لاک ڈاؤن یا لوگ ڈاؤن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے ہیں پرہیز علاج سے بہتر ہے مگر ہم علاج کو پرہیز سے بہتر سمجھتے ہیں۔ پرہیز ہو یا علاج ہر دو میں اپنا انداز مضحکہ خیز ہی ہوتا ہے۔ اول تو کسی وبا کو سنجیدگی سے لینے کا رواج نہیں، گر بادل نخواستہ لینا پڑا تو محض رسما اور مجبوراً ہی لیا۔ لاک ڈاؤن کا مقصد بھیڑ اور اختلاط کو روکنا ہے۔ لیکن یہاں چند مخصوص ایام اور اوقات کے لئے لاک ڈاؤن ہوتا ہے جبکہ باقی دنوں میں معمول سے کہیں زیادہ رش رہتا ہے۔ جو کام ہر وقت ہو سکتے ہیں ان کے لئے لوگ محدود اوقات میں بازار جانے کی خاطر مجبور ہوتے ہیں۔

جب لوک جانتے ہوں کہ بازار شام چھ بجے بند ہوگا تو سارے کام چھ بجے سے پہلے نپٹانے کی کوشش کی جائے گی جس سے بھیڑ کئی گنا بڑھے گی۔ اس سے کہیں بہتر ہے کہ کاروبار زندگی کو مزید وسعت دی جائے تاکہ لوگوں کو اشیائے ضروریہ ہر جگہ دستیاب ہوں اور مرکزی مقامات پر اندھا دھند رش نہ ہونے کے باعث سماجی فاصلہ اور ایس او پیز قائم رہیں۔ بازاروں اور سٹالز کو دوردراز دیہی علاقوں تک پھیلایا جائے تاکہ عوام کو شہر جانے کی ضرورت نہ رہے۔

اوقات کی پابندی نہ ہو تو لوگ مناسب وقت پر ہی اشیاء خریدیں گے۔ ایسی غیر حقیقی بندشوں سے بینکوں، دفاتر، بازاروں، سٹوروں اور خصوصاً رمضان بازاروں میں عوام کے ذلت آمیز جم غفیر کو دیکھ کر کرونا خود بھی بھی شرماتا تو ہوگا۔ ویسے انڈیا اور پاکستان جیسی اندھا دھند آبادی والے ممالک کو بدحالی کے لئے کرونا وغیرہ کی حاجت نہیں ہے۔ اتنی بڑی آبادی کو ایس او پیز کا پابند بنانا ممکن ہی نہیں۔ تاہم اتفاق یہ بھی ہوا کہ زندگی میں پہلی بار حفظان صحت پر عمل نہ کرنے سے قوت مدافعت حساس نہ رہی اور کرونا کے آڑے آئی۔

آلودگی میں پلے بڑھے لوگ وبا کے چنگل سے بچ نکلے ورنہ سماجی فاصلوں اور احتیاط کے تو جنازے نکل چکے۔ صد حیف کہ ہم مسائل کے حقیقی حل سے نا آشنا ہیں اور ہمارا لاک ڈاؤن بھی مذاق ڈاؤن کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یا تو ہم لوگوں کو ضرب کر دیتے ہیں یا پھر تفریق کر کے ہر چیز ٹھپ کرتے ہیں۔ حالانکہ انتظامی میدان میں لوگوں اور کاموں کو تقسیم کر کے معاملات زندگی بطریق احسن چلائے جا سکتے ہیں اور لوگ چند مخصوص مقامات کے محتاج نہیں رہتے۔ ورنہ لوگ کرونا سے نہ سہی بھوک سے ضرور مریں گے اور لاک ڈاؤن فقط ”لوگ ڈاؤن“ ثابت ہوگا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments