"سچ تو یہ ہے”: ڈاکٹر صفدر محمود کی کتاب پر تبصرہ
پاکستان میں تاریخ دان ”دائیں بازو“ اور ”بائیں بازو“ نامی گروہوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ اس وقت اگر کوئی کسی تاریخ دان کو ”غیر جانبدار“ قرار دے تو دل ہے کہ مانتا ہی نہیں۔ قیام پاکستان سے اب تک ”بائیں بازو“ کے لوگوں کو دیوار سے لگایا گیا ہے اور ”دائیں بازو“ کو ہی ریاستی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ عہد حاضر میں دائیں بازو کے سرخیل تاریخ دان ڈاکٹر صفدر محمود ہیں۔ سیاسی نقطہ نظر رکھنے والوں میں ڈاکٹر صفدر محمود بھی اس اشرافیہ کا حصہ ہیں جن کے ہاں سیاست دانوں کو گالی دینا پسندیدہ مشغلہ ہے اور جہاں بات ”ریاستی اداروں“ کی غلط حکمت عملیوں پر آئے وہاں ان کے قلم لڑکھڑانے لگتے ہیں۔
ملک خداداد کی بنیاد ایک شاعر کے ”خواب“ پہ رکھی گئی شاید اسی لیے ڈاکٹر صفدر محمود نے بھی آدھی سے زیادہ تاریخ کی بنیاد ”خوابوں“ پر رکھی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر صفدر محمود درجن سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں، حال ہی میں ڈاکٹر صاحب کی کتاب ”سچ تو یہ ہے“ شائع ہوئی ہے۔ یہ کتاب ڈاکٹر صاحب کے ان کالموں کا مجموعہ ہے جو روزنامہ جنگ میں بار بار شائع ہو چکے ہیں۔ کسی بھی بحث میں پڑے بغیر ملاحظہ فرمائیے صفدر محمود صاحب کی اس کتاب پر تبصرہ:
ڈاکٹر صاحب ایک کالم بعنوان ”اقبال جناح اور مذہبی کارڈ“ میں لکھتے ہیں : ”مجھے بتائیں کہ اقبال اور قائداعظم نے کب اور کہاں مذہبی کارڈ استعمال کیا۔ ان کی ساری جدوجہد ایک آزاد اسلامی ریاست کے قیام کے لئے تھی جسے وہ مسلمانوں کی بقا کے لیے ناگزیر سمجھتے تھے، جبکہ مذہبی، لسانی، علاقائی کارڈ استعمال کرنے کا مقصد اقتدار کا حصول یا مخالف حکومت کو گرانا یا انتشار پھیلانا یا نفرت کے بیج بو کر علیحدگی کی تحریک کو ہوا دینا ہوتا ہے۔ اس سے برعکس اقبال اور قائداعظم کا نصب العین مسلمانوں کا اتحاد اور مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل آزاد اسلامی ریاست کا قیام تھا۔ خدا کے لئے ان کی بے لوث، مخلصانہ اور تاریخی جدوجہد کو کارڈ نہ کہیں“ ۔ گویا ڈاکٹر صاحب کے مطابق اس تاریخی جدوجہد میں مذہبی کارڈ کا استعمال نہیں کیا گیا تھا۔
صرف چند لوگوں کی رائے اور حوالہ جات ملاحظہ فرمائیے جو اس بات کو سمجھنے میں مدد فراہم کریں گے کہ تحریک پاکستان میں ”مذہبی کارڈ“ کا استعمال ہوا یا نہیں؟ اس حوالے سے معروف دانشور، مذہبی اسکالر مولانا وحید الدین خان اپنی کتاب ”ہند پاک ڈائری“ میں لکھتے ہیں : ”یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ پاکستان کی تحریک کی قیادت مسٹر طبقہ نے کی۔ علما کا طبقہ تقریباً 99 فیصد اس سے الگ رہا۔ وہ کسی بھی درجہ میں کوئی مذہبی یا اسلامی تحریک نہ تھی مگر عوام کا استحصال کرنے کے لئے مسلسل طور پر اس کے حق میں اسلام کا نام استعمال کیا گیا۔ ایک قومی تحریک کو اسلامی تحریک بنانا سراسر دو عملی کا ایک فعل تھا۔ یہ وہی چیز تھی جس کو شریعت کی زبان میں منافقت کہا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ منافقانہ روش پاکستان کی تمام پالیسیوں کا اہم ترین عنصر بن گیا۔ ہر غیر دینی کام کو دینی اصطلاح میں بیان کرنا پاکستان کے دانشوروں کا کمال قرار پایا“ ۔
سرور میواتی صاحب ”اک شکستہ داستان: کچھ شگوفے، تذکرے“ میں لکھتے ہیں : ”پاکستان کے قیام کے لیے مسلم لیگ نے اسلام کا سہارا لیا تھا، مسٹر جناح اور ان کے ساتھی کہتے تھے کہ پاکستان میں مکمل اسلامی شریعت کا نفاذ ہوگا۔ وہاں حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کا عہد پھر سے نظر آئے گا۔ 1946 کے الیکشن میں مسلم لیگی ایک طرف گاندھی کی ٹوپی اور دوسری طرف حضرت اقدس ﷺ کی دستار مبارک کی شبیہ رکھ کر مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ مسلمانو! تم ووٹ گاندھی کی ٹوپی کو دو گے یا حضور اکرم کی دستار مبارک کو؟ اگر مسلم لیگ اسلام کا نام نہ لیتی، اگر نفاذ و فروغ اسلام کی بات نہ کرتی، اگر مثالی فلاحی ریاست کا لالچ نہ دیتی اور مسلمانوں کو ورغلانے کے لئے علماء کو ساتھ نہ ملاتی تو مسلمان انہیں کبھی ووٹ نہ دیتے“ ۔
اسی طرح آئن ٹالبوٹ اپنی کتاب ”خضر حیات ٹوانہ: پنجاب یونینسٹ پارٹی اور تقسیم ہند“ میں لکھتے ہیں : ”پنجاب مسلم لیگ نے تسلسل کے ساتھ مذہبی اپیلیں اور نعرے بلند کیے۔ اس کے جلسے مسجدوں میں منعقد ہونے لگے اور قرآن کو لیگ کی شناخت قرار دیا جانے لگا اور قرآن پر تحریک پاکستان کو کامیاب بنانے کی قسمیں کھائی جانے لگیں۔ مسلم لیگ سے متعلق طلباء کو ہدایت کر دی گئی کہ وہ مسلم لیگ کی جدوجہد کا تاریخ اسلام کے مختلف ادوار کے ساتھ تعلق قائم کریں اور پاکستان کے پس منظر کے مذہبی رنگ کو اجاگر کریں“ ۔
کے۔ ایم۔ اعظم صاحب کے مطابق سرحد ریفرنڈم کے موقع پر پٹھان علماء کو پاکستان کی طرف مائل کرنے کے لئے ایک طرف قرآن کریم اور دوسری طرف کانگریسی ٹوپی رکھ کے کہا گیا کہ آپ ان دونوں میں سے ایک کو چن لیں۔ اس پر پٹھان علماء کے پاس قرآن پاک کی طرف دیکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔
اس کے علاوہ بہت سے حوالہ جات دیے جا سکتے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ تحریک پاکستان میں سیاسی مقاصد اور عوام کے جذبات ابھارنے کے لیے کھلم کھلا مذہب کا استعمال ہوا تھا۔ اگر مجھ جیسا محدود مطالعہ کا مالک شخص یہ حوالہ جات اکٹھے کر سکتا ہے تو ڈاکٹر صفدر محمود جیسے کئی کتابوں کے مصنف اور وسیع مطالعہ کے مالک شخص نے آنکھیں کیوں بند کر رکھی ہیں؟
ڈاکٹر صفدر محمود کا سب سے متنازعہ نظریہ قائداعظم کے طرز مملکت پہ پایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب چونکہ جناح کی شخصیت ساتھ اچھی خاصی کھینچا تانی کر کے انہیں ”مولوی جناح“ بنا چکے ہیں۔ اس لیے وہ عرصہ دراز سے بضد ہیں کہ اس بات پر ایمان لایا جائے کہ قائد اعظم نے ملک خداداد بطور اسلامی ملک حاصل کیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : قائداعظم سینکڑوں بار اعلان کر چکے تھے کہ پاکستان کی بنیاد اسلامی اصولوں پر استوار ہو گی۔
قائد اعظم کیسی ریاست چاہتے تھے، اس حوالے سے معروف مورخ آئن ٹالبوٹ لکھتے ہیں : ”جناح اور مسلم لیگ کو کنٹرول کرنے والی پیشہ ور اشرافیہ کے ذہن میں ایسی ریاست کا حصول تھا جہاں مسلمانوں کے سیاسی، ثقافتی اور معاشی مفادات کا تحفظ کیا جاسکے۔ ان کا مقصد ایک اسلامی ریاست تخلیق کرنا نہیں تھا“ ۔
نامور دانشور و محقق ڈاکٹر مہدی حسن لکھتے ہیں : قائد اعظم پاکستان کو ماڈرن لبرل اور جمہوری ریاست بنانا چاہتے تھے۔ انہوں نے قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں کئی بار نہ صرف سیکولر خیالات کا اظہار کیا بلکہ سیکولر ازم پر عمل بھی کیا۔ ڈاکٹر مہدی حسن کے مطابق 1906 سے لے کر 1947 تک مسلم لیگ کی ایک بھی قرارداد نہیں جس میں مذہبی مطالبہ کیا گیا ہو۔
ڈاکٹر اجیت جاوید اپنی کتاب ”وطن پرست اور سیکولر جناح“ میں لکھتی ہیں : قائد اعظم نے ہندوستان کے پاکستان میں پہلے سفیر سری پرکاش کو بتایا کہ ان کا پاکستان کو ایک جدید سیکولر ریاست بنانے کا ارادہ ہے۔
پاکستان کے سابق صدر اسکندر مرزا کہتے ہیں : دہلی سے رخصت ہونے سے پہلے ایک دن میں نے قائداعظم سے پوچھا، جناب ہم سب نے پاکستان جانے کے لئے اتفاق کر لیا ہے۔ لیکن آپ کس قسم کی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔ کیا آپ اسلامی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ”احمقانہ“ ، انہوں نے جواب دیا، ”میں ایک جدید ریاست قائم کروں گا“ ۔
نوجوان محقق یاسر لطیف ہمدانی اپنی کتاب ”جناح: حکایت اور حقیقت“ میں اس حوالے سے لکھتے ہیں : راجہ آف محمود آباد کا واقعہ اہم ہے۔ راجہ صاحب نے یہ کہتے ہوئے اپنی بات شروع کی کہ اس سال کے آغاز میں قرارداد لاہور منظور ہو چکی اور اب جب بھی پاکستان قائم ہوگا، سنت اور شریعت کے مطابق ایک اسلامی ریاست ہوگا۔ قائد کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ وہ راجہ کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا کہ کیا وہ اپنے ہوش و حواس میں ہیں؟
جناح نے اپنی بات میں اضافہ کرتے ہوئے کہا: کیا آپ جانتے ہیں اسلام میں 70 سے زائد فرقے ہیں اور اسلامی عقائد پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں؟ اس لیے اگر راجہ کی بات مان لی جائے تو پھر نوزائیدہ ریاست میں مذہبی بحث شروع ہو جائے گی، جو اس کی تباہی پر ختم ہوگی۔ پھر انہوں نے زور سے میز پر مکا مارتے ہوئے کہا ”ہم اسلامی ریاست نہیں، ایک لبرل جمہوری مسلمان ریاست بنیں گے“ ۔
قائداعظم کے قریبی ساتھی، آل انڈیا مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کے رکن سابق وزیراعلی سندھ محمد ایوب کھوڑو بھی کھلے لفظوں میں اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ جناح صاحب کوئی اسلامی ریاست نہیں قائم کرنا چاہتے تھے۔ معروف محقق حمزہ علوی ”تشکیل پاکستان: مذہب اور سیکولرازم“ میں لکھتے ہیں : ”مسٹر جناح نے اپنے تئیں کئی مواقع پر پاکستان کے لیے اپنے سیکولر تصور کا اظہار کیا“ ۔
قائد اعظم نے گورنر جنرل کا منصب سنبھالنے کے بعد نئی ریاست کی تشکیل کے لئے جو بنیادی فیصلے کیے وہی ان کے تصور پاکستان کا عملی اظہار تھے۔ پہلی کابینہ کا وزیر قانون ایک ہندو تھے، پہلی کابینہ میں وزیر خارجہ سر ظفراللہ خان ایک احمدی تھے۔ مسلم لیگ نے پنجاب اسمبلی کے سپیکر کے منصب کے لیے ایک کرسچن دیوان بہادر ایس پی سنگھا کو نامزد کیا۔ پاکستان کی پہلی کابینہ کا ایک وزیر بھی مذہبی رہنما نہ تھا۔ یہ کیسی ”اسلامی ریاست“ تھی جس کی بنیاد ہی سیکولرازم کی عملی تصویر پر رکھی جا رہی تھی؟
جب جنوری 1948 میں گاندھی قتل ہوئے تو قائداعظم نے بطور گورنر جنرل پاکستان، گاندھی کے سوگ میں سرکاری تعطیل کا اعلان کیا۔ بھارت سے صرف تعلقات بہتر بنانے کی بات کرنے کے بدلے طرح طرح کے سرٹیفیکیٹ دینے والی قوم کے کسی رہنما کے لئے آج ایسا کرنا ممکن ہے؟ ایسے فیصلے ایک سیکولر لیڈر ہی کر سکتا ہے۔
ڈاکٹر صفدر محمود صاحب ایک کالم ”قائداعظم لسانی مسئلہ، اردو زبان اور معترضین“ میں یہ تاثر دیتے پائے جاتے ہیں کہ 1948 میں صرف اردو کو سرکاری زبان قرار دینا ٹھیک تھا، جب قائد اعظم نے یہ فیصلہ مشرقی پاکستان میں سنایا تو ان کے خلاف کوئی احتجاج نہ ہوا، اس فیصلہ اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو آپس میں نہ جوڑا جائے۔
معروف محقق زاہد چودھری صاحب نے اپنی کتاب ”مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا آغاز“ میں حوالہ دے کر لکھا ہے کہ قائداعظم کو اس شاہی فیصلہ کے بعد طلباء کے اتنے شدید ہنگامہ کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ ڈھاکہ یونیورسٹی کے کانووکیشن میں تقریر ختم کیے بغیر چلے گئے۔
دائیں بازو کے ہاں یہ عادت کثرت سے پائی جاتی ہے کہ صرف منتخب حوالہ جات کو مانتے ہیں، حد تو یہ ہے کہ خود مسلم لیگ کے اپنے رہنماؤں کی چند کتابوں کو بھی اچھی نظر سے نہیں دیکھتے اور مخالف حوالہ کو تو مصنف کا تعصب، کمزور یا بے بنیاد قرار دے کر رد کرنے میں دیر نہیں کرتے۔ اس لیے ڈاکٹر صاحب نے بھی اس کو بے بنیاد قرار دے کر رد کر دیا ہے۔ چلو ایک لمحے کے لیے مان لیا کہ حوالہ بے بنیاد ہے تو کیا ”ڈان“ کی وہ رپورٹ بھی بے بنیاد ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس روز یونیورسٹی میں مظاہرہ بھی ہوا اور نعرے بازی بھی کی گئی؟
ڈاکٹر صاحب اس فیصلہ کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے نہ جوڑنے کی تلقین میں کہتے ہیں کہ بنگالی کو قومی زبان کا درجہ دیے جانے کے پندرہ سولہ سال بعد اس واقعہ کو علیحدگی کا ذمہ دار قرار دینا سطحیت ہے۔ جناب یہ تو صرف پندرہ سال کی بات ہے کئی سو سال قبل کے ”پہلے مسلمان“ کو بنیاد بنا کر پاکستان کے وجود کا تصور دینا سطحیت نہیں تھی؟ ڈاکٹر صاحب اپنی کتاب کے صفحہ پندرہ پر لکھتے ہیں : ”مجھے کہنے دیجئے کہ قیام پاکستان کی بنیاد 1192 میں رکھ دی گئی تھی“ تو جناب پھر اس میں کیا حرج ہے کہ بنگلہ دیش کی بنیاد 1948 میں رکھ دی گئی تھی؟ ڈاکٹر صاحب اپنے کالموں میں ایک اور جملہ تواتر سے استعمال کرتے ہیں کہ 1954 میں بنگالی کو قومی زبان کا درجہ دے دیا گیا اس لیے مسئلہ حل ہو گیا، تو حضرت اس ”دور اندیش“ فیصلہ کے خلاف ہی جانا تھا تو 7,8 سال تک نفرت کے پودے کو پانی دینے کی ضرورت ہی کیا تھی؟
ہم گزری تاریخ کو بدلنے کی سکت نہیں رکھتے مگر یاد رکھنے کی بات ہے کہ اکثر اوقات ”تاریخ کا آئینہ“ دیکھ کر مستقبل کے فیصلے کیے جاتے ہیں، جبکہ ہمارے تاریخ دان اتنی تیزی سے اس آئینہ کو دھندلا کرنے میں مصروف ہیں کہ شاید اس سے دکھنا ہی بند ہو جائے۔



ایک مکمل جانبدار تحریر۔ کچھ لوگوں سے پاکستان کا اسلامی تشخص برداشت نہیں ہوتا۔ ہدایت کی دعا ہی کی جا سکتی ہے۔