیا جائے۔

گٹریس نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے چار فریقوں کا گروپ جلد از جلد اجلاس بلائے، اور فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جاری بحران کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس ضمن میں انھوں نے فلسطین اور اسرائیل کے حوالے سے ماضی میں اقوام متحدہ کی جانب سے منظور کردہ قراردادوں، بین الاقوامی قانون اور باہمی سمجھوتوں کا بھی ذکر کیا۔

صدر بائیڈن کا عید کے پیغام میں غزہ کی صورتحال کا ذکر، متاثرہ بچوں سے اظہار ہمدردی

صدر بائیڈن نے عید الفطر کے پیغام میں غزہ کی صورتحال اور مصالحت کی کوششیں جاری رکھنے کا ذکر کیا ہے۔
صدر بائیڈن نے عید الفطر کے پیغام میں غزہ کی صورتحال اور مصالحت کی کوششیں جاری رکھنے کا ذکر کیا ہے۔

ادھر امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ فلسطینیوں، اسرائیلی اور خطے کے دیگر پارٹنرز کے ساتھ مل کر پائیدار امن کی کوششیں جاری رکھے گی۔

صدر نے یہ بات جمعے کے روز جاری ہونے والے ایک بیان میں کہی، جس میں انہوں نے مسلم دنیا کو عید کی مبارکباد بھی پیش کی ہے۔

وائٹ ہاوس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی، جن میں غزہ میں رہنے والے فلسطینی بھی شامل ہیں اور اسرائیلی عوام، سبھی کو عزت، تحفظ اور سلامتی کے ساتھ رہنے کا حق حاصل ہے۔

انھوں نے دنیا بھر میں مسلمانوں کے لیے بڑے تہوار عیدالفطر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ دیکھ کر خوشی ہوئی ہے کہ مسلم دنیا اپنا تہوار منا رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ اس سال بیت المقدس کی صورت حال ہر جگہ کے مسلمانوں پر گراں گزری ہے، جن میں امریکہ میں رہنے والی مسلمان کمیونٹیز بھی شامل ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کسی خاندان کو اپنے گھر اور اپنی عبادت گاہ میں رہتے ہوئے خوف یا اپنے تحفظ کا مسئلہ درپیش نہیں آنا چاہیے۔

بیان کے مطابق ، ”ہم اس خطے کے بچوں کے بارے میں فکر مند ہیں، جو ایک ایسے تنازعے کا صدمہ جھیلنے پر مجبور ہیں، جس پر ان کا کوئی کنٹرول نہیں”۔

صدر بائیڈن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ خود اور خاتون اول جل بائیڈن اتوار کو وائٹ ہاوس میں عید کی مناسبت سے منعقد ہونے والی تقریب کے منتظر ہیں۔

مصالحتی کوششوں کے لئے مصر کا وفد اسرائیل پہنچ گیا

ایسو سی ایٹڈ پریس کے مطابق، مشرق وسطی میں مصالحتی کوششوں کو آگے بڑھانے اور جنگ بندی کے لیے مصر کا ایک وفد اسرائیل پہنچ چکا ہے۔ مصر کے علاوہ، قطر اور اقوام متحدہ نے بھی اس ضمن میں اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔

غزہ کی صورتحال گمبھیر، جانی نقصان میں اضافہ

ایسوسی ایٹڈ پریس نے فلسطین کی وزارت صحت کے حوالے سے خبر دی ہے کہ غزہ کی لڑائی میں اب تک 122 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں 31 بچے اور 20 خواتین شامل ہیں، جب کہ زخمیوں کی کل تعداد 900 بتائی جاتی ہے۔

حماس اور اسلامی جہاد کے شدت پسند گروپوں نے تصدیق کی ہے کہ ان کے 20 اراکین ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ اسرائیل نے بتایا ہے کہ،مرنے والے “دہشت گردوں” کی کل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

ادھر راکٹ حملوں کی زد میں آکر اسرائیل میں سات افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں ایک چھ برس کا بچہ اور ایک فوجی شامل ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 2256 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *