چاند کس شہر میں نکلا ہو گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں عید الفطر کے چاند دیکھنے کا تنازعہ کچھ نیا نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک دلچسپ تاریخ رکھتا ہے۔ کچھ اسی طرح کا معاملہ حالیہ عید الفطر پر بھی دیکھنے کو ملا۔ ہر دفعہ چاند کو دیکھنے یا چھپانے کا طریقہ واردات مختلف ہوتا ہے۔ اس مرتبہ نہ صرف منفرد طریقہ تھا بلکہ کچھ مزاحیہ اور ناقابل یقین بھی تھا۔ آغاز رمضان المبارک سے ہی سابق وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور موجودہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری با تکرار فرماتے رہے کہ ”اس مرتبہ رمضان میں تیس روزے ہوں گے اور عید جمعۃ المبارک کو ہو گی“ ۔

ان کی اس اطلاع کا انحصار محکمہ موسمیات، سائنس ٹیکنالوجی، سپارکو وغیرہ کی ”فرسودہ“ مشینری پر تھا۔ جبکہ رویت ہلال والوں کے پاس لمبی لمبی دوربین نما کیمرے اور دیگر ”جدید“ آلات تھے۔ پھر مفتی صاحبان کا جذبہ ایمانی بھی ان جدید آلات کے ساتھ شامل ہو کر رویت ہلال کی طاقت کو دو آتشہ کر رہا تھا۔ لہٰذا محکمہ موسمیات کے ریڈار تو چاند کے بارے میں غلط اطلاع دے سکتے تھے مگر رویت ہلال کمیٹی کا طریقہ تحقیق و تفتیش تو غیب کی خبریں دے رہا تھا۔

صورت حال اس وقت ازحد دلچسپ ہو گئی جب سعودی عرب میں تیس روزے کے بعد عید کا اعلان کر دیا گیا۔ اب ہمارے پاس جو آخری جواز روزے ”انتیس تک روکنے“ کا تھا وہ بھی نہ رہا۔ مگر مایوسی گناہ ہے۔ ویسے تو محکمہ موسمیات وغیرہ کی معلومات کے پیش نظر بدھ کی شام رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس کی کوئی تک نہ بنتی تھی کہ جب مجوزہ چاند کی پیدائش کا شرعی اور سائنسی وقت ہی نہ پورا ہوا تھا تو پھر کوشش لاحاصل کا فائدہ۔ مگر ماشاءاللہ پاکستان ہر میدان میں نئے نئے ریکارڈ بنانے کی پوری صلاحیت و طاقت رکھتا ہے۔

کچھ اسی طرح کا معاملہ اس مرتبہ چاند شناسی کی مہم میں درپیش ہوا۔ ہمارے قابل احترام ممبران رویت ہلال کمیٹی پورے ساز و سامان کے ساتھ میٹنگ کے لیے مختلف شہروں میں براجمان ہو گئے۔ اتفاق سے اس روز پاکستان کے بڑے حصہ میں مطلع ابر آلود تھا۔ اور چاند نظر آنے کے امکانات بالکل معدوم تھے۔ شرعی طور پر بھی جب ایسی صورتحال درپیش آ جائے تو رمضان کے تیس روزے پورے کرنا واجب ہے۔ مگر جب حوصلے جوان، امنگ میں ترنگ، جذبوں میں رعنائی اور ”غیبی مدد“ بھی دستیاب ہوں تو پھر ناممکن کو ممکن بنتے دیر نہیں لگتی۔

گزشتہ کئی دہائیوں کی پریکٹس یہ رہی ہے کہ چاند نظر آنے یا نہ آنے کا معاملہ زیادہ سے زیادہ نو ساڑھے نو بجے رات تک طے کر دیا جاتا ہے، مگر اس مرتبہ زلف یار کی طرح یہ معاملہ دراز ہوتا گیا۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا جاسوسی فلموں کی طرح سسپنس بڑھتا چلا گیا۔ تمام ٹی۔ وی چینل یہ ٹکر چلا رہے تھے کہ چاند پورے ملک میں کہیں بھی نظر نہیں آیا۔ مگر رات دس بجے کے بعد ”اچانک“ یہ ٹکر چلنا شروع ہو گے کہ رویت ہلال کمیٹی کے ارکان ان شہادتوں کا ”تجزیہ“ کر رہے ہیں جنہوں نے چاند دیکھنے کی شہادت دی ہے۔

اور یہ لوگ ملک کے مختلف حصوں میں ہیں۔ ظاہر ہے یہ ساری تصدیق و تحقیق موبائل فون کے ذریعہ ہی ہو رہی ہو گی۔ جوں جوں رات بیت رہی تھی عوام کا شک یقین میں بدل رہا تھا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ پھر بڑے مزے کے تبصرے یار دوست سوشل میڈیا پر کر رہے تھے۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ اتنی رات گئے چاند دیکھا تو نہیں جا سکتا لیکن چڑھایا ضرور جا سکتا ہے۔ ہمارے پنجابی کلچر میں ”چاند چڑھانا“ ایک خاص معنی میں لیا جاتا ہے اور اس کا اپنا ہی مزا ہے۔

کسی نے لکھا کہ جلد اعلان کر دیں تاکہ پتہ چلے کہ سحری میں دہی کھانا ہے یا کھیر۔ کئی جگہوں پر اگلے دن روزہ متصور کرتے ہوئے نماز تراویح ادا کر دی گئی۔ کئی لوگ جلد سونے کے عادی ہوتے ہیں کہ سحری کو جلد اٹھا جائے، وہ سو گئے مگر ان کی قسمت کا فیصلہ کرنے والے جاگ رہے تھے۔ شام سے رات گیارہ ساڑھے گیارہ بجے تک کمیٹی نے بھرپور کوشش کی کہ کہیں سے چاند نکل آئے۔ ظاہر ہے کہ مقررہ وقت گزرنے کے بعد ایسا ممکن نہ تھا۔

پھر شہادتوں کا سہارا لیا گیا مگر یہ احتیاط بہرحال کی گئی کہ کوئی گواہ میڈیا پر نظر نہ آئے اور نہ ہی کسی گواہ کی تفصیل میڈیا پر جاری کی گئی اور اس طرح پوری ”چھان بین“ کے بعد چاند نظر آنے کا اعلان کر دیا گیا۔ اب یار لوگ طرح طرح کے تبصرے کر رہے ہیں۔ سب سے جاندار تبصرہ تو یہ ہے کہ برصغیر میں پاکستان واحد ایسا ملک بن گیا جس نے انتیس روزوں کے بعد عید منائی جبکہ بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال وغیرہ اس سہولت سے محروم رہے۔

حیرانی کی بات ہے کہ چاند صرف پاکستان میں ہی کیوں نظر آیا۔ کچھ لوگوں نے دلچسپ جملہ کسا کہ پتہ نہیں رات کو لوگوں نے کس ”چاند“ کو دیکھا اور رویت ہلال والے اسے آسمانی چاند سمجھ بیٹھے۔ یار لوگ عید کو جمعۃ المبارک کے دو خطبوں سے بچانے کے لیے جمعرات کو عید کی سہولت دی جانا بھی بیان کرتے رہے۔ یہ دو خطبوں والا تنازعہ ایک مرتبہ صدر ایوب کے دور حکومت میں بھی اٹھا تھا اور اس وقت بھی رویت ہلال کمیٹی نے اس کے منفی اثرات سے حکومت کو بچانے کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے ایک روزہ کی قربانی دی تھی۔

ویسے بھی تو روزہ نے احتجاج نہیں کرنا البتہ روزہ دار بھی انتیس روزوں کی عید پر اندر سے خوش ہوتے ہیں۔ اس لیے اس بات کی کم ہی پرواہ کی جاتی ہے کہ درپردہ حقائق کیا ہیں۔ یہ تو سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب صاحب کے اس بیان نے بھونچال پیدا کر دیا کہ دیدہ دانستہ تیسواں روزہ کم کیا گیا ہے اور عوام روزہ قضا کریں اور معتکف حضرات بھی ایک روزہ کا مزید اعتکاف کریں۔ کیا صرف بائیس کروڑ افراد کا ایک روزہ دو خطبوں سے راہ فرار تھا یا ”چاند رات“ کو اچانک دھچکا کہ لوگ کووڈ کی وجہ سے گھروں تک محدود رہیں، یا کوئی دیگر فنی وجوہات تھیں۔

یہ صیغہ راز میں ہیں اور رہیں گی کہ ہمارے ہاں اس طرح کی باتیں وقت کی گرد میں گم ہو جاتی ہیں۔ اب ذرا سنجیدگی سے اس مسئلہ کو لیں تو کیا اکیسویں صدی میں رویت ہلال ہمارے ہاں متنازعہ رہے گی۔ یہ لمحہ فکریہ ہے تمام اکابرین دین، حکومت وقت اور سائنس و ٹیکنالوجی، محکمہ موسمیات اور دیگر متعلقہ اداروں کے لیے کہ چاند کا درست اور حتمی تعین مذاق نہ رہے اور اداروں کی عزت و توقیر سلامت رہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *