مواد اور ہیئت کا مسئلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عسکری نے کہیں لکھا ہے کہ سرسید اور حالی کا مغربی ادب و علوم سے پالا کافی بڑی عمر میں پڑا۔ یہ دونوں ہی افراد مغرب سے بہت مرعوب تھے مگر انگریزی نہیں جانتے تھے۔ مغربی علم و ادب ان تک تراجم کی صورت میں پہنچے۔ تو انہوں نے یوں سمجھا کہ اصل چیز تو خیال ہوتا ہے۔ یعنی اصل چیز تو مواد ہے۔ پھر ہئیت کچھ بھی ہو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ سرسید کے تصورات جب حالی کے تصور ادب کی صورت میں برصغیر پر مسلط ہوئے تو صرف خیال ہی اہم رہ گیا اور اس کی ہیئت کی اہمیت بس آئسکریم کے پیکٹ جتنی رہ گئی۔ آپ پیکٹ پھاڑ کر آئسکریم کھا لیں گے اور پیکٹ کوڑے دان کی نذر ہوگا۔

اس افادی تصور نے ہیئت کے ساتھ کیا کیا وہ آج سارے سماج کی جمالیات کے بھیانک زوال کی صورت میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ مگر اس صورتحال نے جو بھیانک کام ہماری نام نہاد علمی دنیا کے ساتھ کیا وہ دیدنی ہے۔ اب وہ علمی دنیا نہیں ہے بلکہ خام خیالات کی ہوائی فائرنگ کا میدان ہے۔ اس میں جمال تو ہے ہی نہیں مگر کسی قسم کی افادی ہیئت بھی اب باقی نہیں ہے۔ چلئے کچھ مثالوں سے سمجھتے ہیں۔ پہلے اعلیٰ حیال اور اعلیٰ ہیئت کی ایک مثال؛

الف لیلہ ایک کہانی ہے۔ ایک ایسی کہانی جس میں داستان در داستان ایک کائنات آباد ہے۔ وہ ایک جمالیاتی شاہکار ہے۔ مگر اس میں سبق بلکہ اسباق بھی موجود ہیں۔ مثلاً اس میں ایک اہم سبق یہ ہے کہ بے وفائی نہ عورت کے ساتھ مخصوص ہے نہ ہی مرد کے ساتھ بلکہ اس کا تعلق انسان کی انفرادی اخلاقیات کے ساتھ ہے۔ ایک اور سبق: قسمت انسان کی ہر تدبیر پر بھاری ہے۔ ایک اور سبق: سچ ظاہر ہو کر رہتا ہے۔ یہ اور اسی نوع کے اسباق الف لیلہ کی تمام کہانیوں میں موجود ہیں۔

مگر کہانیاں اول و آخر کہانیاں ہیں جو کہ جمال میں پوری اور تفریحی عناصر سے بھرپور ہیں۔ پڑھ کر انسان ایک جادوئی دنیا میں کھو جاتا ہے اور دنیا کو الف لیلہ کے عدسے سے دیکھنے لگتا ہے۔ اگر الف لیلہ میں موجود سارے اسباق کی ایک فہرست بنا کر اقوال زریں کی طرح لکھ دیے جائیں تو وہ بالکل بے معنی ہوجائیں گے۔ یعنی ہیئت بدل دینے سے خیال کا تاثر ختم ہو جائے گا۔

اوپر موجود مثال تو تھوڑی مبالغہ آمیز ہے مگر ہئیت کی معمولی تبدیلی سے ادب کے اثر میں کیسی خوفناک تبدیلی واقع ہوئی ہے اس کو سمجھنے کے لئے کسی بھی اعلیٰ شعر کے خیال کو نثر میں لکھ کر دیکھ لیجیے۔ یا کسی ناول یا افسانے کو اس کی اصل زبان میں پڑھنے کے بعد اس کا ترجمہ کسی اور زبان میں پڑھئے۔ دراصل مواد و ہیئت کا تعلق ایسا نہیں کہ ان کے درمیان کسی قسم کی دوئی تلاش کی جاسکے۔ ہیئت ہی مواد میں اثر پیدا کرتی ہے اور مواد کے بہت سے عناصر صرف ہیئت کی بندشوں میں ہی ظاہر ہوسکتے ہیں۔ میر کا شعر ہے،

پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں
اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی
اس شعر کا قاضی محمد اکرم نے یوں ترجمہ کیا،
O! That people like Meer are wondering helplessly in such a poor condition,
In love many nobles and elite have lost their dignity

کیا عزت سادات ’نوبلز‘ اور ’الیٹ‘ کی ’ڈگنٹی‘ ہے؟ اور ’مینی نوبلز‘ اس شعر میں کہاں سے آ گئے؟ شاید یہ ترجمہ ہی ناقص ہو مگر کوئی بھی ترجمہ اس شعر کے خیال کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ مواد اور ہیئت دو نہیں ایک ہی چیز ہیں۔ ترجمہ اور کمنٹری پڑھنے والے دراصل کسی مواد کو کسی دوسری ہیئت میں نہیں پڑھتے بلکہ ان کی رسائی اصل خیال تک ہو ہی نہیں پاتی۔ یہ مسئلہ صرف زبان کے سانچوں میں ڈھلے خیالات کا نہیں بلکہ عمارتوں کا بھی ہے۔

ایمپریس مارکیٹ اور سولجر بازار دونوں کا ہی مصرف ایک ہے مگر ایمپریس مارکیٹ ایک جمالیاتی اور ثقافتی تجربہ بھی ہے جبکہ سولجر بازار جمالیاتی طور پر ناقص اور ثقافتی اثر میں محدود ہے۔ دونوں عمارتیں اپنے مصرف سے بھی تجربے کی سطح پر ایک نہیں ہو سکیں۔ مسجد قرطبہ اور دہلی کی جامع مسجد کا جمالیاتی تجربہ ایک نہیں دہلی کی جامع مسجد اور لاہور بحریہ ٹاؤن کی مسجد کا تجربہ ایک نہیں ہو سکتا۔ حالانکہ تینوں مساجد کا مصرف ایک ہے، اللہ کی عبادت۔ کسی بھی شاعری کے ترجمے کو ترنم سے نہیں پڑھا جاسکتا۔ شاعری سے جب ترنم نکلتا ہے تو خیال بے جان ہوجاتا ہے۔ جملے ایک زبان سے دوسری میں ترجمہ ہو کر مر جاتے ہیں۔ مگر کیا یہ معاملہ صرف ادب کے ساتھ ہے؟

خالص سائنس کے ذیل میں آنے والی باتیں تو خیر ہمیشہ ہی خشک خیالات کی صورت میں تحریر ہوتی رہی ہیں اور سائنس کی اصل زبان تو حساب یا الجبرا ہے۔ علم کیمیا یا حیاتیات بھی اپنی زبانیں ہیں جو کہ ان کی تراکیب کے بیان میں استعمال ہوتی ہیں۔ مگر فلسفہ بہت مرتبہ ادب و شاعری کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ نیٹشے کی کتب اس کی ایک مثال ہیں۔ جہاں پر شاعری یا ادب نہیں وہاں ایک گفتگو نما تحریر کا انداز ہے۔ اس کی مثال فرائیڈ کی کتب ہیں۔

مگر جب فلسفے کی کمنٹریز لکھی جاتی ہیں تو پوری پوری کتب میں موجود خیالات کی ایک فہرست بنا کر قاری کے سامنے کسی قانون کی کتاب کی طرح پیش کردی جاتی ہیں۔ ’ارسطو کہتا ہے۔‘ ، ’نیٹشے کہتا ہے۔‘ ، ’فرائیڈ کہتا ہے۔‘ پڑھنے والے کے سامنے اب صرف خام اور خشک خیالات ہوتے ہیں۔ وہ خیالات جو کہ مرجھائے ہوئے خشک پتوں کی طرح بے جان معلوم ہوتے ہیں اور اپنی ہیئت چھوڑ دینے کی وجہ سے ادھورے بھی ہوچکے ہوتے ہیں۔ پڑھنے والے نہ جرمن جانتے ہیں نہ ہی یونانی نہ لاطینی یا کوئی بھی ایسی زبان جن میں یہ خیالات پیش ہوئے۔

ان کے سامنے پہنچتے ہیں صرف بدمزہ تراجم۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ خود کبھی بھی اپنے خیالات یا تجربات کا جمالیاتی اظہار نہیں کر پاتے۔ ایسے خیالات کے قارئین کے اپنے خیالات کے اظہار کی اہلیت بھی بس خیالات کی ایک فہرست سازی کی اہلیت سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔ پھر ترجمہ کرنے والے بھی اپنی مرضی کی باتیں ملا دیتے ہیں۔ ترجمہ بڑی حد تک خیالات کو بدل دینے کا شعوری یا لاشعوری عمل ہے۔ یوں ہوتا یہ ہے کہ ناصرف آئسکریم کا پیکٹ بدلتا ہے بلکہ آئسکریم بھی بدل جاتی ہے۔

بہت سے لوگ حیرت سے پوچھتے ہیں کہ ساری عرب دنیا میں ایک ساتھ ہی جمہوریت کی تحریک نے کیسے جنم لے لیا تھا اور اس تحریک کے اثرات دیگر آمریتوں مثلاً، شمالی کوریا، چین یا بیلاروس پر اثر کیوں نہیں ڈالا؟ وجہ صاف ہے۔ پرجوش جلسوں میں لگنے والے نعرے عربی میں تھے۔ عرب دنیا میں ان مظاہروں کی ویڈیوز دیکھنے والوں کو کسی کمنٹری یا ترجمے کی ضرورت نہیں تھی۔ ان پر مظاہروں کے جوش و جذبے کی محض تصویری جہت نے ہی نہیں بلکہ نعروں نے بھی تیر بہ ہدف اثر کیا۔ ان ہی نعروں کو اردو میں ترجمہ کر کے سنئے وہ ایک مذاق معلوم ہوں گے۔ خیالات اپنی ہئیت کے بغیر لنگڑے ہوتے ہیں۔ اپنے معنی اور تاثیر کھو دیتے ہیں۔ یعنی،

In love many nobles and elite have lost their dignity

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *