ڈیجیٹل کرنسی بٹکوئن ماحول کو کیسے آلودہ کرتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی مشہور کمپنی ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو افسر ایلن مسک نے اپنے حالیہ ٹویٹ میں ماحولیاتی آلودگی کے خطرہ کے پیش نظر اعلان کیا ہے کہ ان کی کمپنی کاروں کی فروخت ڈیجیٹل کرنسی بٹکوئن کے ذریعے نہیں کرے گی، جس سے بٹکوئن کی قیمت میں 10 % تک کمی واقع ہوئی ہے۔ اس سے پہلے فروری 2021 تک ٹیسلا نے تقریباً ڈیڑھ ارب امریکی ڈالرز کے بٹکوئن کی خریداری کی تھی اور مارچ میں ایلن مسک نے ٹویٹ کیا تھا کہ ان کی فرم اب کاروں کی فروخت بٹکوئن کے ذریعے بھی کرے گی۔ جس سے ڈیجیٹل کرنسیز کی قیمت اور طلب میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ مگر ماحول پر کام کرنے والی تنظیموں اور سائنس دانوں نے ایلن مسک پر کڑی تنقید کی تھی۔ جس کے باعث ان کو حالیہ ٹویٹ کرنا پڑا۔

سوال یہ ہے کہ کیا ڈیجیٹل کرنسی بٹکوئن واقعی ماحول کو آلودہ کرتی ہے؟ تو اس کا مختصر جواب ”ہاں“ میں ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم یہ دیکھیں کہ یہ جواب ”ہاں“ میں کیسے ہے تو زیادہ بری خبر یہ ہے کہ انٹرنیٹ اور آن لائن نظام جس سے ہم روزانہ اربوں آئٹمز بنا کر محفوظ کرتے ہیں وہ سب ماحول کی آلودگی کا باعث بن رہا ہے۔ کیوں کہ ان سب آئٹمز کو انٹرنیٹ کے کلاؤڈ پر محفوظ رکھنے کے لیے کثیر مقدار میں توانائی چاہیے ہوتی ہے اور توانائی کی یہ ضرورت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

اگر توانائی کی یہ ضرورت کوئلہ وغیرہ سے بجلی بنا کر پوری کی جائے گی تو انٹرنیٹ کے کلاؤڈ پر آئٹمز محفوظ رکھنے کا عمل بھی ماحول کی آلودگی کا باعث ہی بنے گا۔ بی بی سی کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا کے موجودہ ڈیٹا سینٹرز پورے تھائی لینڈ کی توانائی کے استعمال کا چار گنا زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف ڈیجیٹل کرنسی یا بٹکوئن تک محدود نہیں ہے۔

اس پس منظر کے ساتھ اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ بٹکوئن کیسے ماحول کو آلودہ کرتا ہے؟ بٹکوئن جو کہ کسی بھی ملک کی مرکزی کرنسی کی بجائے ڈیجیٹل کرنسی ہے کو انٹرنیٹ پر بنانے، محفوظ رکھنے اور لین دین کے لئے کثیر مقدار میں کمپیوٹنگ انرجی کی ضرورت پڑتی ہے۔ کرنسی بنانے کا یہ عمل ’مائننگ‘ کہلاتا ہے اور اس عمل کے لیے بہت بڑے بڑے ڈیٹا سینٹرز کی ضرورت پڑتی ہے جو بجلی کے ذریعے چلائے جاتے ہیں۔ یہ تو واضح نہیں کہ ایک بٹکوئن بنانے میں حتمی طور پر کتنی انرجی لگتی ہے اور ایسا معلوم کرنا بھی ممکن نہیں ہے مگر بی بی سی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق بٹکوئن کی توانائی کی کل کھپت تقریباً ہالینڈ ملک کی کل انرجی کی کھپت کے برابر ہے۔

کیوں کہ بٹکوئن اور دوسری کرپٹو کرنسیز کا لین دین اور قدر مسلسل بڑھ رہے ہیں تو ان سے توانائی کا استعمال بھی بڑھتا رہے گا اور ماہرین کے مطابق اگر بٹکوئن کو ڈالر کی طرح عالمی مالیاتی کرنسی کے طور پر قبول کر لیا جائے تو بٹکوئن کو صرف کلاؤڈ پر برقرار رکھنے کے لیے پوری دنیا کی موجودہ توانائی کی پیداوار کا دوگنا تک کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

آخر میں ہم مرکزی سوال کی طرف واپس آتے ہیں کہ بٹکوئن ہی کس طرح ماحول کو آلودہ کرتا ہے؟ کیوں کہ بٹکوئن کی کل حالیہ پیداوار کا 75 % تک صرف چین میں پراسیس کیا جاتا ہے اور چین اپنی توانائی کی کل ضرورت کا دو تہائی حصہ کوئلہ سے پیدا کرتا ہے جو اس وقت ماحول کو سب سے زیادہ آلودہ کرنے والے ذرائع میں سے ہے۔ ماہرین کے مطابق بٹکوئن کی طلب اور قدر میں جس قدر اضافہ ہوتا رہے گا اس قدر ہی چین میں کوئلہ سے پیدا ہونے والی بجلی کی طلب میں اضافہ ہوگا جس سے ہمارے ماحول کو سخت خطرات لاحق ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *