آپ عورت نہیں ہیں


عورتوں کو حقوق چاہئیں، مردوں کے برابر انسانی حقوق۔ عورت ہمیشہ اپنی حق تلفی پر شور مچاتی ہے کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے۔

عورت کو جانور سمجھا جاتا ہے یا پھر مشین، لیکن انسان نہیں۔ اس کو آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیا جاتا۔ وہ عوامی مقامات پر نکلتی ہے تو اس کو گھورا جاتا ہے۔ وہ بہت ساری ملازمتیں محض اس لیے حاصل نہیں کر سکتی کہ عورت ہے۔ جو کہ عورت کے ساتھ سراسر نا انصافی ہے۔ آخر وہ اس عہدے، رتبے پر کیوں نہیں جا سکتی، جس پر مرد براجمان ہے۔ مغرب نے تو عورت کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کو ہر جگہ مرد کے برابر حقوق دے دیے ہیں۔

یہاں تک کہ عوامی مقامات پر عورت کسی بھی طرح کا لباس پہن کر چلی جائے، تو اس پر آوازیں کسنا تو دور کسی کی جرات نہیں کہ کوئی آنکھ اٹھا کر اس کو دیکھے بھی۔ لیکن بد قسمتی سے عوامی مقامات میں کسی بھی طرح کا لباس پہن کر آنے کی عیاشی تو دور ابھی تک پاکستان میں بہت سارے شعبوں میں عورت کی موجودگی بھی ممنوع سمجھی جاتی ہے۔ جینز پہن کر اچھی لگنے والی عورت کو گھورنا ہمارے ہاں کے مرد کی آج بھی واحد تفریح ہے۔ جبکہ عورت خود کو منوانا چاہتی ہے۔ وہ اپنے اندر چھپی ہوئی قابلیت سے ثابت کرنا چاہتی ہے کہ وہ کسی مرد سے کم نہیں۔ بس وہ مواقع کی تلاش میں ہے۔ ہمارے ہاں کی عورت اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے، اور امید ہے کہ ایک دن وہ زندگی کے ہر شعبے میں مردوں کے برابر حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

لیکن مصیبت یہ ہے کہ جب عورت اپنے حقوق کی آواز اٹھاتی ہے تو ہمیشہ یہ یاد رکھتی ہے کہ وہ عورت ہے۔ اگر کسی عورت کو مرد سے تشبیہ دے دی جائے تو فوراً برا مان جاتی ہے۔ عورت جد و جہد کے لیے باہر نکلتی ہے تو پروٹیکشن کے لیے مردوں کا سہارا مانگتی ہے۔ اگر عورت کو مرد غلط نظر سے دیکھے، اس پر کوئی جملہ کسے، تب بھی وہ عورت بن کر پیچھے ہو جاتی ہے۔ اور خود جواب دینے کی بجائے لڑنے کے لیے کسی نہ کسی مرد کو آگے کر دیتی ہے۔ اور جن مردوں سے عورت کو شکایتیں ہوتی ہیں وہی مرد پھر عورت کا حامی بن کر لڑنے کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس دوران مرد بھی یہ بھول جاتا ہے کہ یہ وہی عورت ہے جو اس کے خلاف برابری کی جنگ لڑ رہی ہے۔

آپ کو شاید حیرت ہو کہ جب خوش قسمتی سے عورت کو آگے بڑھنے کے مواقع میسر آ جائیں تو بیشتر خواتین پھر خود پر عورت کا لیبل لگا لیتی ہیں۔ اور شکوہ کرتی ہیں کہ انھیں عورت کیوں نہیں سمجھا جا رہا۔

یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی عورت کسی سیاسی عہدہ پر ہے تو اس عہدے کی ساری مراعات تو حاصل کر لے لیکن عوام الناس کے لیے کام نہ کرے، جس کے لیے اسے منتخب کیا گیا ہے۔ یا اگر اس عہدے کے ناجائز استعمال پر پکڑی جائے تو کہہ دے وہ ایک عورت ہے اور نہتی عورت کو جیل میں مت ڈالیں۔ عورت ہونے کی وجہ سے اس پر مقدمہ نہ بنے یا اسے سزا میں رعایت دی جائے۔ اسی طرح اگر عورت کسی سرکاری عہدے پر فائز ہے، تو صرف ائر کنڈیشنر کمرے تک خود کو محدود نہیں کر سکتی۔

وہ حالات کا جائزہ گاڑی میں بیٹھے بیٹھے کیسے لے سکتی ہے۔ وہ کسی بھی شعبے میں مردوں کو یہ باور کروانے نہیں آئی کہ وہ ایک عورت ہے۔ اسے یاد رکھنا چاہیے کہ وہ ایک ملازم ہے۔ وہ جس عہدے پر بھی ہے، اس کا کام کرنے کے ہی اسے پیسے ملتے ہیں۔ کوئی عہدہ یا مقام ملازم سے کام اور اس کے مثبت نتائج کا تقاضا کرتے ہیں، نا کہ عورت کو اس کی نزاکت ظاہر کرنے کا۔ عورت کی یہی دوغلی پالیسی اسے اس کا حق دلوانے میں رکاوٹ ہے، جو اسے کامیاب نہیں ہونے دیتی۔

کہ پہلے وہ مردوں کے برابر حقوق مانگتی ہے اور پھر مردوں کے برابر کام کرنے سے کتراتی ہے۔ اگر وہ برابری کے حقوق چاہتی ہے۔ گھر سے باہر آ کر کام کرنا چاہتی ہے۔ سرکاری اور عوامی عہدوں تک رسائی چاہتی ہے، تو پھر وہ اے سی بنے یا ڈی سی، وزیر بنے یا مشیر۔ بس یہ بھول جائے کہ وہ عورت ہے۔ اسے صرف یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ ایک ملازم ہے۔ اچھا کام کرنے پر اس کی توصیف بھی ہوگی اور خراب کارکردگی پر سرزنش بھی۔ اسے کام کرتے ہوئے یہ احساس نہیں ہونا چاہیے کہ عورت ہونے کی بنا پر اس سے باز پرس نہ ہو، یا اس کی سرزنش کیوں ہوئی یا پھر اس سے مردوں جیسا کام کیوں لیا جا رہا ہے۔

محض اس بات پر اترانا کہ وہ اس ملک کا سب سے مشکل امتحان پاس کر کے بیورو کریٹ، ڈاکٹر یا انجینیئر بن گئی ہے۔ چونکہ وہ مشکل ترین مرحلے سے گزر آئی ہے لہذا اب اسے عورت سمجھ کے سہولت ملنی چاہیے اور آسان ٹاسک ملنا چاہیے۔ تو یہ ناممکن ہے۔ عورت جب مرد کے برابر حقوق مانگتی ہے تو پھر مردوں کی طرح فیلڈ میں آ کر کام بھی کرے۔ اس کو خود پر سے عورت کا لیبل اتارنا ہوگا۔ اگر اس معاشرے میں مردوں کے برابر حقوق چاہیے تو پھر انسان بن کر کام کرے عورت بن کر نہیں۔

کہ عورت جب کسی فیلڈ میں ہوتی ہے تو پھر وہ عورت نہیں رہتی، وہ صنفی تقسیم سے ماورا ہوتی ہے۔ اگر اسے عورت ہی بنے رہنا ہے تو پھر اس کو کسی فیلڈ میں آنے کی ضرورت ہر گز نہیں، کہ اس کے لیے گھر سے بہتر پھر کوئی جگہ نہیں۔ لیکن اگر وہ برابری کے حقوق چاہتی ہے، فیلڈ میں آ کر کام بھی کرنا چاہتی ہے پو پھر خود پرسے عورت کا لیبل ہٹا لے۔ وہ صرف یہ یاد رکھے وہ عورت نہیں ایک ملازم ہے۔ دھوپ ہو یا دھند، گرمی ہویا سردی، اسے کام کرنا ہے کہ اسے اسی کی تنخواہ دی جاتی ہے۔

Facebook Comments HS